Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 2
عٓسٓقٓ
عٓسٓقٓ : عین۔ سین۔ قاف
حٰم۔
تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔۔ حم عسق، حسین بن فضل (رح) سے سوال کیا گیا کہ ، حم عسق ، کو لکھنے میں جداکیوں لکھاجاتا ہے حالانکہ یہ ، کھیعص، کو لکھنے میں جدا نہیں کیا جاتا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس لیے کہ یہ سورتیں ایسی ہیں کہ ان کے شروع میں، حم، آتا ہے تو اس کی اس جیسی دوسری صورتوں کے طرزپر جاری کیا گیا ہے۔ پس حم مبتداء ہے اور ، عسق، اس کی خب رہے اور اس لیے کہ یہ دونوں دوآیتیں شمار کی گئی ہیں اور اس جیسے دوسرے مقطعات جیسے، کھیعص، اور، المص، اور، المر، یہ ایک آیت شمار کیے گئے ہیں۔ حروف مقطعات کی تفسیر اور کہا گیا ہے اس لیے کہ مفسرین رحمہم اللہ کا، کھیعص، اور اس کے ہم مثل کے حروف تہجی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ، حم، میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے اس کو فعل بنایا ہے حروف میں شمار نہیں کیا اور کہا ہے کہ ، حم، کا معنی ( ، قضی ماھو کائن، یعنی جو چیزیں آئندہ ہونے والی ہیں ان کا فیصلہ کردیا ہے) کیا ہے اور عکر مہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ح اس کا حلم ہے م اس کی مجد (بزرگی) ہے۔ ع اس کا علم س کی سنا وہ اور ق سے ۔ اس کی قدرت اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے اور شہربن حوشب اور عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ ح حرب (جنگ) ہے کہ اس قریش کے ذلیل کو عزت دی گئی اور عزت والے کو ذلت دی گئی۔ ، م، ملک ہے جو ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف تبدیل ہوتارہا ہے۔ ، ع، قریش کے دشمن جوان کا ارادہ کرتے ہیں۔ ، س، سیئی برائی جوان میں ہوتی تھیں۔ ، ق، اللہ کی قدرت جو اس کی مخلوق میں نافذ ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ہر صاحب کتاب نبی پر، حم عسق، کی وحی کی گئی ہے۔
Top