Jawahir-ul-Quran - Al-Kahf : 8
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا
وَاِذْ : اور جب قُلْنَا : ہم نے کہا لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں سے اسْجُدُوْا : تم سجدہ کرو لِاٰدَمَ : آدم کو فَسَجَدُوْٓا : تو انہوں نے سجدہ کیا اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ : ابلیس كَانَ : وہ تھا مِنَ : سے الْجِنِّ : جن فَفَسَقَ : وہ (باہر) نکل گیا عَنْ : سے اَمْرِ رَبِّهٖ : اپنے رب کا حکم اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ : سو تم کیا اس کو بناتے ہو وَذُرِّيَّتَهٗٓ : اور اس کی اولاد اَوْلِيَآءَ : دوست (جمع) مِنْ دُوْنِيْ : میرے سوائے وَهُمْ : اور وہ لَكُمْ : تمہارے لیے عَدُوٌّ : دشمن بِئْسَ : برا ہے لِلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لیے بَدَلًا : بدل
اور ہم کو کرنا ہے10 جو کچھ اس پر ہے میدان چھانٹ کر
10:۔ ” صعیدا “ مٹی۔ ” جرزا “ ایسا میدان جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ یعنی زمین کی یہ رونق وزینت ہمیشہ رہنے والی نہیں اسے ایک دن (قیامت کے دن) ہم تباہ کردیں گے۔ اور زمین بالکل صاف چٹیل میدان ہوجائے گی۔ اس لیے یہ بھروسے کی چیز نہیں نہ اس پر اس قدر مغرور ہونا چاہیے۔ یہاں تک تمہید ختم ہوگئی اس کے بعد چار شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔
Top