Tafseer-Ibne-Abbas - Aal-i-Imraan : 71
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠   ۧ
يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب لِمَ : کیوں تَلْبِسُوْنَ : تم ملاتے ہو الْحَقَّ : سچ بِالْبَاطِلِ : جھوٹ وَتَكْتُمُوْنَ : اور تم چھپاتے ہو الْحَقَّ : حق وَاَنْتُمْ : حالانکہ تم تَعْلَمُوْنَ : جانتے ھو
اے اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟ اور تم جانتے بھی ہو
(71۔ 72) اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں تبدیلی کرتے ہو اور کیوں آپ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہو حالانکہ کہ تم اپنی کتابوں میں اس اصل حقیقت کو جانتے ہو، تحویل قبلہ کے بعد کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے جو مشورہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں ہیں، یعنی کعب وغیرہ سرداران یہود نے اپنے لوگوں سے کہا کہ محمد ﷺ اور قرآن کریم پر دن کے شروع میں یعنی صبح کی نماز کے وقت ایمان لے آؤ اور ظہر کی نماز کے وقت انکار کر بیٹھو، تو لوگ یہ دیکھ کر کہیں گے کہ اہل کتاب اس قبلہ پر ایمان لے آئے جس کی طرف منہ کر کے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے صبح کی نماز پڑھی اور اس قبلہ سے انکار کیا جن کی طرف منہ کرکے ان لوگوں نے ظہر کی نماز پڑھی، شاید اس طرح دوسروں کو شک وشبہ میں ڈالنے سے عوام الناس تمہارے قبلہ اور تمہارے دین کی طرف پلٹ آئیں۔ شان نزول : (آیت) ”وقالت طائفۃ“ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن صیف، عدی بن زید اور حارث بن عوف ان لوگوں میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ رسول اکرم ﷺ اور ان کے اصحاب جو احکام بیان کرتے ہیں ہم ان پر صبح کو ایمان لائیں اور شام کو ان کا انکار کردیں، تاکہ ان کے اصحاب بھی اسی طرح کرنے لگیں اور پھر ممکن ہے کہ ہماری اس تدبیر کے سبب یہ مسلمان ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”یا ھل الکتاب لم تلبسون الحق“ سے واسع علیم“۔ تک آیات نازل فرمائیں (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Top