Jawahir-ul-Quran - Al-Israa : 94
اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ
اَوْ تَكُوْنَ : یا ہوجائے لَكَ : تیرے لیے جَنَّةٌ : ایک باغ مِّنْ : سے۔ کا نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّعِنَبٍ : اور انگور فَتُفَجِّرَ : پس تو رواں کردے الْاَنْهٰرَ : نہریں خِلٰلَهَا : اس کے درمیان تَفْجِيْرًا : بہتی ہوئی
اور لوگوں کو روکا نہیں82 ایمان لانے سے جب پہنچی ان کو ہدایت مگر اسی بات نے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے بھیجا آدمی کو پیغام دے کر  
82:۔ یہ بھی شکوہ ہے پہلے شکوہ کے جواب میں کہا گیا ” ھل کنت الا بشر رسولا “ تو مشرکین نے کہا ہم بشر کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے کوئی فرشتہ رسول بن کر آئے تو ہم مان لیں گے۔ ” قل لو کان فی الارض الخ “ یہ جواب شکوہ ہے اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے و ہم ان کی ہدایت کیلئے فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن زمین میں چونکہ انسان آباد ہیں اس لیے ان کی ہدایت کے لیے لامحالہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجنا قرین عقل و مصلحت ہے۔
Top