Jawahir-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 103
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ
لَا يَحْزُنُهُمُ : غمگین نہ کرے گی انہیں الْفَزَعُ : گھبراہٹ الْاَكْبَرُ : بڑی وَتَتَلَقّٰىهُمُ : اور لینے آئیں گے انہیں الْمَلٰٓئِكَةُ : فرشتے ھٰذَا : یہ ہے يَوْمُكُمُ : تمہارا دن الَّذِيْ : وہ جو كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ : تم تھے وعدہ کیے گئے (وعدہ کیا گیا تھا
نہ غم ہوگا ان کو اس بڑی گھبراہٹ میں77 اور لینے آئیں گے ان کو فرشتے78 آج دن تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا
77:۔ ” لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الخ “ نار جہنم سے ان کی نجات کا اعلان کرنے کے بعد فرمایا۔ نفخہ ثانیہ سے لے کر دخول جنت تک وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور بڑی سے بڑی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رہیں گے۔ بیان لنجاتھم من الافزاع بالکلیۃ بعد نجاتھم من النار لانھم اذا لم یحزنھم اکبر الافزاع لم یحزنھم ماعداہ بالضرورۃ کذا قیل (روح ج 7 ص 99) ۔ ” اَلْفَزَعُ الْاَکْبَرُ “ سے نفخہ ثانیہ یا تمام اہوال قیامت مراد ہیں۔ 78:۔ ” تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰئِکةُ الخ “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب وہ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور ان سے کہیں گے یہی وہ دن ہے جس کی آمد کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا یا جنت میں داخل ہونے کے وقت فرشتوں کا استقبال مراد ہے ای تستقبلھم الملئکۃ علی ابواب الجنۃ یھنئوھم و یقولون لھم ” ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِيْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ “ وقیل تستقبلھم ملائکۃ الرحمۃ عند خروجھم من القبور (قرطبی ج 11 ص 346) ۔
Top