Tafseer-al-Kitaab - An-Nisaa : 119
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ
وَسَارِعُوْٓا : اور دوڑو اِلٰى : طرف مَغْفِرَةٍ : بخشش مِّنْ : سے رَّبِّكُمْ : اپنا رب وَجَنَّةٍ : اور جنت عَرْضُھَا : اس کا عرض السَّمٰوٰتُ :ٓآسمان (جمع وَالْاَرْضُ : اور زمین اُعِدَّتْ : تیار کی گئی لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے
ان کو بہکاؤں گا، ان کو آرزوؤں میں الجھاؤں گا اور انہیں حکم دوں گا تو وہ (میری ہدایت کے مطابق) جانوروں کے کان چیرا کریں گے اور انہیں حکم دوں گا تو وہ (میری ہدایت کے مطابق) اللہ کی بنائی ہوئی صورت میں ردّ و بدل کریں گے '' اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ صریح گھاٹے میں آگیا۔
[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔ [78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔
Top