Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 113
قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ
قَالُوْا : وہ کہیں گے لَبِثْنَا : ہم رہے يَوْمًا : ایک دن اَوْ : یا بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ حصہ فَسْئَلِ : پس پوچھ لے الْعَآدِّيْنَ : شمار کرنے والے
وہ کہیں گے ہم بہت رہے ہوں گے تو ایک دن ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے آپ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے
(113) ہم بہت رہے ہوں گے تو ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے آپ شمار کرنے والوں سے دریافت کرلیجئے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتوں سے جنہوں نے نیکی بدی گن رکھی ہے یہ بھی گنا ہوگا زمین میں رہنا یعنی قبر میں رہنا یا دنیا کی عمر یہ بھی وہاں تھوڑی نظر آوے گی۔ یہ پوچھنا اس واسطے کہ دنیا میں عذاب کی شتابی کرتے تھے اب جانا کہ شتاب ہی آیا۔ 12 یہ دریافت شاید فرشتوں کے واسطے سے ہو یا براہ راست حضرت حق سوال فرمائیں گے۔ دنیا کا رہنا پوچھا جائے یا قبر کا رہنا یا دونوں کی مدت دریافت کی جائے گی۔ (واللہ اعلم)
Top