Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 113
قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ
قَالُوْا : وہ کہیں گے لَبِثْنَا : ہم رہے يَوْمًا : ایک دن اَوْ : یا بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ حصہ فَسْئَلِ : پس پوچھ لے الْعَآدِّيْنَ : شمار کرنے والے
وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے
دُنیا کی قلیل مدت : 113: قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ (انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا بعض حصہ ٹھہرے ہیں) انہوں نے دنیا کی اس مدت کو خلود کے مقابلہ میں قلیل قرار دیا اور اس لئے بھی کہ وہ عذاب میں مبتلا ہیں اور عذاب میں پڑا ہوا تکلیف کے دنوں کو طویل قرار دیتا ہے اور خوش بختی کے ایام کو قلیل قرار دیتا ہے۔ فَسْئَلِ الْعَادِّیْنَ (تم گنتی کرنے والوں سے دریافت کرو) عادین حساب کرنے والے یا وہ ملائکہ جو انسانوں کی عمروں اور اعمال کی گنتی پر مقرر ہیں۔
Top