Kashf-ur-Rahman - Aal-i-Imraan : 70
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ
يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ :اے اہل کتاب لِمَ : کیوں تَكْفُرُوْنَ : تم انکار کرتے ہو بِاٰيٰتِ : آیتوں کا اللّٰهِ : اللہ وَاَنْتُمْ : حالانکہ تم تَشْهَدُوْنَ : گواہ ہو
اے اہل کتاب تم آیات الٰہی کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کے قائل ہو4
4۔ اہل کتاب میں سے بعض لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تم کو دین حق سے گمراہ اور بےراہ کردیں مگر وہ سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو گمراہ نہیں کرسکتے ۔ یعنی خود ہی گمراہی کے وبال میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اس وبال میں مبلا ہونے کی خبر بھی نہیں۔ اے اہل کتاب تم کیوں آیات خداوندی کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم ان کے آیات الٰہی ہونے کے قائل اور مقر ہو۔ ( تیسیر) بعض اہل کتاب نے معاذ بن جبل ، حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر وغیرہم کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ تم لوگ ہمارے دین میں آ جائو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ اگرچہ آیت کا مورد خاص ہے لیکن حکم عام ہے یعنی اگرچہ اہل کتاب کے بعض لوگوں کے باوجود گمراہ ہونے کی عام خواہش یہ ہے کہ وہ تم کو بھی گمراہ کردیں حالانکہ گمراہ کرنا ان کے اختیار میں نہیں ۔ کوئی بدقسمت خود اسلام کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ان حرکات سے خود اپنے ہی کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ گمراہی یہ کہ وبال اور گناہ میں گرفتار ہو رہے ہیں اور دعوت الی الباطل کے وبال میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اس وبال کا ان کو شعور اور اطلاع بھی نہیں کہ ان مغویانہ سرگرمیوں کا ضرر ان کو کس طرح پہنچے گا ۔ ہماری تقریر سے وہ شبہ دور ہوگیا ہوگا جو عام طور سے کیا جاتا ہے کہ جب وہ خود گمراہ ہیں تو پھر گمراہ اپنے کو کیا گمراہ کرے گا ۔ اس طرح تو تحصیل حاصل ہوگا جواب صاف ہے کہ گمراہی سے مراد گمراہی کے وبال میں گرفتار ہونا ہے ۔ اہل کتاب چونکہ توریت اور انجیل کی صداقت کے قائل اور مقر تھے اور ان کتابوں میں نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت اور ان کے قرآن کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ تم آیات الٰہی کے قائل ہوتے ہوئے بھی پھر ان آیات کے منکر ہو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ خلوت میں بیٹھ کر تم بھی اس کا اعتراف کرتے ہو کہ یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے جس کا ہماری کتابوں میں ذک رہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روز مرہ قرآن کے نزول کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو اور نبی کریم ﷺ کے معجزات کو دیکھتے رہتے ہو ۔ پھر کیوں قرآن کے منکر ہوتے ہو اور اس رسول پر ایمان نہیں لاتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی توریت کے قائل ہو پھر اسی کے خلاف کہتے ہو۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے فرمانے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بایات اللہ سے مراد توریت ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ تم توریت کے کلام الٰہی ہونے کے قائل ہو ۔ پھر اس کے بتائے ہوئے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے تو اس کتاب کا انکار کررہے ہو جس کو خود کلام الٰہی مانتے ہو۔ بہر حال قرآن کا انکار بھی توریت کے بلکہ جملہ کتب سماویہ کے انکار کو مستلزم ہے ۔ مدعایہ ہے کہ قرآن کے منکر ہونے سے توریت کا انکار بھی لازم آتا ہے دونوں طرح مطلب بیان کیا جاسکتا ہے۔ خواہ آیات اللہ سے قرآن مراد لیا جائے خواہ آیات اللہ سے تورات مراد لی جائے۔ ( واللہ اعلم) اب آگے ان کی تلبیس اور تحریف وغیرہ کی مذمت کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Top