Kashf-ur-Rahman - Al-Haaqqa : 2
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان چراغوں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان شیاطین کے لئے دہکتی ہوئی آگ کا اور بھی عذاب تیار کررکھا ہے۔
(5) اور ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان چراغوں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان شیاطین کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کررکھا ہے - آسمان دنیا ورلا آسمان اس میں تارے نظر آتے ہیں جو رات میں چراغوں کی طرح چمکتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں دیکھنے والوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں زمین کی مخلوق کے ہزاروں منافع ان تاروں سے وابستہ ہیں تری اور خشکی کے راستوں کا پتہ ، مغرب، مشرق، شمال، جنوب کا معلوم ہونا، پھولوں کا رنگ پھولوں کی رنگت پھلوں کا رنگ اور خدا جانے ان تاروں کے کیا کیا اثرات ہیں جو حکماء اور فلاسفر یا کاشتکار اور باغبان جانتے ہیں۔ قرآن سے چراغوں کی زینت کے ساتھ مخلوق کے ایک روحانی فائدے کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ چراغ یعنی تارے شیاطین کو غیب کی خبریں سننے سے روکتے ہیں۔ جب کبھی کوئی شیطان آسمان کے قریب پہنچتا ہے تو ان تاروں سے ان کا رجم کیا جاتا ہے اور آگ کا ایک شعلہ ان کی طرف لپکتا ہے یہ تو دنیامیں ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے ان شیاطین کے لئے دمکتی ہوئی آگ یعنی جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے علاوہ بیشمار منافع کے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ہوگا۔ اس موقعہ پر مفسرین نے کئی باتیں ذکر کی ہیں تاروں کی نوعیت تاروں کا آسمان سے تعلق یعنی یہ تارے قندیل کی طرح آسمان میں لٹکے ہوئے ہیں یا آسمان میں جڑے ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ مگر ہم نے تطویل کے اندیشے سے تمام مباحث کو چھوڑ دیا ہے اور جو بات مشہور ہے وہ اختیار کرلی ہے وہ یہ کہ ارے آسمان دنیا کی زینت اور رونق کا سبب ہیں شیاطین کے لئے شہاب ہیں اور شیاطین کو دفع کرتے ہیں تری اور خشکی میں مسافروں کو راستے کا ان سے پتہ ملتا ہے اس کے علاوہ علم ہیئت میں جو ان تاروں کے فوائد بیان کئے گئے ہیں ان کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے اور تفصیل چھوڑ دی ہے۔ اوپر سے حضرت حق تعالیٰ کا بیان ہورہا تھا اسی سلسلے میں موت وحیات کا ذکر آگیا پھر آسمانوں کی پیدائش اور ان کے سات طبقات کا ذکر فرمایا پھر ان کے کمال پر توجہ دلائی اور نظر توجہ اور نگاہ تامل کو دعوت دی کہ کوئی عیب اور کوئی تفاوت بیان کرو اور بار بار دیکھ کر بتائو کہ ہم نے ان آسمان کو جیسا بنایا ہے اور جو رعایتیں اور مصالح ان کی بناوٹ میں ملحوظ رکھے ہیں ان میں کیا عیب ہے اور یہ کیسے ہونے چاہئیں تھے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے یعنی جیسا چاہیے ویسا نہ ہو۔ یعنی کسی اور طرح سے بنائے جاتے۔ بہرحال اسی سلسلے میں آسمان دنیا کا ذکر فرمایا اور تاروں کے فوائد ذکر کئے ان شیاطین کا ذکر فرمایا اور دنیا وآخرت میں ان کے عذاب کا ذکر فرمایا۔ اب اس سلسلے میں جو لوگ شیاطین کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور اپنے پروردگار کی توحید کا انکار کرتے ہیں ان کے انجام کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Top