Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے رب مجھ کو نہ کرلو ان گنہگار لوگوں میں
معارف و مسائل
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ ، رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ
مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں مشرکین و کفار پر عذاب کی وعید مذکور ہے جو عام ہے قیامت میں تو اس کا وقوع قطعی اور یقینی ہے دنیا میں ہونے کا بھی احتمال ہے پھر یہ عذاب اگر دنیا میں ان پر واقع ہو تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد آئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ ہی کے سامنے ان پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بعض اوقات اس عذاب کا اثر صرف ظالموں ہی پر نہیں رہتا بلکہ نیک لوگ بھی اس سے دنیاوی تکلیف میں متاثر ہوتے ہیں گو آخرت میں ان کو کوئی عذاب نہ ہو بلکہ اس دنیا کی تکلیف پر جو ان کو پہنچتی ہے اجر بھی ملے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے واتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ، یعنی ایسے عذاب سے ڈرو جو اگر آ گیا تو صرف ظالموں ہی تک نہیں رہے گا دوسرے لوگ بھی اس کے لپیٹ میں آئیں گے۔
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے کہ یا اللہ اگر ان لوگوں پر آپ کا عذاب میرے سامنے اور میرے دیکھتے ہوئے ہی آنا ہے تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے۔ رسول اللہ ﷺ کا معصوم اور عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا اگرچہ آپ کے لئے یقینی تھا مگر پھر بھی اس دعا کی تلقین اس لئے فرمائی گئی کہ آپ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھیں اس سے فریاد کرتے رہیں تاکہ آپ کا اجر بڑھے۔ (قرطبی)
Top