Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
یوں کہہ اے رب اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے
خلاصہ تفسیر
آپ (حق تعالیٰ سے) دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے (جیسا اوپر اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ سے بھی معلوم ہوا) اگر آپ مجھ کو دکھا دیں (مثلاً یہ کہ وہ عذاب ان پر میری زندگی میں اس طور سے آوے کہ میں بھی دیکھوں کیونکہ اس عذاب موعود کا کوئی وقت خاص نہیں بتلایا گیا ہے چناچہ آیت مذکورہ بھی مبہم ہے جس میں یہ احتمال مذکور بھی ہے غرض اگر ایسا ہوا) تو اے میرے رب مجھ کو ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے اور ہم اس بات پر کہ جو ان سے وعدہ کر رہے ہیں آپ کو بھی دکھلا دیں قادر ہیں (باقی جب تک ان پر عذاب نہ آوے) آپ (ان کے ساتھ یہ معاملہ رکھئے کہ) ان کی بدی کا دفعیہ ایسے برتاؤ سے کردیا کیجئے جو بہت ہی اچھا (اور نرم) ہو (اور اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لیجئے بلکہ ہمارے حوالہ کردیا کیجئے) ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ (آپ کی نسبت) کہا کرتے ہیں اور (اگر آپ بمقتضائے بشریت غیظ آ جایا کرے تو) آپ یوں دعا کیا کیجئے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے (جو مفضی ہوجاویں کسی ایسے امر کی طرف جو خلاف مصلحت ہو گو خلاف شریعت نہ ہو) اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس بھی آویں (اور وسوسہ ڈالنا تو درکنار پس اس سے وہ غیظ جاتا رہے گا۔ یہ کفار اپنے کفر و انکار معاد سے باز نہیں آتے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی (کے سر) پر موت آ (کھڑی) ہوتی ہے (اور آخرت کا معائنہ ہونے لگتا ہے) اس وقت (آنکھیں کھلتی ہیں اور اپنے جہل و کفر پر نادم ہو کر) کہتا ہے کہ اے میرے رب (مجھ سے موت کو ٹال دیجئے اور) مجھ کو (دنیا میں) پھر واپس بھیج دیجئے تاکہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں (پھر جا کر) نیک کام کروں (یعنی تصدیق و اطاعت حق تعالیٰ اس درخواست کو رد فرماتے ہیں کہ) ہرگز (ایسا) نہیں (ہوگا) یہ (اس کی) ایک بات ہی بات ہے جس کو یہ کہے جا رہا ہے (اور پوری ہونے والی نہیں) اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) ان لوگوں کے آگے ایک (چیز) آڑ (کی آنے والی) ہے (کہ جس کا آنا ضروری ہے اور وہی دنیا میں واپس آنے سے مانع ہے مراد اس سے موت ہے کہ اس کا وقوع بھی وقت مقدر پر ضروری ہے وَلَنْ يُّؤ َخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا اور موت کے بعد دنیا میں لوٹ کر آنا بھی) قیامت کے دن تک (قانون الٰہی کے خلاف ہے)
Top