Maarif-ul-Quran - Al-Qasas : 16
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
قَالَ : اس نے عرض کیا رَبِّ : اے میرے رب اِنِّىْ : بیشک میں ظَلَمْتُ : میں نے ظلم کیا نَفْسِيْ : اپنی جان فَاغْفِرْ لِيْ : پس بخشدے مجھے فَغَفَرَ : تو اس نے بخشدیا لَهٗ : اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ هُوَ : وہی الْغَفُوْرُ : بخشنے والا الرَّحِيْمُ : نہایت مہربان
بولا اے میرے رب میں نے برا کیا اپنی جان کا، سو بخش مجھ کو پھر اس کو بخش دیا بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان
قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس قبطی کافر کا قتل جو حضرت موسیٰ ؑ سے بلا ارادہ صادر ہوگیا تھا موسیٰ ؑ نے اس کو بھی اپنے منصب نبوت و رسالت اور پیغمبرانہ عظمت شان کے لحاظ سے اپنا گناہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ یہاں پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قبطی کافر شرعی اصطلاح کے لحاظ سے ایک حربی کافر تھا جس کا قتل عمداً بھی مباح اور جائز تھا کیونکہ نہ یہ کسی اسلامی حکومت کا ذمی تھا نہ موسیٰ ؑ سے اس کا کوئی معاہدہ تھا پھر موسیٰ ؑ نے اس کو عمل شیطان اور گناہ کیوں قرار دیا۔
جواب یہ ہے کہ معاہدہ جیسے قولی اور تحریری ہوتا ہے جیسے عموماً اسلامی حکومتوں میں اہل ذمہ سے معاہدہ یا کسی غیر مسلم حکومت سے صلح کا معاہدہ اور یہ معاہدہ باتفاق واجب العمل اور اس کی خلاف ورزی عذر اور عہد شکین کے سبب حرام ہوتی ہے اسی طرح معاہدہ عملی بھی ایک قسم کا معاہدہ ہی ہوتا ہے۔ اس کی بھی پابندی لازمی اور خلاف ورزی عہد شکنی کے مترادف ہے۔
معاہدہ عملی کی صورت یہ ہے کہ جس جگہ مسلمان اور کچھ غیر مسلم کسی دوسری حکومت میں باہمی امن و اطمینان کے ساتھ رہتے بستے ہوں، ایک دوسرے پر حملہ کرنا یا لوٹ مار کرنا طرفین سے غداری سمجھا جاتا ہو تو اس طرح کی معاشرت اور معاملات بھی ایک قسم کا عملی معاہدہ ہوتے ہیں ان کی خلاف ورزی جائز نہیں اس کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ کی وہ طویل حدیث ہے جس کو امام بخاری نے کتاب الشروط میں مفصل روایت کیا ہے اور واقعہ اس کا یہ تھا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ قبل از اسلام اپنے زمانہ جاہلیت میں ایک جماعت کفار کے ساتھ مصاحبت اور معاشرت رکھتے تھے پھر ان کو قتل کر کے ان کے اموال پر قبضہ کرلیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلمان ہوگئے اور جو مال ان لوگوں کا لیا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اس پر آپ نے ارشاد فرمایا، امّا الاسلام فاقبل وامّا المال فلست منہ فی شئی اور ابو داؤد کی روایت میں اس کے الفاظ یہ ہیں، امّا المال فمال غدر لاحاجتہ لنا فیہ، یعنی آپ کا اسلام تو ہم نے قبول کرلیا اور اب آپ مسلمان ہیں مگر یہ مال ایسا مال ہے جو غدر اور عہد شکنی سے حاصل ہوا ہے اس لئے ہمیں اس مال کی کوئی حاجت نہیں۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر نے شرح میں فرمایا کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کفار کا مال حالت امن میں لوٹ لینا حلال نہیں کیونکہ ایک بستی کے رہنے والے یا ایک ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھتے ہیں ان کا یہ عملی معاہدہ بھی ایک امانت ہے جس کا صاحب امانت کو ادا کرنا فرض ہے چاہے وہ کافر ہو یا مسلم اور کفار کے اموال جو مسلمانوں کے لئے حلال ہوتے ہیں تو وہ صرف محاربہ اور مغالبہ کی صورت میں حلال ہوتے ہیں حالت امن وامان میں جبکہ ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھ رہا ہو کسی کافر کا مال لوٹ لینا جائز نہیں اور قسطلانی نے شرح بخاری میں فرمایا۔
ان اموال المشرکین ان کانت مغنومۃ عند القھر فلا یحل اخذھا عند الامن فاذا کان الانسان مصاحبا لھم فقد امن کل واحد منھم صاحبہ فسفک الدماء و اخذ المال مع ذلک غدر حرام الا ان ینبذ الیھم عھدھم علی سواء۔
بیشک مشرکین کے اموال جنگ اور جہاد کے وقت مغنوم و مباح ہیں لیکن امن کی حالت میں حلال نہیں اس لئے جو مسلمان کفار کے ساتھ رہتا سہتا ہو کہ عملی طور پر ایک دوسرے سے مامون ہو تو ایسی حالت میں کسی کافر کا خون بہانا یا مال زبردستی لینا غدر حرام ہے جب تک کہ ان کے اس عملی معاہدہ سے دست برداری کا اعلان نہ کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قبطی کا قتل اس عملی معاہدہ کی بناء پر اگر بالقصد ہوتا تو جائز نہیں تھا مگر حضرت موسیٰ ؑ نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ اسرائیلی شخص کو اس کے ظلم سے بچانے کے لئے ہاتھ کی ضرب لگائی جو عادة سبب قتل نہیں ہوتی مگر قبطی اس ضرب سے مر گیا تو موسیٰ ؑ کو یہ احساس ہوا کہ اس کو دفع کرنے کے لئے اس ضرب سے کم درجہ بھی کافی تھا یہ زیادتی میرے لئے درست نہ تھی اسی لئے اس کو عمل شیطان قرار دے کر اس سے مغفرت طلب فرمائی۔
فائدہیہ تحقیق حکیم الامۃ مجدد الملۃ سیدی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ہے جو آپ نے بزبان عربی احکام القرآن سورة قصص لکھتے وقت ارشاد فرمائی تھی، اور یہ آخری علمی تحقیق ہے جس کا استفادہ احقر نے حضرت سے کیا کیونکہ آپ نے یہ ارشاد 2 رجب 1362 ھ میں فرمایا تھا اس کے بعد مرض کی شدت بڑھی اور 16 رجب کو یہ آفتاب عالم غروب ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ قبطی کا قتل مباح تھا مگر انبیائ (علیہم السلام) مباحات میں بھی اہم معاملات میں اس وقت تک اقدام نہیں کرتے جب تک خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت و اشارہ نہ ملے، اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ نے خصوصی اجازت کا انتظار کئے بغیر یہ اقدام فرمایا تھا اس لئے اپنی شان کے مطابق اس کو گناہ قرار دے کر استغفار کیا (کذا فی الروح وغیرہ ولہ وجہ)
Top