Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے
خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔ (ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ لایفلح الکفرون پر اس سورت کو ختم فرمایا۔ شروع سورت میں اہل ایمان کے فلاح اور کامیابی کی خبر دی اور اخیر سورت میں کافروں کی ناکامی اور فلاح سے محرومی کی خبر دی۔ اور وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ فلاح کا اصل دار و مدار اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت پر ہے۔ لہٰذا اگر فلاح چاہتے ہو تو توبہ استغفار کی راہ اختیار کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا تم لوگ حساب و کتاب اور جزاء اور سزا کے منکر ہو اور کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یوں ہی لغو اور بےکار بغیر کسی حکمت اور مصلحت کے پیدا کیا اور کیا تم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر ہماری طرف واپس نہیں آؤ گے اور نیکی اور بدی کی تم کو سزا نہیں ملے گی۔ تمہارے دونوں خیال غلط ہیں۔ تمام اہل عقل اور دانش جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو عبث یعنی بےفائدہ اور خالی ازحکمت نہیں پیدا کیا۔ اہل عقل کہتے ہیں۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا۔ اور تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ قیامت کے دن تم ہمارے پاس نہیں آؤ گے اور جزا و سزا کچھ نہیں۔ دلائل عقلیہ اور قطعیہ سے حشر و نشر کا امکان ہے اور کل انبیاء مرسلین نے اس کے وقوع کی خبر دی ہے جن کا صدق دلائل قطیعہ سے واضح ہے۔ پس اللہ تعالیٰ بڑا عالی شان ہے اور بادشاہ برحق ہے کہ کوئی چیز عبث اور بےفائدہ پیدا کرے۔ اور بادشاہ اور سلطنت کے وفاداروں اور اطاعت شعاروں کو انعام ملنا اور بادشاہ سلطنت کے باغیوں اور غداروں اور مجرموں کو سزا ملنا لوازم سلطنت میں سے ہے اور عین حکمت اور مصلحت میں یہ آزادی نہیں کہ جس کا جو جی چاہے کرے۔ قانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ رب ہے عرش عظیم کا جو تمام آسمانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے پس جو عرش کا مالک ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود سمجھ کر پکارے۔ جس کے معبود ہونے کی اس کے پاس بھی کوئی دلیل نہیں تو ایسے مشرک کا اللہ کے یہاں ضرور حساب و کتاب ہوگا اور ضرور اس کو اس کی سزا ملے گی کہ جس خدا کی وحدانیت کے لئے شمار دلائل تھے اس کے ساتھ بےدلیل کسی کو شریک ٹھہرا لیا۔ ایسے شخص سے ضرور حساب لیا جائے گا اور ضرور سزا دی جائے گی۔ بلاشبہ کافروں کو فلاح اور کامیابی نہیں بلکہ ابدالآباد تک عذاب میں مبتلا رہیں گے اور کبھی چھٹکارا نہیں پائیں گے۔ شروع سورت میں اہل ایمان کے لیے فلاح کو ثابت کیا اور اخیر سورت میں کافروں سے فلاح کی نفی کی۔ اے نبی آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین ہمیشہ یہ دعا مانگا کریں اے میرے پروردگار ہمارا قصور معاف فرما اور ہم پر اپنی خاص رحمت فرما یعنی ہم کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اور ایمان پر قائم رکھ اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ کہ تیری رحمت کے بعد کسی کی رحمت کی حاجت نہیں رہتی۔ مقصود امت کو تعلیم ہے کہ اس طرح دعا مانگا کریں۔ گناہوں سے استغفار بھی فلاح کا ذریعہ ہے اگر اعمال صالحہ میں کوتاہی ہو تو استغفار سے گریز نہ کرے۔ قال اللہ تعالیٰ واستغفر لذنبک۔ وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار۔ فائدہ جلیلہ : افحسبتم سے لے کر ختم سورت تک یہ آیتیں بڑی فضیلت رکھتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے لیے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) روانہ فرمایا اور یہ حکم دیا کہ صبح و شام یہ آیتیں پڑھا کریں یعنی افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ۔ صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حسب الارشاد یہ آیتیں پڑھیں تو ہم صحیح سالم مال غنیمت لے کر واپس آئے اخرجہ ابن السنی وابن مندہ وابو نعیم بسند حسن۔ (روح المعانی ص 65 ج 18) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا ایک مصیبت زرد شخص پر گزر ہوا جس کے کان میں تکلیف تھی عبد اللہ بن مسعود ؓ نے افحسبتم سے لے کر آخر سورت تک آیتیں پڑھ کر اس کے کان میں دم کیں تو وہ اچھا ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو یہ فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر یقین والا مرد اس کو پہاڑ پر پڑھ دے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے اخرجہ الحکیم۔ الترمذی وابن المنذر وابو نعیم فی الحلیۃ واخرون عن ابن مسعود ؓ ۔ (روح المعانی ص 65 ج 18) و تفسیر قرطبی ص 157 ج 12۔ الحمدللہ ! آج بتاری 16 ربیع الاول سنہ 1391 ھ یوم چہار سنبہ کو بوقت عصر سورة مومن ون کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فللہ الحمد والمنۃ۔ اللہم اجعلنا من عبادک ال مومنین المفلحین الذین ہم فی صلاتھم خاشعون والذین ہم عن اللغو معرضون والذین ہم للزکوۃ فاعلون والذین ہم لفروجھم حافظون والذین ہم لاماناتھم وعھدھم راعون والذین ہم علی صلواتھم یحافظون والذین ہم للفردوس وارثون آمین یا رب العالمین۔ رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحمین۔
Top