Maarif-ul-Quran (En) - Al-Muminoon : 85
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
اس کے جواب میں یہ لوگ ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی کا ہے یہ سب کچھ، کہو کیا پھر بھی تم لوگ ہوش میں نہیں آتے ؟
104 منکرین کی تضاد فکری پر انکو تنبیہ اور توبیخ : سو منکرین کی تضاد فکری پر ان کو جھنجوڑتے ہوئے اور تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کے قلب و باطن پر دستک کے لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ کہو کیا تم لوگ پھر بھی ہوش میں نہیں آتے ؟۔ کہ مقدمات تو سب مانتے ہو مگر ان پر مرتب ہونے والے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ؟ سو جس نے ابتدائً یہ سب کچھ پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور جس کا اس سب کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے میں کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب یہ سب کچھ انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان کیلئے ہو اور خود انسان اور اس کی زندگی بےمقصد ہو ؟۔ سو اس طرح غور و فکر سے کام لینے سے ان تمام نعمتوں میں توحید، رسالت اور آخرت سب کے لئے دلائل واضح ہوجاتے ہیں بشرطیکہ انسان ان سے متعلق صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے اور ان سے صحیح نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف مشرکین چونکہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے خود ساختہ اور من گھڑت شریک بھی مانتے تھے۔ اس لیے ان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ان پر حجت قائم کی گئی ہے اور ان کے قلب و ضمیر پر دستک دی گئی ہے۔ سو انسان اگر کائنات کی کھلی کتاب میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے تو اس کو دین کی دعوت اپنی فطرت اور اپنے قلب و باطن کی پکار معلوم ہوگی۔ بشرطیکہ دل و دماغ ماؤف و معطل نہ ہوگئے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top