Madarik-ut-Tanzil - Al-Waaqia : 9
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ کو سرّ و اعلانیہ کی اطلاع ہے : 13 : وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِا جْھَرُوْا بِہٖ (تم لوگ خواہ چھپا کر بات کرو یا پکار کر کہو) اس کے ظاہر سے دونوں میں سے ایک بات ثابت ہو رہی ہے۔ اسرار یا اظہار مگر معنی یہ ہے کہ تمہارا اسرار و اظہار اس کے علم میں برابر ہے۔ روایت ہے کہ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق طرح طرح کی بدگوئیاں کرتے۔ اللہ تعالیٰ جبریل (علیہ السلام) کو بھیج کر ان کے اقوال کی اطلاع دے دیتے۔ تو وہ کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا الٰہ سن نہ لے۔ پس یہ آیت اتاری۔ پھر اس کی تعلیل آیت کے اگلے حصہ میں ذکر کردی۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب آگاہ ہے) یعنی وہ چھپی ہوئی باتیں جن کی ترجمانی ابھی تک زبانوں نے نہیں کر پائی ہوتی۔ پس یہ کیوں نہ وہ جانے گا جو زبان سے کہہ دی گئی (خواہ آہستہ کہی یا زور سے )
Top