Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 85
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
سَيَقُوْلُوْنَ : جلدی (ضرور) وہ کہیں گے لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قُلْ : فرمادیں اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : کیا پس تم غور نہیں کرتے
یہ ضرور یہ کہیں گے کہ اللہ کے ہیں تو کہیے کہ پھر کیوں نہیں غور کرتے ہو،78۔
78۔ (اور کیوں نہیں یہ شرک سے دستبردار ہوجاتے ہیں) اللہ یعنی ایک رب الارباب کے وجود سے انکار کرکے چند خداؤں کا ماننا دنیا میں شاذ ونادر ہی رہا ہے۔ ورنہ عموما شرک کے معنی تو بس یہ رہے ہیں کہ ایک طرف اقرار ایک رب الارباب کا بھی ضاری ہے اور دوسری طرف کائنات کو الگ الگ شعبوں میں تقسیم کرکے ایک ایک شعبہ کا ایک ایک مستقل خدا یا دیوتا مانا جاتا رہا ہے۔ زمین کا دیوتا الگ۔ آسمان کا الگ۔ ہوا کا دیوتا الگ۔ پانی کا دیوتا الگ۔ وقس علی ھذا۔ قرآن گرفت اسی عام وعالمگیر مشرکانہ ذہنیت پر کررہا ہے۔
Top