Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 113
قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ
قَالُوْا : وہ کہیں گے لَبِثْنَا : ہم رہے يَوْمًا : ایک دن اَوْ : یا بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ حصہ فَسْئَلِ : پس پوچھ لے الْعَآدِّيْنَ : شمار کرنے والے
وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے
قالوا لبثنا یوماً او بعض یومٍ فسئل العآدین۔ وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے کم رہے (صحیح یاد نہیں) تو گنتی کرنے والوں سے دریافت کرلے۔ کافروں نے پچھلی مدت کو بہت کم قرار دیا۔ اس کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں (1) دکھ اور تکلیف کے وقت کو آدمی طویل سمجھتا ہے اور اس سے پہلے گزرے ہوئے زمانے کو چھوٹا جانتا ہے۔ (2) پچھلی مدت تو گزر چکی تھی اور جو مدت گزر چکے وہ حقیر ہی معلوم ہوتی ہے۔ (3) آخرت کی زندگی لامحدود ہے اس کے مقابلے میں یہ دنیوی زندگی اور قبر میں رہنے کی مدت بہت ہی کم ہے۔ (4) پچھلی زندگی خوشی میں گزری اور خوشی کے ایام چھوٹے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ یہ آخری توجیہ اس صورت میں صحیح ہوگی جب مدت قیام سے صرف دنیا میں زندگی کی مدت مراد ہو۔ قبر کی مدت مراد نہ ہو کیونکہ نصوص قطعیہ اور اجماع سے ثابت ہے کہ (کافروں کے لئے خصوصیت کے ساتھ) عذاب قبر حق ہے۔ فَسْءَلِ الْعَادِّیْنَگنتی کرنے والوں سے پوچھ لے یعنی ان لوگوں سے دریافت کرلے جو گنتی کرسکتے ہوں۔ ہم تو جس عذاب میں گرفتار ہیں وہ ہم کو گنتی کرنے سے مانع ہے۔ یا الْعَآدِّیْنَسے مراد ہیں اعمالنامے لکھنے والے۔ ملائکہ ‘ اعمال نویس ‘ ملائکہ انسانوں کے اعمال محفوظ رکھتے ہیں تو مدت قیام بدرجۂ اولیٰ ان کے پاس محفوظ ہوگی۔
Top