Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟
افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون۔ سو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے اور (کیا تم گمان کرتے تھے کہ) تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جاؤ گے۔ اَفَحَسِبْتُمْہمزہ انکاریہ توبیخیہ ہے ‘ عبثا بیکار بغیر کسی حکمت کے یا محض کھیل کے طور پر یا صرف اس لئے کہ تم کھیلو کودو ‘ بیکار زندگی گزارو ایسا نہیں ہے بلکہ تم کو اس لئے پیدا کیا کہ تم اللہ کو پہچانو اس کی عبادت کرو۔ اس کے فرماں بردار بنو۔
Top