Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی شان) اس سے اونچی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش بزرگ کا مالک ہے
فتعلی اللہ الملک الحق لا الہ الا ہو رب العرش الکریم۔ پس بہت ہی عالی شان ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ‘ وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے۔ اَلْمَلِکُ الْحَقُّ حقیقی بادشاہ جس کو حکومت کا حق ہے (اور جس کی حکومت واقعی ہے) دوسر مخلوق بالذات مالک نہیں مملوک ہے ‘ (حاکم نہیں محکوم ہے) اس کی مالکیت (اور شاہیت) بالعرض ہے یعنی جب اللہ ہی بادشاہ حقیقی ہے تو اس کا فعل عبث نہیں ہوسکتا۔ اَلْعَرْشِ الْکَرِیْمِعرش بزرگ۔ اللہ کی پُر عظمت تجلیات خصوصی طور پر عرش پر پڑتی ہیں اسی لئے اس کی صفت کریم قرار دی۔
Top