Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 117
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ
وَ : اور مَنْ يَّدْعُ : جو پکارے مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ اِلٰهًا اٰخَرَ : کوئی اور معبود لَا بُرْهَانَ : نہیں کوئی سند لَهٗ : اس کے پاس بِهٖ : اس کے لیے فَاِنَّمَا : سو، تحقیق حِسَابُهٗ : اس کا حساب عِنْدَ رَبِّهٖ : اس کے رب کے پاس اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُفْلِحُ : فلاح (کامیابی) نہیں پائینگے الْكٰفِرُوْنَ : کافر (جمع)
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
ومن یدع مع اللہ الہا اخر لا برہان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ انہ لا یفلح الکفرون۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہی (جا کر) ہوگا (جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ) یقیناً کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ہمیشہ ہمیشح عذاب میں پڑے رہیں گے) ۔ پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا۔ لاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖیہ دوسری صفت ہے اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت باطل ہے اور باطل کی کوئی دلیل نہیں یہ دوسری صفت یا تو محض تاکیدی ہے یا اسلئے ذکر کی گئی ہے کہ حکم توحید کی بنا اسی پر ہے۔ اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ کوئی ایسا دین اختیار کرنا جس کی کوئی دلیل نہ ہو ممنوع ہے چہ جائیکہ اس (عقیدۂ و عمل) کے خلاف دلیل موجود ہو۔ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ یعنی اللہ بقدر استحقاق اس کو سزا دے گا۔ سزا یہ کہ کافروں کو کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ جنت میں کبھی نہ جائیں گے۔ دوزخ سے کبھی رہائی نہ ملے گی۔ آغاز سورة میں اللہ نے مؤمنوں کے فلاح یاب ہونے کا ذکر کیا تھا اور قَدْ اَفْلَحُ الْمُؤْمِنُوْنَفرمایا تھا اور ختم سورة پر کافروں کے فلاح نہ پانے کی صراحت فرما دی۔ اس سے آگے اپنے رسول ﷺ : کو استدعاء رحمت اور استغفار کا حکم دیا تاکہ آپ کی امت والے آپ کی پیروی کر کے مدارج فلاح پر فائز ہوجائیں۔
Top