Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 226
لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ
لَئِنْ : اگر لَّمْ يَنْتَهِ : باز نہ آئے الْمُنٰفِقُوْنَ : منافق (جمع) وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو فِيْ قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں میں مَّرَضٌ : روگ وَّالْمُرْجِفُوْنَ : اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے فِي : میں الْمَدِيْنَةِ : مدینہ لَنُغْرِيَنَّكَ : ہم ضرور تمہیں پیچے لگا دیں گے بِهِمْ : ان کے ثُمَّ : پھر لَا يُجَاوِرُوْنَكَ : تمہارے ہمسایہ نہ رہیں گے وہ فِيْهَآ : اس (شہر) میں اِلَّا : سوائے قَلِيْلًا : چند دن
جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کو چار مہینے کی مہلت ہے پس اگر انہوں نے (اس مدت میں) پھر ملاپ کرلیا تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے
اسباب نزول : اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے خفا ہوجاتا تھا تو اس کو تنگ کرنے کے کی غرض سے قسم کھالیا کرتا تھا کہ میں اتنے عرصہ تک بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اس چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں، جائز ہیں۔
Top