Tafseer Ibn-e-Kaseer - Al-Kahf : 48
وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠   ۧ
وَوُضِعَ : اور رکھی جائے گی الْكِتٰبُ : کتاب فَتَرَى : سو تم دیکھو گے الْمُجْرِمِيْنَ : مجرم (جمع) مُشْفِقِيْنَ : ڈرتے ہوئے مِمَّا : اس سے جو فِيْهِ : اس میں وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہیں گے يٰوَيْلَتَنَا : ہائے ہماری شامت اعمال مَالِ : کیسی ہے هٰذَا الْكِتٰبِ : یہ کتاب (تحریر) لَا يُغَادِرُ : یہ نہیں چھوڑتی صَغِيْرَةً : چھوٹی بات وَّلَا : اور نہ كَبِيْرَةً : بڑی بات اِلَّآ اَحْصٰىهَا : مگر وہ اسے گھیرے (قلم بند کیے) ہوئے وَ : اور وَجَدُوْا : وہ پالیں گے مَا عَمِلُوْا : جو انہوں نے کیا حَاضِرًا : سامنے وَلَا يَظْلِمُ : اور ظلم نہیں کرے گا رَبُّكَ : تمہارا رب اَحَدًا : کسی پر
اور یقینا ہم زمین پر کی تمام چیزوں کو ایک چٹیل میدان کرنے والے ہیں۔
-8 اور یقینا ہم زمین کے اوپر کی تمام چیزوں کو ایک صاف اور چٹیل میدان کرنے والے ہیں۔ یعنی ایک دن ایسا ہوگا کہ جو کچھ زمین پر ہے خواہ وہ پہاڑوں یا اشجار ہوں یا عمارات اور محلات ہوں سب کو صاف کر کے زمین کو ایک میدان کردیا جائے گا۔ قاعاً صفصفا لاتری فیھا عوجا ولا امتاً ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گھاس اور درخت چھانٹ کر۔ 12
Top