Mutaliya-e-Quran - Al-Ankaboot : 54
یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ
يَسْتَعْجِلُوْنَكَ : وہ آپ سے جلدی کرتے ہیں بِالْعَذَابِ ۭ : عذاب کی وَاِنَّ : اور بیشک جَهَنَّمَ : جہنم لَمُحِيْطَةٌۢ : البتہ گھیر ہوئے بِالْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو
یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے
يَسْتَعْجِلُوْنَكَ [جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] بِالْعَذَابِ ۭ [عذاب کو ] وَاِنَّ جَهَنَّمَ [اور بیشک جہنم ] لَمُحِيْطَةٌۢ [یقینا گھیرنے والی ہے ] بِالْكٰفِرِيْنَ [کافروں کو ] ۔ نوٹ۔ 1: رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کرنے والوں کا ایک اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ کو ایسے معجزے کیوں نہیں عطا ہوئے جیسے سابقہ انبیاء خاص طور سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے۔ اسکا ایک جواب یہ دیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو بتادیں کہ معجزات کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے میں اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں رکھتا۔ میرا فرض یہ ہے کہ تم لوگوں کو آنے والے خطرات سے اچھی طرح آگاہ کر دوں۔ (تدبر قرآن) ۔ دوسرا جواب یہ دیا کہ امی ہونے کے باوجود آپ ﷺ پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت پر یقین لانے کے لئے یہ کافی ہو۔ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ دوسرے معجزے تو وقتی تھے مگر یہ معجزہ تو ہر وقت تمہارے سامنے ہے۔ تمہیں آئے دن پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ تم جب چاہو اسے دیکھ سکتے ہو۔ (تفہیم القرآن)
Top