Mutaliya-e-Quran - Maryam : 6
فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ
فِيْهِ : اس میں اٰيٰتٌ : نشانیاں بَيِّنٰتٌ : کھلی مَّقَامُ : مقام اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَمَنْ : اور جو دَخَلَهٗ : داخل ہوا اس میں كَانَ : ہوگیا اٰمِنًا : امن میں وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے عَلَي : پر النَّاسِ : لوگ حِجُّ الْبَيْتِ : خانہ کعبہ کا حج کرنا مَنِ : جو اسْتَطَاعَ : قدرت رکھتا ہو اِلَيْهِ : اس کی طرف سَبِيْلًا : راہ وَمَنْ : اور جو۔ جس كَفَرَ : کفر کیا فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ غَنِىٌّ : بےنیاز عَنِ : سے الْعٰلَمِيْنَ : جہان والے
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے
[فِیْہِ : اس میں ] [اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ : کچھ واضح نشانیاں ہیں ] [مَّقَامُ اِبْرٰہِیْمَ : (ان میں سے) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ] [ہونے کی جگہ ہے ] [وَمَنْ : اور جو ] [دَخَلَہٗ : داخل ہوگا اس میں ] [کَانَ : تو وہ ہوگا ] [اٰمِنًا : امن میں ہونے والا ] [وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر ] [حِجُّ الْبَیْتِ : البیت (یعنی خانۂ کعبہ) کا حج ] [مَنِ : (ان میں سے) اس پر جو ] [اسْتَطَاعَ : قدرت رکھتا ہو ] [اِلَـیْہِ : اس کی طرف ] [سَبِیْلاً : راستے کی ] [وَمَنْ : اور جس نے ] [کَفَرَ : انکار کیا ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو بیشک اللہ ] [غَنِیٌّ : بےنیاز ہے ] [عَنِ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں سے ]
Top