تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 22. Al-Hajj · Ayah 2

  1. یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ﴿2﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. تَرَوْنَهَاتم دیکھو گے اسے
    3. تَذْهَلُبھول جائے گی
    4. كُلُّ مُرْضِعَةٍہر دودھ پلانے والی
    5. عَمَّآجس کو
    6. اَرْضَعَتْوہ دودھ پلاتی ہے
    7. وَتَضَعُاور گرا دے گی
    8. كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍہر حمل والی (حاملہ)
    9. حَمْلَهَااپنا حمل
    10. وَتَرَىاور تو دیکھے گا
    11. النَّاسَلوگ
    12. سُكٰرٰينشہ میں
    13. وَمَا هُمْاور حالانکہ نہیں
    14. بِسُكٰرٰينشہ میں
    15. وَلٰكِنَّاور لیکن
    16. عَذَابَ اللّٰهِاللہ کا عذاب
    17. شَدِيْدٌسخت
Translation · Al-Qurtubi
(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گرپڑیں گے اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے بیشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تذھل کا معنی ہے مشغول ہوجانا، یہ قطرب کا قول ہے : ضرباً یزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ بعض نے فرمایا : اس کا معنی بولنا ہے۔ بعض نے کہا : غافل ہوجانا ہے۔ بعض نے کہا : بھول جانا ہے۔ یہ تمام معانی قریب قریب ہے۔ عما ارضعت مبرد نے کہا : اس میں ما مصدر یہ ہے یعنی وہ دودھ پلانے سے بھول جائے گی۔ فرمایا : یہ دلیل ہے کہ یہ زلزلہ دنیا میں ہوگا کیونکہ دوبارہ اٹھنے کے بعد تو نہ حمل ہوگا اور نہ دودھ پلانا ہوگا۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو حاملہ مر جائے گی وہ حاملہ ہی اٹھائی جائے گی پس وہ ہولناکی کی وجہ سے اپنا حمل گرا دے گی اور جو دودھ پلاتے ہوئے مر جائئے گی وہ حاملہ ہی اٹھائی جائے گی پس وہ ہولناکی کی وجہ سے اپنا حمل گرا دے گی اور جو دودھ پلاتے ہوئے مر جائے گی وہ اسی طرح اٹھائی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یوما یجعل الولدان شیئا۔ (الزمل) جس دن بچے بوڑھے ہو جائئیں گے۔ بعض نے کہا : یہ پہلے صور کو پھونکنے کے وقت ہوگا۔ بعض نے کہا : قیامت کے قیام کے ساتھ ہوگا حتیٰ کہ دوسرے صور کے پھونکنے کے ساتھ لوگ اپنی قبور سے حرکت کریں گے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آیت میں زلزلہ سے مراد قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو بیان کرنا ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (البقرہ :214) اور اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا : (1) اے اللہ ! ان کفار کو شکست دے اور ان کے پائوں اکھیڑ دے۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو بیان کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ نیک اعمال کے ساتھ لوگ اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ زلزلہ کو شی عظیم کہنا یا تو اس لیے ہے کہ اس کا وقوع یقینی ہے اسی وجہ سے معدوم چیز کو شی کہنا بھی آسان ہے، کیونکہ یقین، موجودات کے مشابہ ہوتا ہے یا مآل اور انجام کے اعتبار سے ہے یعنی یہ جبب واقع ہوگا تو عظیم شی ہوگا۔ گویا اب اسم کا اطلاق نہیں کیا بلکہ اس کا معنی ہے جب یہ ہوگا تو عظیم شی ہوگا اسی کی وجہ سے دودھ پلانے والیاں اپنے بچوں سے غافل ہوجائیں گے اور لوگ نشہ میں مست نظر آئیں گے جیسا کہ فرمایا : وتری الناس سکریٰ یعنی اسکی ہولناکی کی وجہ سے اور جو انہیں خوف اور گھبراہٹ لاحق ہوگی اس کی وجہ سے نشہ میں مست نظر آئیں گے۔ وماھم یسکریٰ حالانکہ وہ شراب کے نشہ میں نہیں۔ اہل معانی نے کہا : تو لوگوں کو دیکھے گا گویا کہ وہ نشہ میں مست ہیں۔ اس پر دلیل ابی زرعہ ہرم بن عمرو بن جریر بن عبداللہ کی قرأت وتری الناس تا کے ضمہ کے ساتھ ہے یعنی تجھے خیال گزرے گا۔ حمزہ اور کسای نے سکریٰ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں یہ سکران کی جمع ہے جیسے کسیٰ و کسائی، الزلزلۃ کا معنی سختی سے حرکت دینا ہے۔ الذھول کا معنی غم، ھم اور تکلیف وغیرہ کے لاحق ہونے کی وجہ سے کسی چیز سے غافل ہوجانا ہے۔ ابن زید نے کہا : عورت اس تکلیف کی وجہ سے اپنے بچے کو چھوڑ دے گی جو اس پر نازل ہوگی۔