Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبادہ خبیر بصیر اور اگر اللہ اپنے (سب) بندوں کیلئے روزی فراخ کردیتا تو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگے ‘ لیکن وہ اندازے کے مطابق جتنا (رزق) چاہتا ہے ‘ اتارتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں (کے مصالح) کو جاننے والا ‘ دیکھنے والا ہے۔ وَلَوْ بَسَطَ اللہ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت خباب بن ارت نے فرمایا : یہ آیت ہمارے حق میں اتری تھی۔ ہم نے دیکھا کہ بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور بنی قینقاع بڑے کشادہ حال ہیں ‘ ان کو دیکھ کر ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لَبَغَوْا یعنی دولت کے غرور میں آجاتے اور ملک میں تباہی مچاتے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ایک دوسرے سے اونچا ہوتا اور اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بغٰی کا یہ معنی ہے کہ ایک مکان کے بعد دوسرے مکان کے ‘ اور ایک سواری کے ملنے کے بعد دوسری سواری کے ‘ اور ایک لباس کے بعد دوسرے لباس کے طلبگار ہوتے۔ بغٰی کا اصل معنی یہ ہے کہ جو چیزیں مقدار اور کیفیت کے لحاظ سے کم و بیش ہوسکتی ہوں ‘ ان کی طلب میں نقطۂ اعتدال سے تجاوز نہ کرنا۔ وَلٰکِنُ یُّنْزِّلُ لیکن وہ رزق نازل فرماتا ہے۔ بِقَدَرٍ اندازہ کے ساتھ ‘ یعنی جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ یعنی اللہ اپنے بندوں کے پوشیدہ احوال اور نتائج کو جانتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : اس آیت کا نزول اصحاب صفہ کے حق میں ہوا تھا۔ اصحاب صفہ (وہ غریب لوگ جو علم دین حاصل کرنے کیلئے مدینہ میں مسجد نبوی سے باہر ایک چبوترہ پر اقامت گزیں تھے) کے دلوں میں مالدار ہونے کی تمنا پیدا ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا : کاش ہمارے پاس بھی مال ہوتا ‘ اخرجہ الحاکم وصححہ۔ طبرانی نے حضرت عمروابن حریث کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ بغوی نے حضرت انس بن مالک کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحوالۂ جبرئیل ‘ باری تعالیٰ کا یہ قول بیان فرمایا ہے کہ جو میرے کسی ولی کی توہین کرتا ہے ‘ وہ مجھ سے جنگ کرنے کیلئے میرا مقابلہ کرتا ہے۔ میں اپنے اولیاء (کی حمایت) کیلئے ایسا غضبناک ہوں جیسا غضبناک شیر غضب میں آجاتا ہے۔ میرا مؤمن بندہ میرا مقرب (اور کسی طریقہ سے) اتنا نہیں ہوتا جتنا میرا مقرر کردہ فریضہ ادا کرنے سے ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے میرا مؤمن بندہ برابر میرا مقرب ہوتا چلا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں ا سے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر میں اس کے کان اور آنکھیں اور ہاتھ ہوجاتا ہوں اور اس کا مددگار بن جاتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں اور مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں۔ جس کام کو میں کرنے والا ہوتا ہوں ‘ اس کے کرنے میں مجھے ایسا تردد نہیں ہوتا جتنا اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مرنے کو ناگوار جانتا ہو تو مجھے اس کو دکھ دینا پسند نہیں ہوتا ‘ مگر مرنے کے بغیر اس کیلئے کوئی چارہ نہیں ہوتا (اسلئے قبض روح کی تکلیف اس کو دیتا ہوں) میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے باب عبادت (کھولنے) کی درخواست کرتے ہیں لیکن میں ان کو اس سے روک دیتا ہوں ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اندر غرور پیدا ہوجائے اور اس سے ان کی حالت بگڑ جائے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جن کے ایمان کو صرف مال ہی درست رکھ سکتا ہے ‘ اگر میں ان کو محتاج بنا دوں تو ان کا ایمان بگڑ جائے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ افلاس ہی ان کے ایمان کو درست رکھ سکتا ہے ‘ اگر میں ان کو غنی کر دوں تو مال ان کے ایمان کو خراب کرے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو صرف جسمانی تندرستی ہی صحیح رکھ سکتی ہے ‘ اگر میں ان کو بیمار کر دوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑ دے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ بیماری ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھ سکتی ہے ‘ اگر میں ان کو تندرست کر دوں تو صحت ان کے ایمان کو خراب کر دے۔ میں اپنے بندوں کے کاموں کا اپنے علم کے مطابق انتظام کرتا ہوں ‘ مجھے ان کے دلوں کی حالت معلوم ہے ‘ میں بخوبی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
Top