تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 57. Al-Hadid · Ayah 4
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿4﴾
- هُوَ الَّذِيْوہ اللہ وہ ذات ہے
- خَلَقَ السَّمٰوٰتِجس نے پیدا کیا آسمانوں کو
- وَالْاَرْضَاور زمین کو
- فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍچھ دنوں میں
- ثُمَّ اسْتَوٰىپھر جلوہ فرما ہوا
- عَلَي الْعَرْشِ ۭعرش پر
- يَعْلَمُوہ جانتا ہے
- مَاجو کچھ
- يَلِجُداخل ہوتا ہے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَااور جو کچھ نکلتا ہے اس میں سے
- وَمَا يَنْزِلُاور جو کچھ اترتا ہے
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭاور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں
- وَهُوَ مَعَكُمْاور وہ تمہارے ساتھ ہے
- اَيْنَجہاں
- مَا كُنْتُمْ ۭکہیں تم ہوتے ہو
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَا تَعْمَلُوْنَساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو
- بَصِيْرٌدیکھنے والا ہے
Translation · Al-Qurtubi
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
(ھو الذی خلق۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ، مایقول عند النوم، جلد 2، صفحہ 348
ھو الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی لعرش اس کی وضاحت سورة الاعراف میں مفصل گزر چکی ہے۔
یعلم ما یلج فی الارض یعنی بارش وغیرہ (1) جو زمین میں داخل ہوتی ہے وما یخرج منھامراد نباتات وغیرہ ہے (2) وما ینزل من السماء یعنی رزق، بارش اور فرشتے۔ وما یعرج فیھا جو آسمانوں کی طرف بلندہوتے ہیں جیسے فرشتے اور بندوں کے اعمال۔ وھو معکم یعنی اپنی قدرت، سلطان اور علم کے ذریعے تمہارے ساتھ ہے۔ این ماکنتم واللہ بما تعملون بصیر۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال دیکھتا ہے اور اس پر کوئی چیز مخفی نہیں (3) اس آیت میں استوی علی العرش اور وھو معکم کو جمع کردیا گیا ہے دونوں کے ظاہر کرلیا جائے تو تنافض واقع ہوتا ہے اس لیے تاویل ضروری ہے، تاویل سے اعراض تناقض کو تسلیم کرنا ہے۔ امام ابو المعالی نے کہا : حضرت محمد ؟ لیلۃ المعراج کو حضرت یونس (علیہ السلام) کی بنسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب نہ تھے جب کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔