تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 1

  1. قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿1﴾

    1. قَدْ سَمِعَیقیناً سن لی
    2. اللّٰهُاللہ نے
    3. قَوْلَبات
    4. الَّتِيْوہ عورت جو
    5. تُجَادِلُكَآپ سے بحث کرتی تھی
    6. فِيْ زَوْجِهَااپنے خاند کے بارے میں
    7. وَتَشْتَكِيْٓاور شکایت کرتی تھی
    8. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. يَسْمَعُسنتا تھا
    11. تَحَاوُرَكُمَا ۭتم دونوں کی گفتگو
    12. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    13. سَمِيْعٌۢسننے والا
    14. بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Al-Qurtubi
(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
مسئلہ نمبر 1 قدسمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کی وہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنت حکیم تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام جمیلہ تھا اور خولہ نام زیادہ صحیح ہے ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت تھا جو حضتر عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ حضتر عمر اپنے دور خلافت میں اس عورت کے پاس سے گزرے جب کہ کچھ لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے آپ گدھے پر سوار تھے اس عورت نے طویل وقت تک آپ کو رد کے رکھا آپ کو نصیحتیں کیں کہا : اے عمرچ کبھی تجھے عمیر کہا جاتا تھا، پھر تمہیں عمر جانے لگا : پھر تمہیں امیر المومنین کہا جانے لگا۔ اے عمر ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو : کیونکہ جس کو موت کا یقین ہوتا ہے وہ فوت ہنے سے ڈرتا ہے جسے حساب کا یقین ہوتا ہے وہ عذاب سے ڈرتا ہے جب کہ حرت عمر کھڑے اس کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی : اے امیر المومنینچ کیا آپ اس بڑھیا کے لئے اتنا ٹھہرتے ہیں ؟ فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھے دن کے پہلے پہر سے آخری پہر تک رو کے رکھے تو میں کھڑا رہوں گا مگر فرض نماز کے لئے جائوں گا کیا تم جانتے ہو یہ بڑھیا کون ہے ؟ یہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ہیں اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں سے اوپر اس کی بات کو سنا کیا رب العالمین اس کی بات کو سنے اور عمر اسکی بات کو نہ سنے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : بڑی ہی برکتوں والی ہے وہ ذات جس کی قوت سماعت ہر شی کو وسیع ہے۔ میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی گفتگو سن رہی تھی اور مجھ پر کچھ گفتگو مخفی تھی جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی۔ وہ کہہ رہی ھی، یا رسول اللہ ! اس نے میری جوانی کو کھالیا میں نے اپنے پیٹ کو اس کے لئے بکھر دیا۔ جب میں بوڑھی ہوگئی اور مییر جانب سے ولادت کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو اس نے مجھ سے ظہار کیا۔ اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں شکایت کرتی ہوں۔ وہ وہیں تھی کہ حضرت جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ بخاری شریف میں جو روایت ہے وہ یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، تمام تر تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی قوت سماعت تمام آوازوں کو جامع ہے۔ ایک جھگڑا کرنے والی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاض رہوئی۔ میں کمرے کے ایک کونے میں موجود تھی میں اس کی بات نہیں سن رہی تھی تو اللہ تعالیٰ اس آیت کو نازل فرمایا (1) ماوردی نے کہا، وہ حضرت خولہ بن ثعلبہ تھیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد بنت خویلد تھیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ ایک ان میں سے باپ اور دوسرا دادا تھا۔ ان دونوں میں ہر ایک کی طرف اسے منسوب کیا گیا۔ ان کے خاوند حضرت اوس بن صامت تھے جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ ثعلبی نے کہا، حضرت ابن عباس نے کہا مراد حضرت حولہ بنت خویلد خزرجیہ ہیں، یہ حضرت اوس بن صامت کے عقد میں تھیں۔ جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے یہ بڑے خوبصورت جسم کی مالک تھیں۔ ان کے خاوند نے انہیں سجدہ کرتے ہوئے دیکھ لیا اس کی سربینک و دیکھا تو معاملہ بڑا عجیب لگا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو خاوند نے ان کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کردیا تو خاوند اس پر ناراض ہوگیا۔ حضرت عروہ نے کہا، وہ ایسا آدمی تھا جسے جنون کی کچھ تکلیف تھی اسے یہ عارضہ لاحق ہوا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا، انت علی کظھر امی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ دور جاہلیت میں ایلاء اور ظہار طلاق تھے۔ اس نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام وہ گئی ہے۔ “ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اس نے طلاق کا ذکر نہیں کیا۔ پھر کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے فاقہ تنہائی و حشت، اپنے خاوند کے فراق اور چچا زاد بھائی کی جدائی کی شکایت کرتی ہوں میں نے اس کے لئے اپنے پیٹ کو بکھیر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام ہوگئی ہے۔ “ وہ لگاتار بات دہراتی رہی اور رسول اللہ ﷺ اسے جواب دیدتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے دور جاہلیت کے طریقوں کو منسوخ کردیا ہے جب کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اس بارے میں مجھ پر کوئی وحی نہیں آئی۔ ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر ہر چیز کے بارے میں وحی کی گئی اور آپ سے اس امر کو لپیٹ دیا گیا ؟ فرمایا :” میں نے جو کچھ تجھے کہا ہے وہی کچھ ہے۔ “ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتی ہوں اس کے رسول کی بارگاہ میں شکایت نہیں کتری، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا و تش کی الی اللہ۔ دار قطنی نے قتادہ کی حدیث سے روایت نقل کی ہے کہ حضتر انس بن مالک نے انہیں ب یان کیا کہ حضرت اوس بن صامت نے اپنی بیوی حضرت خویلہ بنت ثعلبہ سے ظہار کیا حضرت خیولہ نے اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی عرض کی : اس نے اس وقت ظہار کیا جب میری عمر بڑی ہوگئی اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت ظہار کو نازل فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اوس سے کہا، ” غلام کو آزاد کرو۔ “ عرض کی : میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ فرمایا :” دو ماہ کے پے در پے روزے رکھو “ عرض کی : میری حالت یہ ہے کہ میں دن میں تین بار کھانا نہ کھائوں تو میری نظر کمزور ہوجاتی ہے۔ فرمایا :” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو “ عرض کی : میں تو کوئی چیز نہیں پاتا سوائے اس کے کہ آپ صلہ رحمی اور مدد کے طور پر میری مدد فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کی پندرہ صاع کے ساتھ مدد کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اس مال کو جمع کردیا۔ ان اللہ سمیع بصیر۔ کی رائے ہے کہ اس صحابی کے پاس اسی کی مثل مال موجود تھا تو یہ ساٹھ مسکینوں کے لئے ہوگیا۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ حضتر سلمہ بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” ایک غلام آزاد کرو “ کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی گردن پر ہاتھ مارا عضر کی نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اس کے سوا کسی کا مالک نہیں۔ فرمایا :” دو ماہ کے روزے رکھو ” میں نے عرض کی : یارسول اللہ مجھے جو مصیبت پہنچی ہے وہ روزوں کی وجہ سے ہی پہنچی ہے۔ فرمایا :’ تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو “ (1) ابن عربی نے احکام میں ذکر کیا ہے روایت کی گئی ہے کہ حضتر خواجہ بنت خدیج سے ان کے خاوند نے ظہار کیا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام ہوچکی ہے “ انہوں نے عضر کی : میں اپنی حاجت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عضر کرتی ہوں۔ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو اس پر حرام ہوچکی ہے ‘ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتی ہوں جب کہ آپ ﷺ کے سر کے دائیں حصہ کو دھو رہی تھیں پھر وہ بائیں حصہ کی طرف متوجہ ہویں جب کہ وحی ان پر نازل ہوچکی تھی و دوبارہ عضر کرنے لگی۔ حضرت عائشہ نے کہا : خاموش ہوجا ! آپ پر وحی نازل ہوچکی ہے جب قرآن نازل ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاوند سے فرمایا :” ایک غلام آزاد کرو “۔ اس نے عرض کی : میں تو کوئی غلام نہیں پاتا۔ فرمایا :’ ددو ماہ کے پے در پے روزے رکھو “ اس نے عرض کی : اگر میں دن میں تین بار کھانا نہ کھائوں تو مجھے خوف ہوجاتا ہے کہ میری آنکھیں نابینا ہی نہ ہوجائیں۔ فرمایا :” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو “ تو اس نے عرض کی : میری مدد کیجیے تو نبی کریم ﷺ نے اس کی مدد کی۔ ابوجعفر نحاس نے کہا، مفسرین کی رئاے ہے کہ وہ حضرت خولہ تھیں اور ان کے خاوند کا نام حضرت اوس میں صامت تھا۔ اس کے نسب میں علمئا نے اتخلاف کیا ہے بعض نے کہا : وہ ایک انصاری عورت تھی جو ثعلبہ کی بیٹ تھی۔ بعض نے کہا وہ خدیج کی بٹی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خویلد کی بٹی تھی۔ بعض نے کہا، وہ صامت کی بیٹی تھی۔ بعض نے کہا : وہ ایک لونڈی تھی جو عبداللہ بن ابی کی ملک میں تھی یہی وہ لونڈی تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولاتکوھوا فتیتکم علی البغآء ان اردن تحصناً (النور : 33) کیونکہ وہ اسے بدکاری پر مجبور کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حکیم کی بیٹی تھی۔ نحاس نے کہا، اس میں کوئی تناقص نہیں، یہ جائز ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہو، ایک دفعہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہو، ایک دفعہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی کی لونڈی ہو تو اسے ولاء کی وجہ سے انصاریہ کہا گیا ہو کیونکہ عبداللہ انصار میں شمار ہوتا تھا اگرچہ منافق تھا۔ مسئلہ نمبر 2۔ قدسمع کو ادغام اور اظہار کی صورت میں بھی پڑھا گیا ہے۔ سماع میں اصل مسموعات کا ادراک ہے، یہ شیخ ابوالحسن کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن فورک نے کہا، صحیح یہ ہے کہ یہ مسموع کا ادراک ہے۔ حاکم ابوعبداللہ نے سمیع کے معنی میں کہا : وہ آوازوں کا ادراک کرتا ہے جن آوازوں کا مخلوقات کانوں سے ادراک کرتی ہے جب کہ اس کے کوئی کان نہیں۔ اس سے مراد یہ کہ آوازیں اس پر مخففین ہیں اگرچہ وہ اس حس سے متصف نہیں جو کانوں میں رکھی گئی ہے جس طرح لوگوں میں سے عاصم (بہرہ) ہوتا ہے جب اس میں حاسہ نہیں ہوتا تو وہ آواز کے ادراک کا اہل نہیں ہوتا۔ سمع اور بصر دونوں صفتیں ہیں جس طرح علم، قدرت، حیات اور ارادہ۔ یہ دونوں صفات ذات میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ان سے متصف ہے۔ شکی اور اشتکی کا معنی ایک ہے اسے تحاورک بھی پڑھا گیا ہے یعنی وہ بات کو بار بار لوٹاتی تھی۔ تجادلک یعنی وہ آپ سے سوال کرتی ہے۔