تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 2
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ﴿2﴾
- اَلَّذِيْنَجو لوگ
- يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
- مِنْكُمْتم میں سے
- مِّنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
- مَّا هُنَّوہ نہیں
- اُمَّهٰتِهِمْ ۭان کی مائیں
- اِنْنہیں
- اُمَّهٰتُهُمْان کی مائیں
- اِلَّامگر
- اڿصرف وہ عورتیں
- وَلَدْنَهُمْ ۭجنہوں نے جنا ہے انہیں
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- لَيَقُوْلُوْنَالبتہ کہتے ہیں
- مُنْكَرًانامعقول
- مِّنَ الْقَوْلِبات سے
- وَزُوْرًا ۭاور جھوٹ
- وَاِنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ
- لَعَفُوٌّالبتہ معاف کرنیوالا
- غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Al-Qurtubi
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں 23 مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ الذین یظھرون ابن عامر، حمزہ، کسائی اور خلف نے یاء کے فتحہ، ظاء کی تشدید اور الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابو عمرو اور یعقوب نے یظھرون یعنی الف کو حذف کرنے، ھاء اور ظاء کی تشدید اور یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو العالیہ، عاصم اور زربن حبیش نے یظاھرون یعنی یاء کے ضمہ، ظاء کی تخفیف، الف اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة احزاب میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ابی کی قرأت میں یتظاھرون ہے، یہ ابن عامر اور حمزہ کی قرأت کا معنی ہے۔ ظھر کے لفظ کا ذکررکوب کے معنی سے کنایہ ہے عورت کے بطن پر سوار ہوا جاتا ہے لیکن ظہر کو اس سے کنایۃ ذکر کیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : نزل عن امراتہ اسے اطلاق دے دی، گویا وہ سواری سے اتر آیا۔ انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر حرام ہے تیرے اوپر سوار ہونا میرے لئے حلال نہیں۔
مسئلہ نمبر 2۔ ظہار کی حقیقت یہ ہے کہ ایک ظہر کو دوسری ظہر سے تشبیہ دی جاتی ہے اس کے حکم کا موجب یہ چیز ہے کہ حلال پشت کو حرام پشت سے تشبیہ دی جاتی ہے (1) اکثر علماء کی رائے یہ ہے : اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا انت علی کظھر بنتی اور اختی وغیرہ جب کہ جس عورت کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے وہ ذوات المحارم میں سے ہو تو وہ مظاہر ہوگا، یہ امام مالک، امام ابوحنیفہ وغیرہ کا مذہب ہے۔ امام شافعی سے اس بارے میں اختلاف مروی ہے۔ ان سے امام مالک کے قول جیسا قول بھی مروی ہے کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو ایسی محرم کی پشت سے تشبیہ دی ہے جو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام تھی جیسے ماں۔ ان سے ابو ثور نے روایت کی ہے کہ ظہار صرف ماں کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، یہ قتادہ اور شعبی کا مذہب ہے۔ پہلا قول حضرت حسن بصری، نخعی، زہری، اوزاعی اور ثوری کا نقطہ نظر ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ ظہار کی اصل یہ ہے کہ کوئی آدی اپنی بیوی سے کہے، انت علی کظھر امی اللہ تعالیٰ نے ظہر کا لفظ بطن سے کنایہ اور پردہ کے طور پر ذکر کیا ہے اگر وہ کہے : انت علی کامی اور ظھر کا ذکر نہیں کیا یا کہا انت علی مثل امی اگر اس صورت میں ظہار کا ارادہ کیا تو جو اس نے نیت کی وہی حکم ہوگا۔ اگر طلاق کا اراد کیا تو امام مالک کے نزدیک اسے طلاق بائنہ ہوجائے گی، اگر طلاق اور ظہار کی نیت نہ ہو تو وہ مظاہر ہوگا صریح ظہار نیت کے ساتھ طلاق کی طرف نہیں پھرے گا۔ جس طرح صریح طلاق اور معروف کنایہ ظہار کی طرف نہیں پھرے گا۔ ظہار کو جب گنایہ کی صورت میں ذکر کیا گیا تو یہ نیت کے ساتھ طلاق بائنہ کی طرف پھرجائے گا۔
مسئلہ نمبر 4۔ ظہار کے الفاظ دو قسم کے ہیں صریح، کنایہ، صریح یہ ہے انت علی کظھر امی، انت عندی و انت منی وانت معی کظھر امی، تو مجھ پر، میرے ہاں میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ اس طرح اس کا یہ قول انت علی کبطن امی اوکر اسھا او فرجھا اونحوہ اسی طرح اس کا یہ قول فرجک، راسک، ظھرک، بطنک، رجلک علی کظھر امی تو اس صورت میں بھی وہ مظاہر ہوگا۔ اس کا قول یدک، رجلک را سک، فرجک طالق تو اسے طلاق ہو جائیگی۔
امام شافعی کا ایک قول یہ ہے، وہ ظہار کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے ساتھ موافقت کی ہے کہ ان اعضاء کی طرف طلاق کو منسوب کرنا صحیح ہے۔ امام حنیفہ نے اس سے اختلاف کیا تو پس اس کی طرف ظہار کی نسبت کرنا بھی صحیح ہے۔ جس نے اپنی بیوی کو اپنی ماں، اپنی دادی خواہ باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے تو بغیر کسی اختلاف کے وہ ظہار ہوگا۔ اگر اس نے ان کے علاوہ کسی اور ایسی عورت سے اپنی بیوی کو تشبیہ دی جو کسی حال میں بھی اس کے لئے حلال نہیں ہوتی جس طرح بیٹی، بہن، پھوپھی اور خالہ تو اکثر فقہاء کے نزدیک وہ مظاہر ہوگا اور امام شافعی کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ جو ہم نے ذکر کیا ہے اس کا کنایہ ہے کہ وہ کہے : انت علی کامی اومثل امی اس میں نیتک اعتبار ہوگا اگر ظہار کا ارادہ کیا تو ظہار ہوگا اگر ظہار کا ارادہ نہ کیا تو امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہار نہیں ہوگا۔ امام مالک کا مذہب اس کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دی ہے تو یہ ظہا رہو گا اس کی اصل یہ ہے کہ وہ ظہر کے لفظ کا ذکر کرے اور یہ قوی ہے کیونکہ لفظ کا معنی اس میں موجود ہے اور لفظ اپنے معین کے ساتھ ہی ہوتا ہے ظہر کا حکم اپنے لفظ کی وجہ سے لازم نہیں اسے اس کے معنی کی وجہ سے لازم کیا گیا ہے جو تحریم ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ (1)
مسئلہ نمبر 5۔ اگر اس نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کے کسی عضو کے ساتھ تشبیہ دی تو وہ ظہار کرنے والا ہوگا جب کہ امام ابوحنیفہ نے اس سے اتخلاف کیا ہے آپ کا کہنا ہے : اگر خاوند نے اپنی بیوی کو کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دی جس کی طرف دیکھنا اس کے لئے حلال تھا تو وہ مظاہر نہیں ہوگا۔ یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ استمتاع کے طریقہ پر اس کی طرف دیکھنا حلال نہیں اس میں تشبیہ واقع ہے اور مظاہرے نے اس کا قصد کیا ہے۔ امام شافعی نے ایک قول میں کہا : وہ صرف اس صورت میں مظاہر ہوگا جب وہ لفظ ظہر کا ذکر کرے گا۔ یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ اس کا ہر عضو حرام ہے تو اس قسم کے ساتھ تشبیہ ظہار ہوگا جس طرح ظہر کا لفظ ذکر کیا جائے تو ظہار ہوتا ہے کیونکہ ظہار کرنے والا حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو حکم ضرور لازم ہوگا۔
مسئلہ نمبر 6۔ اگر اس نے اپنی بیوی کو کسی اجنبی عورت کے ساتھ تشبیہ دیا گر اس نے ظہار کا ذکر کیا تو وہ ظہار وہ گا پہلے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے۔ اگر لفظ ظہر کا ذکر نہ کیا تو اس میں ہمارے علماء نے اختلاف کیا ہے ان علماء میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے کہا : یہ ظہار ہے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے کہا، یہ طلاق ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے کہا، یہ کچھ بھی نہیں۔ ابن عربی نے کہا یہ فاسد ہے (2) کیونکہ حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے تو یہ اس کے حکم کے ساتھ مقید ہوگی جس طرح ظہر کا لفظ ہے ہمارے نزدیک اسماء معانی کیساتھ ہوتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک اپنے الفاظ کے ساتھ ہوتے ہیں یہ ان کی جانب سے اصل کے خلاف ہے۔
میں کہتا ہوں : اجنبیہ کے ساتھ جب تشبیہ دی جائے تو امام مالک کے نزدیک ظہار میں اختلاف کیا ہے۔ آپ کے اصحاب میں سے کھچ وہ ہیں جو ظہار صرف اس صورت میں تسلیم کرتے ہیں جب ذوی المحارم کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور باقی ماندہ عورتوں کے ساتھ شبیہ دینے کی صورت میں وہ ظہار تسلیم نہیں کرتے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اسے کوئی چیز بھی قرار نہیں دیتے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اجنبی میں اسے طلاق قرار دیتے ہیں۔ امام مالک کے نزدیک جب اس نے کہا، کظھر ابنی اوغلامی اور کظھر زید او کظھر اجنبیۃ تو یہ ظہار ہوگا اس عورت کے ساتھ قسم کے ہوتے ہوئے وطی کرنا حلال نہیں ہوگا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے جب غیر ذوی المحارم کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو یہ کچھ بھی نہیں جس طرح کفو اور امام شافعی نے کہا، اور زاعی نے کہا، اگر اس خاوند نے کہا : انت علی کظھر فلان رجل تو یہ قسم ہوگی وہ اس قسم کا کافرہ دے گا۔
مسئلہ نمبر 7۔ جب اس نے کہا : انت علی حرام کظھر امی یہ ظہار ہوگا، طلاق نہیں ہوگی کیونکہ اس کا قول انت علی حرام یہ طلاق کے ساتھ حرمت کا احتمال رکھتا ہے تو اس عورت کو طلاق ہوجائے گی۔ یہ ظہار کی وجہ سے بھی حرمت کا احتمال رکھتی ہے جب اس نے وضاحت کردی تو یہ دو احتمالوں میں سے ایک کی تفسیر ہوگی اس میں اس کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ (3)
مسئلہ نمبر 8۔ ظہار ہر ایسی بیوی کے بارے میں لازم ہوجائے گا وہ مدخولہ ہو یا نہ ہو کسی بھی ایسی حالت میں جس میں اس بیوی کو طلاق جائز ہو اسی طرح امام مالک کے نزدیک اس لونڈی کے ساتھ بھی ظہار کرنا جائز ہے جس کے ساتھ اس کا وطی کرنا جائز ہے۔ جب مرد نے ان کے ساتھ ظہار کیا تو ان کے بارے میں ظہار لازم ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے کہا : لازم نہیں ہوگا۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : یہ ہمارے لئے بہت مشکل مسئلہ ہے کیونکہ امام مالک کہا کرتے تھے : جب اس نے اپنی لونڈی سے کہا انت علی حرام تو یہ لازم نہیں آتا۔ اس میں صریح تحریم کیسے باطل ہوگی اور کنایہ صحیح ہوگا۔ مگر لونڈی من یسآئھم کے عموم میں داخل ہے کیونکہ اس نے ان کی حلال عورتوں کا ارادہ کیا ہے۔ اس میں علت یہ ہے کہ یہ ایسا لفظ ہے جو بعض کے متعلق ہے عقد ختم کرنے کے متعلق نہیں پس لونڈی میں ظہار صحیح ہے اس کی اصل اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانا ہے۔
مسئلہ نمبر 9۔ نکاح سے پہلے بھی ظہار ہو سکتا ہے جب وہ اس عورت سے نکاح کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہو، یہ امام مالک کا نقطہ نظر ہے۔ جب کہ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہار لازم نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے من نسآئھم جب کہ وہ عوتریں جس سے ابھی شادی نہ ہوئی ہو وہ اس کی عورتوں میں سے نہیں سورة برأت میں اس مسئلہ کی اصل آیت ومنھم من عھد اللہ (التوبہ : 75) میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 10۔ ذمی کا ظہار لازم نہیں ہوتا، یہ امام ابوحنیفہ نظر ہے۔ امام شافعی نے کہا : ذمی کا اظہار صحیح ہے ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے منکم یعنی مسلمانوں میں سے۔ یہ کلام ذمی کے خطاب سے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے : یہ خطاب کی دلیل سے استدلال ہے۔ ہم کہیں گے : یہ اشتقاق اور معنی سے استدلال ہے کیونکہ کفار کے نکاح فاسد اور فسخ کے مستحق ہیں ان کے ساتھ طلاق اور ظہار کا حکم متعل نہیں ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے و اشھدوا ذوی عدل منکم (الطلاق : 2) جب نکاح صحت کی شروط سے خالی ہوں تو یہ فاسد ہوں گے نکاح فاسد میں کسی حال میں بھی ظہار نہیں (1)
مسئلہ نمبر 11۔ منکم کے الفاظ غلام کے ظہار کے صحیح ہونے کا تقاضا کرتے ہیں جو اس سے منع کرتے ہیں انہوں نے اس سے اختلاف کیا ہے ثعلبی نے اسے امام مالک سے حکایت کیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں میں سے ہے اور اس کے حق میں احکام نکاح ثابت ہیں اگرچہ اس پر غلام آزاد کرنا اور کھانا کھلانا متعذر ع ہے۔ وہ صرف روزوں پر قادر ہے۔
مسئلہ نمبر 12۔ امام مالک (رح) نے کہا، عوتریں ظہار نہیں کرسکتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذین یتھرون منکم من نسآئھم یہ نہیں فرمایا والاللی یظھرون منکم من الجھن ظہار صرف مردوں کے لئے ہے۔ ابن عربی نے کہا کہ ابن قاسم، سالم یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور باو زتا ونے نے یہی روایت کیا ہے معین کے اعتبار سے یہ صحیح ہے کیو کہ حل، عقد، تحلیل اور تحریم نکاح کے معاملہ میں مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں سے عورتوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں یہی اجماع ہے۔ ابو عمر نے کہا، جمہور کے قول کے مطابق عورتوں پر کوئی ظہار نہیں۔ حسن بن زیاد نے کہا، وہ ظہار کرسکتی ہے۔ امام ثوری، امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے کہا، نکاح سے قبل اور اس کے بعد عورت اپنے خاوند سے ظہار نہیں کرسکتی۔ امام شافعی نے کہا : عورت اپنے خاوند سے ظہار نہیں کرسکتی۔ امام اوزاعی نے کہا، جب عورت اپنے خاوند سے کہے انت علی کظھر امی او کظھر فلانہ تو یہ عورت کی جانب سے قسم ہوجائے گی وہ اس کا کفارہ دے گی۔ اسحاق نے اسی طرح کہا ہے، ایک عورت خاوند سے ظہار کرنے والی نہیں ہو سکتی لیکن اس پر قسم لازم ہوگی جس کا وہ کفار دے گی۔ زہری نے کہا، میری رئاے یہ ہے کہ وہ ظہار کا کفارہ دے اس کا یہ قول اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان حقوق زوجیت کے اعتبار سے حئال نہیں ہوگا۔ یہ روایت انسے معمر نے نقل کی ہے۔ ابن جریج نے عطا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس پر جو امر حلال کیا تھا اس نے اسے حرام کردیا اس پر کفارہ یمین ہوگا، یہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ محمد بن حسن نے کہا، اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔
مسئلہ نمبر 13۔ جسے کچھ جنون کا مضر ہو۔ کسی موقع پر اس کے کلام میں نظم پیدا ہوجائے جب وہ ظہار کرے تو اس پر ظہار لازم ہوجائے گا، کیونکہ حدیث طیبہ میں یہ روایت مروی ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ جن کے خاوند کا نام اوس بن صامت تھا اسے جنون کی کچھ شکایت تھی اور اس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا۔
مسئلہ نمبر 14۔ جس کو غصہ آئے اور وہ اپنی بیوی سے ظہار کرلے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کا غصہ اس کے حکم کو ساقط نہیں کریگا۔ ایک حدیث کی سند میں ہے کہ یوسف بن عبداللہ بن سلام نے حضرت خولہ جو حضرت اوس بن صامت کی زوجہ تھیں سے روایت نقل کی ہے حضرت خولہ نے کہا، میرے اور اس کے (خاوند) کے درمیان کچھ ناراضگی ہوئی تو اس نے کہا : انت علی کظھر ایم تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر وہ اپنی قوم کی مجلس کی طرف چلے گئے۔ حضرت خولہ کا قول کان بینی وبینہ شئی میں دلیل ہے۔ کہ ان میں کوئی جھگڑا ہوا تھا جس نے انہیں مجبور کیا تو ان کے خاوند نے ان سے ظہار کرلیا۔ غضب لغو چیز ہے یہ کسی حکم کو ختم نہیں کرتی اور نہ ہی شرعی حکم میں تبدیلی کرتی ہے، اسی طرح نشہ ہے۔
مسئلہ نمبر 15۔ جب خاوند نشہ کی حالت میں ہو اور وہ اپنے قول کو سمجھتا ہو اور کلام کو منظم کرسکتا ہو تو ظہار اور طلاق کا حکم اس پر لازم آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی تعلموا ماتقولون (النسائ : 43) جس طرح سورة نساء میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 16۔ مظاہر اپنی بیوی کے قریب نہ آئخے، اس سے مباشرت نہ کے اور کسی بھی حوالے سے اس سے لذت حاصل نہ کرے یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا کرے مگر امام شافعی نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں اختلاف کیا ہے کیونکہ خاوند کا یہ قول انت علی کظھر امی تقاضا کرتا ہے کہ ہر قسم کا استمتاع حرام ہودہ لفظ کے ساتھ ہو یا اس کے معنی یعنی عمل کی صورت میں ہو۔
مسئلہ نمبر 17۔ اگر وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے وطی کرے تو اللہ تعالیٰ سے بخش کا طالب ہو اور اس سے رک جائے یہاں تک کہ ایک کفارہ ادا کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : اس پر دو کفارے لازم ہیں۔ سعید نے قتادہ سے اور مطرف نے رجاء بن حیوہ سے وہ قبیصہ بن ذویمب سے حضرت عمرو بن عاص سے مظاہرے کے بارے میں ریات نقل کرتے ہیں : جب اس نے کفارہ ادا کرنے سے قبل وطی کی تو اس پر دو کفارے ہوں گے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ قبیصہ بن ذوئیب نے کہا، اس پر دو کفارے ہوں گے۔ ائمہ کی جماتع نے روایت کی جب کہ ان میں ابن ماجہ اور نسائی بھی ہیں : ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تو کفارہ ادا کرنے سے قبل اس سے جماع کیا پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا آپ کے سامنے ذکر کیا آپ نے پوچھا :” کس چیز نے تجھے اس امر پر برانگیختہ کیا ؟ “ اس نے عضر کی : میں نے چاند کی روشنی میں اسک پازیب کی سفیدی کو دیکھا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ کرسکا تو میں نے اس سے جماع کرلیا۔ نبی کریم ہنس پڑے اور اسے حکم دیا کہ ” وہ اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا کرلے۔ “ (1) ابن ماجہ اور دارقطنی نے سلمیان بن یسار سے وہ حضرت سلمہ بن صخر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ظہار کیا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرلیا پھر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے ایک کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
مسئلہ نمبر 18۔ جب کوئی مرد ایک ہی کلمہ سے چار عروتوں سے ظہار کرے جس طرح وہ کہے انت علی کظھر امی وہ ان میں سے ہر عورت سے ظہار کرنے والا ہوگا ان میں سے کسی سے بھی وطی کرنا اس کے لئے جائز نہیں ہوگا اور صرف ایک کفارہ اس کے لئے کافی ہوگا۔ امام شافعی نے کہا، اسے چار کفارے لازم ہوں گے۔ آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ جمع کا لفظ عام مونوں کے بارے میں ہے اعتماد معنی پرہ وگا۔ دارق طنی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کہا کرتے تھے، جب ایک مرد کی چاربیویاں ہوں تو وہ ان سے ظہار کرے تو اسے ایک کافرہ ہی کافی ہوگا۔ اگر وہ ایک کے بعد دسوری سے ظہار کرے تو ہر ایک میں ایک کفارہ لازم آئے گا۔ یہی اجماع ہے۔
مسئلہ نمبر 19۔ اگر اس نے چار عورتوں سے کہا : اگر میں تم سے شادی کروں تو تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو اس نے ان میں سے ایک عورت سے شادی کی تو وہ ان کیق ریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ کفارہ دے پھر سب عورتوں کے بارے میں اس کی قسم ختم ہو جائیگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ باقی عورتوں سے بھی وطی نہیں کرسکتا (شادی کے بعد) یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا رکے۔ پہلا قول مذبہ ہے۔
مسئلہ نمبر 20۔ اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا : انت علی کظھر امی وانت طالق البتہ (2) تو اسے طلاق اور ظہار دونوں لازم ہوجائیں گے، و کفارہ نہیں دے گا یہاں تک کہ اس عورت سے ایک اور خاوند کے بعد نکاح کرے اور جب اس سے نکاح کرلیا تو کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے وطی نہ کرے۔ اگر اس نے کہا، انت طالق البتۃ وا نت علی کظھر امی اسے طلاق لازم ہوجائے گی اور اسے ظہار لازم نہیں ہوگا کیونکہ جس کو طلاق بائنہ دی جا چکی ہو اسے ظہار لاحق نہیں ہو سکتا۔
مسئلہ نمبر 21۔ بعض علماء نے کہا، جس بیوی سے حقوق زوجیت ادا نہ کئے ہوں اس کے ساتھ ظہار کرنا درست نہیں۔ مزنی نے کہا، مطلقہ رجعیہ سے ظہار صحیح نہیں۔ یہق ول کچھ بھی نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں زویجت کے احکام بقای ہیں جس طرح ایسی عورت کو طلاق ہو سکتی ہے اسی طرح ظھار بھی ہو سکتا ہے۔ قیاس و نظر یہی ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 22 ماھن امھتھم ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں۔ عام قرأت امھاتھم ہے اہل حجاز کی لغت کے مطابق تاء مسکور ہے، جس طرح فرمایا : ماھذا بشراً (یوسف : 31) فراء نے کہا، اہل نجدا اور بنو تمیم کہتے ہیں : ماھذا بشر، ماھن امھاتھم یہ مرفوع ہے۔ ان امھتھم الا الی ولد نھم ان کی مائیں نہیں مگر جنہوں نے انہیں جنا ہے ضرب المثل ہے ولدک من دمی عقبیک تیری والدہ وہ ہے جس نے تیرے بعد خون بہایا۔ اس بارے میں گفتگو سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 23۔ وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراً منکر کا معنی ہے ایسی بات جو شرع میں معروف نہ ہو اور زور سے مراد جھوٹ ہے (1) وان اللہ لعفو غفور۔ وہ عفو و غفور اس اعتبار سے ہے کہ اس نے کفارہ کو اس قول سے خلاصی کے لئے ذریعہ بنا دیا ہے۔