تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 5
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ﴿5﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
- يُحَآدُّوْنَوہ مخالفت کرتے ہیں
- اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗاللہ اور اسکے رسول
- كُبِتُوْاوہ ذلیل کئے جائینگے
- كَمَا كُبِتَجیسے ذلیل کئے گئے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- وَقَدْ اَنْزَلْنَآاور یقیناً
- اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۭواضح آیتیں
- وَلِلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لئے
- عَذَابٌعذاب
- مُّهِيْنٌذلت کا
Translation · Al-Qurtubi
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔
Tafseer · Al-Qurtubi
ان الذین یحآدون اللہ و رسولہ جب ممونین کا ذکر کیا جو اس کی حدود پر رکج اتے ہیں تو اس کی مخالفت کرنے والوں کا بھی ذکر کیا۔ محاورہ کا معنی دشمنی کرنا اور حدود کی مخالفت کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ذلک بانھم شآقوا اللہ و رسولہ (الحشر : 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یحآدون اللہ کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی مخلافت کرتے ہیں جس طرح حدیث میں ہے من اھان لی ولیا فقد بار زنی بالمح اور بۃ جس نے میرے دوست کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا زجاج نے کہا، محادہ یہ ہے کہ تو ایسی حد میں ہو جو تیرے ساتھی کی حد کی مخالف ہو۔ اس کا اصل معنی ممانعت ہے اسی سے لفظ حدید ہے اسی سے لفظ حداد ہے، یعنی لوہار۔
کبتوا ابوعبید اور اخفش نے کہا : انہیں بلاک کردیا گیا۔ قتادہ نے کہا : انہیں ذلیل و رسوا کیا گیا جس طرح ان سے قبل لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا۔ ابن زید نے کہا : انہیں عذاب دیا تھا۔ سدی نے کہا : ان پر لعنت کی گئی۔ فراء نے کہا : خندق کے روز انہیں غیظ و غضب میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا، بدر کے روز انہیں غیض و غضب میں مبتلا کیا گیا مراد مشرک ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد منافق ہیں۔ کما کبت الذین من قبلھم
ایکقول یہ کیا گیا ہے کہ کبتوا سے مراد ہے انہیں ذلیل و رسوا کیا جائے گا یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کو مدد کی بشارت ہے کلام کو ماضی کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایاج ائے کہ جس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے وہ قریب ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مذحج کی لغت میں ہے۔
وقد النزلنا ایت بینت جنہوں نے اللہ اس کے رسول کی مخالفت کی جو ان لوگوں میں سے تھے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے ساتھ جو ہم نے کیا اس بارے میں ہم نے آیات کو نازل کیا۔ وللکفرین عذاب مھین
یوم پر نصب عذاب مہین کی وجہ سے ہے یا ایسے فعل کے ساتھ ہے جو مضمر ہے اس کی تقدیر ہے اذکر تعظیما للیوم (1) ۔ یبعثمم اللہ جمعاً مردوں اور عورتوں کو ان کی قبروں سے ایک ہی حالت میں اٹھائے گا۔
فینبھم یعنی انہیں خبر دے گا۔ بما عملوا دنیا میں جو عمل کرتے رہے احصہ اللہ، اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کے صحیفوں کو شمار کر رکھا ہے ونسوہ وہ اسے بھول چکے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے اعمال کے صحیفوں میں یاد کرایا تاکہ حجت ان پر زیادہ بلیغ ہوجائے۔ واللہ علی کل شیء شھید۔ اللہ تعالیٰ مطلع ہے اور دیکھ رہا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔