تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 4

  1. فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿4﴾

    1. فَمَنْ لَّمْ يَجِدْتو جو کوئی نہ پائے
    2. فَصِيَامُتو روزے
    3. شَهْرَيْنِدو مہینے
    4. مُتَتَابِعَيْنِلگاتار
    5. مِنْ قَبْلِاس سے قبل
    6. اَنْ يَّتَمَآسَّا ۚکہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں
    7. فَمَنْپھر، جس
    8. لَّمْ يَسْتَطِعْاسے مقدور نہ ہو
    9. فَاِطْعَامُتو کھانا کھلائے
    10. سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ۭساٹھ مساکین کو
    11. ذٰلِكَیہ
    12. لِتُؤْمِنُوْا باللّٰهِاس لئے کہ تم ایمان رکھو اللہ پر
    13. وَرَسُوْلِهٖ ۭاور اس کے رسول
    14. وَتِلْكَاور یہ
    15. حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭاللہ کی حدیں
    16. وَلِلْكٰفِرِيْنَاور نہ ماننے والوں کے لئے
    17. عَذَابٌ اَلِيْمٌعذاب دردناک
Translation · Al-Qurtubi
جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کفارہ کا ذکر ترتیب وار کیا ہے روزے رکھنے کی صورت نہ ہوگی یہاں تک غلام آزاد کرنے سے عاجز نہ ہو اسی طرح کھانا اس وقت تک نہیں کھلا سکتا جب تک روزے رکھنے پر قادر ہو جو آدمی روزے نہیں رکھ سکتا اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا ہر مسکین کے لئے نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد لازم ہوں گے اگر اس نے ہشام کی مد سے کھانا دیا تو 1/2/3 یا نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب 1/1/2 مدد یا تو بھی جائز ہوجائے گا۔ ابو عمر بن عبدالبر نے کہا، افضل، نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ ظہار میں یہ ارشاد نہیں فرمایا : من اوسط ماتطعمون (المائدہ : 89) اس لئے سیر ہو کر کھلانے کا ارادہ واجب ہے۔ ابن عربی نے کہا، امام مالک نے ابن قاسم اور ابن عبدالحکم کی روایت میں کا ایک مد ہشام کے مد کے حساب سے اور اسی سے یہاں سیر ہوا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طعام کو مطلق ذکر کیا ہے اور وسط کا ذکر نہیں کیا۔ اشہب کی روایت میں ہے : نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد۔ انہیں کہا گیا، کیا تو ہشام کی مد کے حساب سے نہیں کہا کرتا تھا ؟ کہا : کیوں نہیں نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے مد مجھے زیادہ محبوب ہیں، ابن قاسم نے بھی اس سے اسی طرح نقل کیا۔ میں کہتا ہوں : یہ ابن وہب اور مطرف کی امام مالک سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی مد کے حساب سے دو مد دے، یہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے۔ امام شافعی وغیرہ علماء کا مذہب یہ ہے کہ ہر مسکین کو ایک مدد سے اس پر اس سے زائد لازم نہیں ہوگا کیونکہ وہ کھانا کھلانے کی صورت میں کفارہ ادا کر رہا ہے اس پر ایک مد سے زیادہ دینا لازم نہیں ہوگا۔ اس کی بنیاد روزہ توڑنے اور قسم کا کفارہ ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاطمام ستین مکسی ناً اور اطعام جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مراد سیر ہونا ہے۔ یہ عادت کے مطباق ایک مد سے نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے ہوتا ہے۔ اشہب نے اسی طرح کہا ہے کہ میں نے امام مالک سے کہا، کیا ہمارے اور تمہارے درمیان سیر ہونا مختلف ہے ؟ فرمایا : ہاں ہمارے نزدیک سیر ہونا نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے ایک مد سے ہوتا ہے اور تمہارے نزدیک اس سے زیادہ سے ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے حق میں برکت کی دعا کی ہے تمہارے بارے میں برکت کی دعا نہیں کی، تم ہماری بنسبت زیادہ کھاتے ہو (1) ابو الحسن قابسی نے کہا، اہل مدینہ نے کفارہ ظہار میں ہشام کے مد کا حساب لگایا مقصد ظہار کرنے والوں پر سختی کرنا تھا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی کہ وہ منکر اور جھوٹ بولتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا (2): یہاں گفتگہ ہشام کے مد کے بارے میں ہے جس طرح تم دیکھتے ہو میں پسند کرتا ہوں کہ زمانہ اس کا ذکر مٹا دے اور تکابوں سے اس کا نشان مٹا دے کیونکہ مدینہ طیبہ جہاں وحی نازل ہوئی، رسول اللہ ﷺ وہاں مقیم ہے وہاں ہی ظہار واقع ہوا۔ اس کے بارے میں انہیں حکم دیا فاطعام ستین مکسی ناً انہوں نے اس حکم کو سمجھا اور اس کی مراد کو سمجھا اور یہی سیر ہونا ہے ان کے نزدیک اس کی مقدار معروف تھی۔ اس سیر ہونا کا ذکر روایات میں کثرت سے ہو اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں اس پر عمل ہوتا رہا یہاں تک کہ شیطان نے ہشام کے کان میں یہ پھونکا اور اس نے یہ رائے قائم کی کہ نبی کریم ﷺ کا مد بندے کو سیر نہیں کرتا شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا کہ وہ ایک ایسا مد بنائے جس میں انسان سیر ہوجائے تو اس نے مد کو دور طل کا بنا دیا اور لوگوں کو اس پر مجبور کیا جب وہ بیمار سے صحت یاب ہوا تو اس نے مدتیں رطل کا بنا دیا، اس نے سنت کو تبدیل کردیا اور برکت کے محل کو ختم کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے جب اپنے رب سے اہل مدینہ کے لئے دعا کی کہ ان کے مد اور صاع میں برکت رکھے جس طرح حضرت ابراہیم کی دعا سے اہل مکہ کے مد میں برکت رکھی نبی کریم ﷺ کی دعا سے ان کے مد میں برکت جاری رہی شیطان نے اس سنت کو تبدیل کرنے اور اس برکت کو ختم کرنے کیلئے کوشش کی ہشام کے علاوہ اس کی کسی نے بات نہیں کی۔ علماء پر لازم ہے کہ وہ اس کے ذکر کو لغو قرار دیں اور اس کے نشان کو مٹا دیں جب وہ اس کے امر کو لغو قرار نہیں دیتے مگر جب وہ احکام میں اس کا ذکر کریں اور اللہ تعالیٰ اور اور اس کے رسول نے جو ذکر کیا ہے اس کی اسے تفسیر بنائیں جب کہ یہ امر صحابہ پر پہلے ہی منتشر تھا جن پر یہ حکم نازل ہوا تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی، اس وجہ سے اشہب کی روایت جس میں نبی کریم ﷺ کے مد کا ذکر ہے میرے نزدیک اس روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے جس میں ہشام کے مد کا ذکر ہے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ امام مالک نے کیسے اس امر پر متنبہ کیا جس قول کا ذکر اشہب نے کیا ہمارے نزدیک سیر ہونا نبی کریم ﷺ کے مد سے ہے اور تمہارے نزدیک سیر ہونا زیادہ سے ہوتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے حق میں برکت کی دعا کی ہے اسی وجہ سے میں یہ قول کرتا ہوں، کیونکہ و عبادت جو سنت طریقہ کے مطابق کی جائے اگر وہ بدنی ہو تو جلدی قبول ہوجاتی ہے اگر ملای ہو تو تھوڑی بھی میزان میں بھاری ہوتی ہے پکڑنے والے کے ہاتھ میں زیادہ برکت والی ہوتی ہے، منہ میں زیادہ پاکیزہ اور پیٹ میں کم آفت کا باعث اور زیادہ قوت کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ ساٹھ سے کم مکسی نوں کو کھانا کھلائے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا، اگر ہر روز ایک ہی مسکین کو نصف صاع دے یہاں تک کہ ساٹھ کا عدد پورا ہوجائے تو یہ اس کے لئے کافی ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 3۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا، عجیب و غریب بات یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ (٭) نے کہا : آزاد آدمی پر حجر کرنا باطل ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان فتحریر رقبۃ سے استدلال کیا ہے مگر رشید اور سفیہ میں فرق نہیں کیا۔ یہ کمزور فقفہ ہے جو ان کی شان کے مناسب نہیں۔ یہ آیت عام ہے اور اصحاب رسول میں حجر کا فیصلہ عام تھا اور مصالح کو پیش نظر رکھنا اس کا تقاضا کرتا ہے جس پر چھوٹی عمر یا ولایت کی وجہ سے حجر ہو اور وہ سفیہ کی حیثیت میں بالغ ہو مال اسے دینے سے منع کیا ہے تو اس کا عمل اس میں کیسے نافذ ہو گاڈ جب کہ خاص، عام پر غالب آجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ بعض علماء کے نزدیک ظہار کا حکم اس ظہار کے لئے ناسخ ہے جو ان لوگوں میں طلاق کے طور پر موجود تھا، اس کا ہم معنی قول حضرت ابن عباس ابو قلابہ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ کفارہ میں جس تغلیظ کا ذکر کیا ہے اس لئے ہے کہ تم اس بات کی تصدیق کرو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ کفارہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے جب اس کا ذکر کیا تو اسے واجب کردیا۔ فرمایا : یہ اس لئے ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے مطیع ہو جائو، اس کی قائم کردہ حدود پر رک جائو ان سے تجاوز نہ کرو اسے تکفیر کا نام دیا کیونکہ یہ طا اعت ہے اور ایمان کی حیثیت سے حد کی رعایت کرنا ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز جو اس کے مشابہ ہو وہ ایمان ہے اگر یہ سوال کیا جائے : اس کا معنی یہ ہے کہ تم ظہار کی طرف نہ لوٹو جو منکر قول اور جھوٹ ہے۔ اسے کہا جائے گا، یہ جائز ہے کہ یہ مقصود ہو اور پہلا قول بھی مقصود ہو اور معنی یہ ہو کہ یہ اس لئے ہے کہ تم قول منکر اور جھوٹ کی طرف نہ لوٹو بلکہ تم اللہ تعالیٰ کی طاعت کرتے ہئے ان دونوں کو چھوڑ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور جن عورتوں سے ظہار کیا ہے ان سے اجتناب کرو یہاں تک کہ تم کفارہ دے لو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتوں سے حقوق زویجت ادا کرنے سے منع کیا ہے اور کفارہ ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ کا حکم دیا ہے اور اس کی ادائیگی کو لازم کیا ہے اس کے ساتھ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اولے ہو جائو گے کیونکہ ایسی حدود ہیں جس کی تم حفاظت کر رہے ہو اور ایسی اطاعتیں ہیں جن کو تم ادا کرتے ہو اور اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی توفیق دینے والی ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ وتلک حدود اللہ اپنی نافرمانی اور اپنی طاعت کو بیان کیا اس کی معصیت ظہار ہے اور اس کی طاعت کفارہ ہے للکفرین عذاب الیم۔ جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تصدیق نہ کرے اس کے لئے عذاب جہنم ہے۔