تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 8
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿8﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- اِلَى الَّذِيْنَان لوگوں کو جنہیں
- نُهُوْامنع کیا گیا
- عَنِ النَّجْوٰىسرگوشی سے
- ثُمَّ يَعُوْدُوْنَپھر وہ (وہی) کرتے ہیں
- لِمَاوہ (بات) جو
- نُهُوْامنع کیا گیا انہیں
- عَنْهُاس سے
- وَيَتَنٰجَوْنَوہ باہم سرگوشی کرتے ہیں
- بِالْاِثْمِگناہ سے، کی
- وَالْعُدْوَانِاور سرکشی
- وَمَعْصِيَتِاور نافرمانی
- الرَّسُوْلِ ۡرسول
- وَاِذَااور جب
- جَآءُوْكَوہ آتے ہیں آپ کے پاس
- حَيَّوْكَآپکو سلام دعا دیتے ہیں
- بِمَاجن سے
- لَمْ يُحَيِّكَآپ کو دعا نہیں دی
- بِهِ اللّٰهُ ۙاس (لفظ) سے اللہ
- وَيَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- فِيْٓ اَنْفُسِهِمْاپنے دل (جمع) میں
- لَوْلَاکیوں نہیں
- يُعَذِّبُنَاہمیں عذاب دیتا
- اللّٰهُاللہ
- بِمَااس کی جو
- نَقُوْلُ ۭہم کہتے ہیں
- حَسْبُهُمْان کے لئے کافی ہے
- جَهَنَّمُ ۚجہنم
- يَصْلَوْنَهَا ۚوہ ڈالے جائیں گے اس میں
- فَبِئْسَسو بُرا
- الْمَصِيْرُٹھکانا
Translation · Al-Qurtubi
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں ٫) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اسکی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ (اے بیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہونگے اور وہ بری جگہ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ الم تر الی الذین نھوا عن النجوی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں ہے جیسا پہلے ہم نے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مومنوں کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ مومنوں کو دیکھتے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے۔ مومن کہتے : شاید انہیں ہمارے مہاجر اور انصاری بھائیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں شہادت، مصیبت اور ہزیمت کے بارے میں خبر پہنچی ہے۔ یہ امر انہیں پریشان کرتا ان کی شکایات نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں زیادہ ہوگئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں نجوی سے منع کیا تو وہ نہ رکے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مقاتل نے کہا، نبی کریم ﷺ اور یہودیوں کے درمیان لاتعلقی سی تھی جب کوئی مومن ان کے پاس سے گزرتا تو وہ آپس میں مشورہ کرتے یہاں تک کہ مومن کسی برائی کا گمان کرتا تو وہ مومن اپنا راستہ چھوڑ دیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع کیا تو وہ نہ رکے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے کہا، کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپنی ضرورت پیش کرتا اور سرگوشی کا اندازہ اپناتا ان دنوں جنگ کا دور دور تھا صحابہ کرام یہ گمان کرتے کہ یہ آدمی آپ سے جنگ، مصیبت یا کسی اہم امر کے بارے میں سرگوشی کر رہا ہے تو اس وجہ سے صحابہ کرام گھبرا جاتے تو یہ آیت نازل ہوئی (1)
مسئلہ نمبر 2۔ حضرت ابو سعید خدرمی نے روایت نقل کی ہے : ایک روز ہم گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے پوچھا :” یہ سرگوشیاں کیا ہیں ؟ کیا تم سرگوشی سے باز نہیں آئو گے ؟ ‘ ہم نے عرض کی : ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا یا رسول اللہ ہم دجال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جب کہ ہم ڈر رہے تھے۔ فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس امر کے بارے میں خبر نہ دوں جو میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ “ ہم نے عرض کی : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا :” شرک خفی، وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی آدمی کے ہاں مقام و مرتبہ حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرنے لگے۔ “ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ حمزہ، خلف اور رویس نے یعقوب سے وینتجون، یفتعلون کے وزن پر پڑھا ہے، یہ حضرت عبداللہ اور ان کے اصحاب کی قرأت ہے باقی قراء نے ویناجون، یتفاعلون کے وزن پر پڑھا ہے، ابوعبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذا تنا جیتم اور تتناجوا۔ نحاس نے کہا، سیبویہ نے حکایت بیان کی ہے کہ باب تفاعل اور افتعال ایک ہی معنی میں آتے ہیں جس طرح تخاصموا اور اختصموا تقاتلوا اور اقتلوا اسی وجہ سے یناجون اور ینتجون ہم معنی ہیں بالاثم والعدوان مراد جھوٹ اور ظلم ہے۔ ومصیت الرسول رسول اللہ کی مخالفت۔ ضحاک، مجاہد اور حمید نے و معصیات الرسول جمع کے صیغہ کے طور پر پڑھا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ واذا جآءوک حیوک بما لم یحبک بہ اللہ علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس کا مصداق یہودی ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور کہتے : السام علیک وہ ظاہر میں سلام اور باطن میں موت مراد لیتے نبی کریم ﷺ انہیں کہتے ” علیکم ‘ یہ ایک روایت میں ہے اور دوسری روایت میں ہے وعلیکم۔ ابن عربی نے کہا، یہ مشکل ہے (1) وہ کہا کرتے تھے : اگر محمد ﷺ نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں گالی دینے اور انہیں حقیر جاننے کے باوجود ہمیں ملہت نہ دیتا اور اس امر سے ناواقف تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حلیم ہے جو اس کو گالی دیتا ہے اس کے بارے میں جلدی نہیں کرتا تو جو اس کے نبی کو گالی دے گا اس کے بارے میں کیوں جلدی کرے گا ؟ یہ بات تو ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ” اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر اذیت پر صبر کرنے والا کوئی نہیں۔ لوگ اس کے لئے بیوی اور بچے کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ انہیں عافیت عطا فرماتا ہے اور انہیں رزق عطا فرماتا ہے “ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو ان کے رازوں کو ظاہر کرنے، ان کے باطن کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے نازل فرمایا تاکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے معجزہ ہوجائے۔ قتادہ نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے کہا، السام علیکم نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا اور پوچھا :” کیا تم جاتنے ہو اس نے کیا کہا ؟ “ صحابہ نے عرض کی : اللہ و رسولہ اعلم۔ فرمایا :” اس نے یہ کہا، اے میرے پاس و اس لائو۔ “ صحابہ اسے واپس لائے فرمایا :” تو نے کہا السام علیکم “ اس نے کہا، ہاں اس موقع پر بنی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو کہو تجھ پر وہی جو تو نے کہا “ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
میں نے کہا، امام ترمذی نے اس کی تخریج کی ہے، کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے یہ بات ثابت ہے انہوں نے کہا : کچھ یہودی لوگ نبیک ریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا، السام علیک یا اباالقاسم ! تو میں نے کہا، السام علیکم و فعل اللہ بکم و فعل۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اے عائشہچ رک جائو اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ دیکھتے نہیں وہ کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نہیں دیکھتی کہ میں انہیں وہی جواب دیتا ہوں جو وہ کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وعلیکم “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ پر سلام بھیجتا ہے اور وہ کہتے ہیں : السام علیک اور سام سے مراد موت ہے : اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے اور امام مسلم نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ صحیحین میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم کہو وعلیکم “ روایت اسی طرح ہے یعنی وعلیکم۔ علماء نے اس بارے میں گفتگو کی ہے کیونکہ وائو عاطفہ شرکت کا تقاضا کرتی ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ انہوں نے ہمارے بارے میں جس موت کی دعا کی ہے وہ ان پر بھی واقع ہو یا یہ سامۃ سے مشتق ہے جس کا معنی اکتا جاتا ہے۔ یہ کہا اجتا ہے : سئم یسئم سامۃ وساما بعض نے کہا، وائو زائدہ ہے جس طرح شاعر کے شعر میں
لما اجرنا ساحۃ الحی واستحی
اصل کلام یہ ہے لما اجرنا استحی یہاں وائو زائدہ ہے۔ بعض نے کہا، وائو مستانفہ ہے گویا کہا : والسام علیکم۔ بعض نے کہا، یہ وائو عاطفہ ہے اور ہمیں کوئی تکلیف نہیں دیتی کیونکہ جب ہم ان کے حق میں بد دعا کرتے ہیں تو ہماری بد دعا قبول کی جاتی ہے اور ہمارے بارے میں ان کی بد دعا قبول نہیں کی جاتی، جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا زبیر نے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو کہتے ہوئے سنا کچھ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں سلام کیا تو کہا، السام علیک یا ابا القاسم ! تو فرمایا : وعلیکم حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، میں غصے ہوگئی عرض کی : الم تسمع ماقالو ؟ کیا وہ جو کہتے ہیں آپ سنتے نہیں ؟ فرمایا :” کیوں نہیں میں نے اسے سنا ہے میں نے انہیں جواب دیا ہے۔ ان کے بارے میں ہماری بد دعا قبول کی جاتی ہے اور ان کی بد دعا ہمارے بارے میں قبول نہیں کی جاتی۔ “ امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے وائو کی روایت معنی کے اعتبار سے اچھی ہے اس کا ثبات رکھنا زیادہ صحیح ہے اور زیادہ مشہور ہے۔
اہل ذمہ کو سلام کا جواب دینے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ واجب ہے جس طرح مسلمانوں کو جواب دینا واجب ہے ؟ حضرت ابن عباس، شعبی اور قتادہ نے کہا، یہ واجب ہے۔ امام مالک اس طرف گئے ہیں کہ جواب دینا واجب نہیں، یہ اشہب نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ اگر تو اسے جواب دے تو تو کہہ علیک ابن طائوس نے جواب میں یہ کہنا پسند کیا ہے، علاک السلام۔ یعنی سلامتی تجھ سے اٹھ چکی ہے۔ ہمارے بعض اصحاب نے کہا : السلام سین کے کسرہ کے ساتھ ہے مراد پتھر ہے۔ امام مالک نے جو کہا ہے سنت کی اتباع میں یہ الوی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسروق نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں یہودی آئے انہوں نے کہا : السام علیک یا ابالقاسم ! فرمایا : وعلیکم۔ حضرت عائشہ صدیہ نے کہا، میں نے کہا : بل علیکم السام و الذام۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے عائشہ ! فحش گفتگو کرنے والی نہ بن۔ “ حضرت عائشہ نے کہا، انہوں نے جو کہا اس کو آپ نے نہیں سنا۔ فرمایا :” انہوں نے جو کچھ کہا کیا میں نے اسے لوٹا نہیں دیا ؟ میں نے کہا وعلیکم “ ایک روایت میں ہے۔ حضرت عائشہ انہیں بھانپ گئیں تو انہیں گالیاں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے عائشہ ! رک جائو اللہ تعالیٰ فحش اور نفش کو پسند نہیں کرتا “ کچھ زائد ارشاد فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیتک و نازل فرمایا : الذام میم کی تخفیف کے ساتھ ہے جس کا معنی عیب ہے ضرب المثل میں ہے لاتعدم الحسناء ذاما۔ حسینہ عیب سے خالی ہوتی ہے۔ کبھی اس میں ہمزہ لایا جاتا ہے اور کبھی نہیں لایا جاتا یہ کہا اجتا ہے : ذامہ یذامہ جس طرح ذاب یذاب اس کا اسم مفعول مذ وم ہے یہ مہموز ہے اس سے مذءوما مدحوراً (الاعراف : 18) ہے یہ کہا جاتا ہے : ذامہ یذرمہ جس طرح رامہ، یرومہ۔
ویقولون فی انفسم لو لا یعذبنا اللہ بما نقول انہوں نے کہا : اگر حضرت محمد ﷺ نبی ہوتے تو ہم جو کچھ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور عذاب دیتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو کہتے وہ ہمیں جواب دیدتا ہے اور کہتا ہے وعلیکم السام اور سام کا معنی موت ہے اگر وہ نبی ہوتا تو ہمارے بارے میں اسکی دعا قبول کی جاتی اور ہم مر جاتے۔ یہ ان کی جانب سے تعجب کا موقع ہے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ انبیاء کبھی غضب ناک ہوتے ہیں تو جن پر وہ غضب ناک ہوتے ہیں ان کو جلدی عذاب نہیں دیا جاتا۔
حسبھم جھنم دارآخرت میں سزا کے طور پر جہنم ان کے لئے کافی ہے فبئس المصیر۔ یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے۔