تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 59. Al-Hashr · Ayah 12
لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿12﴾
- لَئِنْاگر
- اُخْرِجُوْاوہ جلا وطن کئے گئے
- لَانہ
- يَخْرُجُوْنَوہ نکلیں گے
- مَعَهُمْ ۚان کے ساتھ
- وَلَئِنْاور اگر
- قُوْتِلُوْاان سے لڑائی ہوئی
- لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ ۚوہ ان کی مد د نہ کریں گے
- وَلَئِنْاور اگر
- نَّصَرُوْهُمْوہ ان کی مدد کرینگے
- لَيُوَلُّنَّتو وہ یقیناً پھیریں گے
- الْاَدْبَارَ ۣپیٹھ (جمع)
- ثُمَّپھر
- لَا يُنْصَرُوْنَوہ مدد نہ کئے جائینگے
Translation · Al-Qurtubi
اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں کے۔ اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو ان کی مدد نہیں کرینگے اور اگر مدد کرینگے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو (کہیں سے بھی) مددنہ ملے گی۔
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات۔ 12۔
تفسیر
یعنی وہ شکست کھا کر پیٹھ پھیرجائیں گے پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خوشی خوشی ان کی مدد نہ کریں گے۔ اگر وہ مجبوراً مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کی ہمیشہ مدد نہیں کریں گے۔ یہ تعبیر اس وقت ہوگی جب دونوں ضمیروں کا مصداق ایک ہو۔ اگر مصداق مکتلف ہو تو اس کا معنی ہے اگر یہودیوں نے منافقین کی مدد کی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ……… اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اگر یہودیوں کو نکالا گیا تو منافق ان کے ساتھ نکلیں گے۔ ولئن قوتلو الا ینصرونھم اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بھی تھا کہ اگر ان سے قتال کیا گیا ہے تو منافق ان کی مدد نہ کریں گے۔ پھر فرمایا : ……تو یہ گفتگو اس انداز میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(الانعام : 28) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی یہ ہے ولئن نصروھم یعنی اگر ہم چاہیں کہ وہ ان کی مدد کریں تو یہ امر ہم انکے لئے مزین کردیں گے لیولن الادبار۔