تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿1﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والو
    3. لَا تَتَّخِذُوْاتم نہ بناؤ
    4. عَدُوِّيْمیرا دشمن
    5. وَعَدُوَّكُمْاور اپنے دشمن
    6. اَوْلِيَآءَدوست
    7. تُلْقُوْنَتم پیغام بھیجتے ہو
    8. اِلَيْهِمْان کی طرف
    9. بِالْمَوَدَّةِدوستی سے، کا
    10. وَقَدْ كَفَرُوْااور وہ منکر ہوچکے ہیں
    11. بِمَااس کے جو
    12. جَآءَكُمْتمہارے پاس آیا
    13. مِّنَ الْحَقِّ ۚحق سے
    14. يُخْرِجُوْنَوہ نکالتے (جلاوطن کرتے) ہیں
    15. الرَّسُوْلَرسول
    16. وَاِيَّاكُمْاور تمہیں بھی
    17. اَنْ تُؤْمِنُوْاکہ تم ایمان لاتے ہو
    18. بِاللّٰهِاللہ پر
    19. رَبِّكُمْ ۭتمہارا رب
    20. اِنْاگر
    21. كُنْتُمْ خَرَجْتُمْتم نکلتے ہو
    22. جِهَادًاجہاد کیلئے
    23. فِيْ سَبِيْلِيْمیرے راستے میں
    24. وَابْتِغَآءَاور چاہنے کے لئے
    25. مَرْضَاتِيْ ڰمیری رضا
    26. تُسِرُّوْنَتم چھپا کر (بھیجتے ہو)
    27. اِلَيْهِمْان کی طرف
    28. بِالْمَوَدَّةِ ڰدوستی (کا پیغام)
    29. وَاَنَااور میں
    30. اَعْلَمُخوب جانتا ہوں
    31. بِمَآوہ جو
    32. اَخْفَيْتُمْتم چھپاتے ہو
    33. وَمَآاور جو
    34. اَعْلَنْتُمْ ۭتم ظاہر کرتے ہو
    35. وَمَنْ يَّفْعَلْهُاور جو یہ کرے گا
    36. مِنْكُمْتم میں سے
    37. فَقَدْ ضَلَّتو تحقیق وہ بھٹک گیا
    38. سَوَآءَسیدھا
    39. السَّبِيْلِراستہ
Translation · Al-Qurtubi
مومنو ! ! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناو تم تو انکو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر اتخذ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ وہ عدوکم اولیاء ہے عدویہ عدا سے فعول کا وزن ہے جس طرح عفو، عفا سے ہے کیونکہ اس کا وذن مصدر کا ہے اس طرح یہ جمع پر اس طرح صادق آتا ہے جس طرح واحد پر صادق آتا ہے۔ اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا……… ائمہ نے حضرت علی شیرا خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے جبکہ الفاط امام مسلم کے ہیں (1) ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو بھیجا۔ فرمایا : ” روضہ خاخ (جگہ کا نام) جائو وہاں ایک ہودج میں عورت ہوگی اس کے پاس خط ہے وہ خط اسے لے لو “۔ ہم چلے ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر دوڑ رہے تھے تو اچانک ہم اس عورت تک جا پہنچتے ہیں ہم نے کہا : خط نکال دو ۔ اس نے کہا : میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا : خط نکال دو یا تو اپنے کپڑے اتارے گی۔ اس نے اپنے جوڑے سے وہ خط نکال دیا۔ ہم وہ خط رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے تو اس میں یہ تھا۔ “ حاطب ب ابی بلتعہ کی جانب سے اہل مکہ کے مشرکوں کی جانب “۔ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارادہ کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ “ عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھ پر جلدی نہ کیجئے۔ میں ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے۔ سفیان نے کہا : وہ ان کے حلیف تھے وہ قریش کے خاندان میں سے نہ تھے۔ آپ کے ساتھ جو مہارجین ہیں وہاں ان کے رشتہ دار ہیں جو ان کے اہل کی حفاظت کرتے ہیں جب کہ میرا وہاں کوئی رشتہ نہیں تو میں نے یہ پسند کیا کہ میں ان میں ایک ایسا احسان کروں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں۔ میں نے یہ عمل کفر یا دین سے ارتداد اختیار کرتے ہوئے نہیں کیا اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس نے سچ کہا ہے “۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ فرمایا :” یہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال پر مطلع تھا اسی لئے ارشاد فرمایا : جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دی ا ہے “۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نازل فرمایا : یایھا ………۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عورت سارہ تھی جو قریش کے غلاموں میں سے تھی (2) ۔ خط میں یہ تھا اما بعد فان ……………۔ اما بعد رسول اللہ ﷺ ایک ایسے لشکر کے ساتھ روانہ ہونے والے ہیں جو رات کی مانند ہے۔ سیلاب کی طرح چلے گا۔ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں اگر آپ صرف اکیلے ہی تمہاری طرف چلیں تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو تم پر کامیابی عطا فرمائے گا وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے گا بیشک اللہ تعاولیٰ اس کا حمایتی اور مددگار ہے ؛ یہ بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ قشیری اور ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ یم کے باشندے تھے ان کا مکہ مکرمہ میں بنی اسد بن عبد العزی جو حضرت زبیر بن عوام کا خاندان تھا سے معاہدہ تھا ،۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت زبیر بن عوام کے حلیف تھے۔ مکہ مکرمہ سے ابو عمرو بن صیفی بن ہشام بن عبد مناف کی لونڈی سارہ مدینہ طیبہ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لئے لشکر کی تیاری میں مصروف تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حدیبیہ کا سال تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے سارہ کیا تو ہجرت کر کے آئی ہے ؟ “ اس نے عرض کی : نہیں۔ پوچھا :” کیا تو مسلمان ہو کر آئی ہے ؟ “ اس نے عرض کی : نہیں۔ پوچھا :” کس وجہ سے آئی ہو ؟ “ اس نے عرض کی : آپ لوگ ہی میرے اہل، آقا، اصل اور خاندان تھے سب آقا تو چلے گئے یعنی غزوہ بدریں قتل ہوگئے۔ میں سخت مصیبت کا شکار ہوگئی میں آپ لوگوں کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئی ہوں تاکہ تم مجھے مال اور لباس دو ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اہل مکہ کے جوانوں کا تیرے ساتھ کیا سلوک ہے ؟ “ وہ لونڈی مغنیہ تھی۔ اس نے عرض کی : واقعہ غزوہ بدر کے بعد مجھ سے کسی نے گانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی عبد المطلب اور بنی مطلب کو رغبت دلائی کہ وہ اسے مال عطا کریں۔ انہوں نے اسے مال عطا کیا، لباس دیا اور اسے سواری دی اور وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئی۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اس کے پاس آئے فرمایا : میں تجھے دس دینار اور دھاری دار چادریں دوں گا مگر شرط یہ ہے کہ تو میرا یہ خط اہل مکہ تک پہنچا دے۔ خط میں یہ تحریر تھی۔ رسول اللہ ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں اس لئے محتاط رہو۔ سارہ لونڈی وہاں سے نکلی تو حضرت جبریل امین حاضر ہوگئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس بارے میں آگاہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو بھیجا۔ ایک روایت میں ہے : حضرت علی اور حضرت عمار بن یاسر کو بھیجا۔ ایک روایت میں ہے : حضرت علی، حضرت عمار، حضرت عمر، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت مقداو ور حضرت ابو مرثد کو بھیجا۔ یہ سب شاہسوار تھے۔ انہیں فرمایا :” تم چلو یہاں تک کہ تم روضہ خاخ پہنچو گے۔ وہاں ہودج میں ایک عورت ہوگی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا مشرکوں کے نام خط ہوگا، وہ اس سے لے لینا اور اسے چھوڑ دینا۔ اگر وہ خط تمہیں نہ دے تو اسے قتل کردینا “۔ ان صحابہ نے اسے وہاں ہی پایا۔ صحابہ نے پوچھا : خط کہاں ہے ؟ اس نے قسم اٹھا دی اس کے پاس کوئی خط نہیں۔ صحابہ نے اس کے سامان میں خط کو تلاش کیا خط اس میں نہ ملا۔ صحابہ نے واپس لوٹنے کا ارادہ کرلیا۔ حضرت علی شیر خدا نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے ہم سے جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی ہم نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ اور اپنی تلوار سونت لی۔ فرمایا : خط نکال دو بصورت دیگر میں تیرے کپڑئے اتادوں گا اور تیری گردن اتاردوں گا۔ جب اس نے آپ کے پختہ ارادہ کو دیکھا تو خط اپنی مینڈھیوں سینکال دیا۔ ایک روایت میں ہے : جہاں تہہ بند باندھا جاتا ہے وہاں سے نکال دیا۔ انہوں نے اسے جانے دیا اور خط رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب کو بلا بھیجا پوچھا : ” کیا تو یہ خط پہنچانتا ہے “۔ عرض کی : جی ہاں۔ پھر تمام واقعہ بیان کیا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے تمام لوگوں کو امان دے دی مگر چار افراد کو امان نہ دی یہ سارہ لونڈی ان میں سے ایک تھی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ سورت کفار کے ساتھ دوستی سے نہی میں اصل ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے جیسے ……(آل عمران : 188)……(المائدہ :51) اس جیسی کثیر آیات ہیں۔ حضرت حاطب بن بلتعہ کو جب مومن ہونے کی حیثیت میں خطاب کیا گیا تو ان پر غشی طاری ہوگئی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ……تم ظاہر سے ان کی طرف محبت کا اظہار کرتے ہو (1) کیونکہ حضرت حاطب کا دل اس سے محفوظ تھا اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد تھا نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : اما صاحبک فقد صدق جہاں تک تمہارے ساتھی کا تعلق ہے تو اس نے سچ کہا ہے۔ یہ ارشاد اس کے دل کی سلامتی اور اعتقاد کے درست ہونے پر نص ہے۔ بالودۃ میں باء زائدہ ہے جس طرح تو کہتا ہے : قرات السورۃ، قرات بالسورۃ۔ رمیت الیہ ما فی نفسی رمیت الیہ بما فی نفسی یہ بھی جائز ہے کہ باء زائدہ نہ ہو اس صورت میں تلقون کا مفعول مخدوف ہوگا۔ اس کا معنی ہوگا تم رسول اللہ ﷺ کی خبریں ان کو پہچانتے ہو کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان محبت موجود ہو (2): اسی طرح …… میں باء سیبیہ ہے۔ فراء نے کہا : …… میں باء اولیاء سے متعلق ہے اور مودۃ پر باء داخل کرتا اور داخل نہ کرنا برابر ہے۔ یہ بھی جائز ہے یہ … کے ساتھ متعلق ہو او حال ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا تعلق اولئاء کے ساتھ ہو اور یہ صفت ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو۔ …… تم مسلمانوں کے رازا نہیں بتاتے ہو اور ان کے مخلص بنتے ہو ؛ یہ زجاج کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جو مسلمانوں کے رازوں پر آگا ہو اور ان کی خبریں دشمنوں کو بتائے اگر اس کا فعل دنیوی غرض کے لئے ہو تو اس وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا جبکہ اس کا اعتقاد صحیح ہو جس طرح حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ نے ان پر احسان کے رادہ سے ایسا کیا اور دین سے ارتداد کی خاطر ایسا نہیں کیا۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ جب ہم نے یہ کہا کہ وہ اس کی وجہ سے کافر نہیں، کیا وہ اس جرم کی وجہ سے حدا قتل کیا جائے گا یا نہیں ؟ علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ امام مالک، ابن قاسم اور اشہب نے کہا : امام اس میں اجتہاد کرے گا۔ عبد الملک نے کہا : ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کی کاوش سے زمین میں فساد برپا ہوا ہے۔ ابن ماجثون نے اس میں تکرار کو بنیاد بنایا ہے کیونکہ حضرت حاطب تو پہلی دفعہ ہی پکڑے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ اگر جاسوس کا فر ہو تو اوزاعی نے کہا : اس کو قتل اس لئے کیا جائے گا کیونکہ اس نے اپنے عہد کو توڑا ہے۔ اصبغ نے کہا : حربی جاسوس قتل کیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہوا انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو ذمی ہوا انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہو انہیں سز ادی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہو انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں مشرکوں کا ایک جاسوس پیش کیا گیا جس کا نام فرات بن حیان تھا (3) ۔ اسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا وہ چلایا اے جماعت انصار ! مجھے قتل کیا جائے گا جبکہ میں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے چھوڑ دیا گیا پھر فرمایا :” تم میں سے جسے میں اس کے ایمان کے سپرد کرتا ہوں۔ ان میں سے ایک فرات بن حیان ہے “ (1) ۔ وقد کفروا حال ہے یا تو لا تتخذوا کی ضمیر سییاتلقون کی ضمیر ہے یعنی تم ان سے دوستی اختیار نہ کرو اور تم ان سے محبت نہ کرو جبکہ اس کی یہ حالت ہو۔ حجدری نے یہ کہا : بما جاء کم کا معنی ہے انہوں نے کفر کیا کیونکہ تمہارے پاس حق آیا۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ …… یہ نئی کلام ہے جو ان کے کفر اور سرکشی کی تفسیر بیان کرتی ہے یا یہ کفروا اسے حال ہے۔ …… کی علت ہے معنی ہے وہ رسول اللہ ﷺ اور تمہیں مکہ مکرمہ سے نکالتے ہیں کیونکہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو یعنی تمہارے ایمان لانے کی وجہ سے وہ ایسا کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت حاطب بھی ان صحابہ میں سے تھے جنہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکالا گیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (2) تقدیر کلام یوں ہے۔ …………۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں حذب ہے معنی ہے اگر تم میری راہ میں جاہد اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے نکلے ہو تو ان کی طرف محبت کا پیغام نہ بھیجو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :……شرط ہے اور اسکاجواب مقدم ہے (3) ۔ معن ہے اگر تم میرے راستہ میں جہاد کے لئے نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنائو۔ جہاد اور ابتغاء مفعول لہ ہونے کی حیثیت میں منصوب ہے۔ …… کا بدل ہے اور اس کی وضاحت کر رہا ہے۔ افعال، افعال سے بدل ہوسکتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : ومن یفعل ………(الفرقان) سیبو یہ نے یہ شعر پڑھنا ہے : ………… جب تم ہمارے پاس آئو گے ہمارے گھروں میں پڑائو ڈالو گے تو تم بڑا ایندھن اور سرکش آگ دیکھو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یوں ہے ……یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہ سب حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ کو عتاب ہے۔ یہ عتاب حضرت حاطب کے فضل، کرامت اور حضور ﷺ کے لئے مخلص ہونے اور ان کے ایمان کے صدق پر دال ہے کیونکہ عتاب صرف محب کا حبیب کے لئے ہوتا ہے جس طرح شاعر نے کہا : ………… میں محبت والے دوست کو عتاب کرتا ہوں۔ جب اس کی طرف سے اجتناب مجھے شک میں ڈالتا ہے۔ جب عتاب چلا جائے تو کوئی محبت نہیں اور جب تک عتاب باقی رہے تو محبت باقی رہتی ہے۔ بالمودۃ کا معنی ہے انہیں لکھنے میں اخلاص کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا باء زائدہ ہے یا ثابت ہے زائدہ نہیں۔ وانا ……… جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ بما میں باء زائدہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : علمت کذا ولمت بکذا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں تم سے ہر ایک فرد کی ہر اس بات کو جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو یا جو تم ظاہر کرتے ہو۔ تو من کل احد محذوف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلاں اعلم و افضل من غیرہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جو تم اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہو اور جو تم اپنی زبانوں سے اقرار توحید کو ظاہر کرتے ہو سب جانتا ہوں۔ ومن یفعلہ منکم جو ان کی طرف رازداری سے پیغام بھیجتا ہے اور تم میں سے جو انہیں خط لکھتا ہے۔ فقد ضل سوا السبیل واہ راہ راست سے بھٹک گیا۔