تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 10

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿10﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاایمان والو
    3. اِذَاجب
    4. جَآءَكُمُتمہارے پاس آئیں
    5. الْمُؤْمِنٰتُمومن عورتیں
    6. مُهٰجِرٰتٍمہاجر عورتیں
    7. فَامْتَحِنُوْهُنَّ ۭتو انکا امتحان کرلیا کرو
    8. اَللّٰهُ اَعْلَمُاللہ خوب جانتا ہے
    9. بِاِيْمَانِهِنَّ ۚان کے ایمان کو
    10. فَاِنْپس اگر
    11. عَلِمْتُمُوْهُنَّتم انہیں جان لو
    12. مُؤْمِنٰتٍمومن عورتیں
    13. فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّتو تم انہیں واپس نہ کرو
    14. اِلَى الْكُفَّارِ ۭکافروں کی طرف
    15. لَا هُنَّوہ عورتیں نہیں
    16. حِلٌّ لَّهُمْحلال ان کیلئے
    17. وَلَا هُمْاور نہ وہ مرد
    18. يَحِلُّوْنَوہ حلال ہیں
    19. لَهُنَّ ۭان عورتوں کیلئے
    20. وَاٰتُوْهُمْاور تم ان کو دیدو
    21. مَّآجو
    22. اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
    23. وَلَا جُنَاحَاور کوئی گناہ نہیں
    24. عَلَيْكُمْتم پر
    25. اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّکہ تم ان عورتوں سے نکاح کرلو
    26. اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّجب تم انہیں دیدو
    27. اُجُوْرَهُنَّ ۭان کے مہر
    28. وَلَا تُمْسِكُوْااور تم نہ قبضہ رکھو
    29. بِعِصَمِناموس
    30. الْكَوَافِرِکافر عورتیں
    31. وَاسْئَلُوْااور تم مانگ لو
    32. مَآ اَنْفَقْتُمْجو تم نے خرچ کیا
    33. وَلْيَسْئَلُوْااور چاہیے کہ وہ مانگ لیں
    34. مَآجو
    35. اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
    36. ذٰلِكُمْیہ
    37. حُكْمُ اللّٰهِ ۭاللہ کا حکم
    38. يَحْكُمُوہ فیصلہ کرتا ہے
    39. بَيْنَكُمْ ۭتمہارے درمیان
    40. وَاللّٰهُ عَلِيْمٌاور اللہ جاننے والا
    41. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Al-Qurtubi
مومنو جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو) واپس دے دو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر اس آیت میں سولہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… جب اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے ساتھ دوستی کے ترک کرنے کا حکم دیا اس امر نے یہ تقاضا کیا کہ مسلمان مشرکوں کے علاقے چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔ باہم نکاح، باہم دوستی کا موکد ترین سبب تھا، تو عورتوں کی ہجرت کے احکام کو بیان کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کے سال صلح ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں سے جو بھی شخص مدینہ طیبہ آئے گا اسے ان کی طرف واپس کردیا جائے گا ابھی تحریر سے فراغت ہوئی تھی کہ حارث اسلمیہ کی بیٹی حضرت سعیدہ آگئی۔ ابھی نبی کریم و حدیبیہ میں ہی تھے اس کا خاوند آگیا جبکہ وہ کافر تھا اس کا نام صیفی بن راہب تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام مسافر مخزومی تھا۔ اس نے کہا : اے محمد ! ﷺ میری بیوی مجھے واپس کردو کیونکہ آپ نے یہ شرط تسلیم کی ابھی تحریر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی محیط آئی تو اس کے خاندان والے واپس لے جانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے خاوند عمرو بن عاص سے بھاگ آئی اس کے ساتھ اس کے دو بھائی عمارہ اور ولید تھے رسول اللہ ﷺ نے اس کے دونوں بھائیوں کو واپس بھیج دیا اور اسے روک لیا۔ قریش نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : اسے شرط کی وجہ سے واپس کردیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” شرط مردوں کے متعلق تھی عورتوں کے متعلق نہ تھی “ (2) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت عروہ سے مروی ہے : سہیل بن عمرو نے حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ پر یہ شرط لگائی کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مومنات کے بارے میں یہ آیت نازل کی (3) ۔ یہ قول اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں شرط کو اس آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو عورت آئی تھی وہ امیمہ بنت بشر تھی جو ثابت شمر کے عقد میں تھی (4) ۔ وہ ثابت سے بھاگ آئی جبکہ وہ ابھی کافر تھا اور حضرت سہل بن حنیف نے اس سے شادی کرلی تو اس کے بطن سے ان کا بیٹا عبد اللہ پیدا ہوا۔ مہدوی نے کہا : ابن وہب نے خالد سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت امیمہ بنت بشر جو بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے تھے کے بارے میں نازل ہوئی۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد سعیدہ ہے جو صیفی بن راہب کی زوجہ تھی جو اہل مکہ میں سے مشرک تھا۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ وہ عورت ام کلثوم بنت عقبہ تھی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کیا عورتیں صلح میں لفظاً شامل تھیں یا عموماً شامل تھیں (5) ؟ ایک طائفہ کا کہنا ہے : صلح میں واضح اور صراحۃ یہ شرط شامل تھی کہ عورتوں کو واپس کیا جائے گا اللہ تعالیٰ نے معاہدہ سے ان کے لوٹانے کی شر ط کو منسوخ کردیا اور اس سے منع کردیا اور مردوں کی شرط کو اسی طرح باقی رکھا جس طرح وہ تھی۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ احکام میں اپنی رائے سے اجتہاد فرماسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو خطا پر قائم نہیں رکھتا۔ علماء میں سے ایک طائفہ کا کہنا ہے صراحتہً ان کی واپسی کی کوئی شرط نہ تھی۔ معاہدہ اس پر ہوا تھا کہ جو مسلمان ہوگا اس کو واپس کردیا جائے گا۔ عموم کا ظاہر مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عموم سے عورتوں کے نکلنے کو واضح کیا اللہ تعالیٰ نے دو امور کی وجہ سے مردوں اور عورتوں میں فرق بیان کیا ہے۔ (91 اب ان کی شرمگاہیں کفار پر حرام ہیں۔ (2) وہ زیادہ رقیو القلب اور مردوں کی نسبت جلدی پھرجانے والی ہیں۔ ان میں سے جو شرک پر قائم رہیں وہ ان پر لوٹا دی جائیں گی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ فامتحوھن ایک قول یہ کیا گیا ہے (6): ان میں سے جو اپنے خاوند کو تنگ کرنا چاہتی وہ کہتی : میں عنقریب حضرت محمد ﷺ کی طرف ہجرت کر جائوں گی، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لینے کا حکم دیا۔ جس چیز کے ساتھ ان کا امتحان لیا جائے گا اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : امتحان یہ ہے کہ ان سے اللہ کے نام کی قسم لی جائے گی (1) کہ وہ خاوند سے ناراض ہو کر اور ایک علاقہ کی بجائے دوسرے علاقہ کی محبت، دنیا کے لالچ اور کسی مرد کی محبت کے لئے نہیں نکلی بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے نکلی ہے۔ جب وہ اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا دیتی تو نبی کریم ﷺ اس کے خاوند کو اس کا مہر عطا فرما دیتے اور اس نے اس پر جو خرچ کیا ہوتا وہ بھی عطا فرما دیتے اور اسے واپس نہ کرتے اللہ تعالیٰ کے فرمان فان علمتموھن… کا یہی مدعا و مقصود ہے۔ (2) امتحان یہ ہے کہ وہ یہ گواہی دے ………، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ (3) جس کی وضاحت بعد میں اسی سورت میں کی گئی ہے۔ ………۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا (2): رسول اللہ ﷺ اس آیت کے ساتھ آزماتے اذ جائک ……۔ اسے معمر نے زہری سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ،۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت اس معاہدہ کے لئے ناسخ ہے جو آپ نے قریش سے کیا تھا کہ جو بھی مسلمان آئے آپ اس کو واپس کردیں۔ اس کے ساتھ عورتوں کا حکم منسوخ ہوگیا۔ یہ اس کا مذہب ہے جو قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کو جائز سمجھتا ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ مردوں اور عورتوں کے بارے میں حکم منسوخ ہے۔ یہ جائز نہیں کہ امام دشمنوں کے ساتھ اس بات پر صلح کرے کہ جو آدمی مسلمان ہو کر آئے وہ اسے واپس کر دے گا کیونکہ کسی مسلمان کو مشرکوں کی سرزمین پر رکھنا جائز نہیں ! یہ کو فیوں کا نقطہ نظر ہے۔ امام مالک کے نزدیک اس نقطہ پر صلح جائز ہے۔ کو فیوں نے جو نقطہ نظر اپنایا ہے وہ اسے اسماعیل بن ابی خالد کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ قیش بن ابی حازم سے وہ حضرت خالد بن ولید ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بنع خشعم کی طرف بھیجا انہوں نے انہیں سجدہ کی حالت میں پکڑ لیا اور قتل کردیا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں نصف دیت دی اور فرمایا :” میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں جو دار الحرب میں مشرکوں کے ساتھ مقیم ہو وہ ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھیں “ (3) ۔ انہوں نے کہا : یہ روایت اس روایت کے لئے ناسخ ہے جس میں مسلمانوں کو مشرکوں کے حوالے کا ذکر تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے براءت کا اظہار کیا جو ان کے ساتھ دار الحرب میں مقیم ہے ،۔ امام مالک اور امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں۔ امام شافعی نے کہا : اس قسم کا معاہدہ خلیفہ یا ایسا شخص جو امر کرتا ہے وہی کرسکتا ہے کیونکہ وہ تمام اموال کا والی ہوتا ہے خلیفہ کے علاوہ جس نے یہ عقد کیا تو وہ عقد مردود ہوگا۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ اعلم…… یہ امتحان تمہارے لئے ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے کیونکہ وہ رازوں کو خوب جانتا ہے۔ فان علممتو ھن مومنت ایمان میں سے جو ظاہر ہے اگر تم انہیں مومن جانتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم امتحان سے قبل ان کے مومن ہونے کا علم رکھتے ہو۔ فلا ترجعو……… اللہ تعالیٰ نے کوئی مومنہ کسی کافر کے لئے حلال نہیں کی اور نہ ہی کسی مومن کے لئے کسی مشرکہ سے نکاح کو حلال کیا ہے۔ یہ واضح ترین دلیل ہے کہ جس امرنے مسلمان عورت کی اپنے خاوند سے جدائی کو ثابت کیا وہ اس کا اسلام لانا ہے، اس کا ہجرت کرنا نہیں۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جس امر نے ان کے درمیان تفریق کو ثابت کیا وہ دونوں داروں کا مختلف ہوتا ہے۔ امام مالک کے مذہب میں اسی کی طرف اشارہ ہے بلکہ وہ اس میں صریح اور عبارۃ النص ہے۔ صحیح قول پہلا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : …… اس امر کو واضح کیا کہ عدم حل کی علت اسلام ہے داروں کا مختلف ہونا نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابو عمر نے کہا : دار میں کوئی فرق نہیں نہ کتاب اللہ میں ایسی بات ہے نہ سنت میں ہے اور نہ ہی قیاس میں ہے۔ اسمیں جس کی رعایت کی گئی ہے وہ دو دین ہیں۔ ان دونوں کے اختلاف اور اجتماع کے ساتھ حکم مرتب ہوگا، دار کی وجہ سے کوئی حکم نہیں ہوگا۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ واتوھم ما انفقوا جب مسلمان عورت کو اس بات سے روک دیا جائے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس بھیجا جائے تو اس کے خاوند نے اس پر جو مال خرچ کیا ہے وہ اسے واپس کردیا جائے۔ یہ وعدہ کو پورا کرنے کی صورت یہ کیونکہ جب اسلام کی حرمت کی وجہ سے اسے روکا گیا ہے تو اس کے مال کو واپس کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ دونوں صورتوں میں اس پر خسارہ واقع نہ ہو، بیوی اور مال۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ کوئی چٹی وغیرہ لازم نہ ہوگی مگر اس صورت میں جب کافر خاوند مطالبہ کرے، جب وہ حاضر ہو اور مطالبہ کرے ہم اسے روک لیں گے اور چٹی بھر دیں گے۔ اگر وہ عورت خاوند کے آنے سے پہلے ہی مرجائے تو ہم مہر چٹی کے طور پر نہ دیں گے کیونکہ روکنا متحقق نہیں ہوا۔ اگر مہر شراب یا خنزیر ہو تو ہم کسی چیز کے ذمہ دار نہیں ہونگے کیونکہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ (1) یہ منسوخ ہے۔ امام شافعی نے کہا : جب ایسے افراد کے پاس سے مسلمان عورت آئے جن کے ساتھ صلح ہو جبکہ وہ مسلمان ہو مہاجر ہو دار الحرب سے امام کی طرف دار الالسلام میں یا دار الحرب میں آئے۔ اگر اس کے خاوند کے علاوہ علی نے مطالبہ کیا تو بغیر عوض کے اسے روک لیا جائے گا اگر خاوند اپنے لیے یا کسی غیر کے لئے اپنی وکالت کے ساتھ مطالبہ کرے تو اس میں دو قول ہیں۔ (1) وہ عوض دے گا دلیل وہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (2) اسمیں دوسرا قول بھی ہے : مشرک خاوند کو کوئی عوض نہیں دیا جائے گا جس کی بیوی مسلمان ہو کر آئی اگر امام عورتوں کے واپس کرنے کی شرط لگائے تو یہ شرط باطل ہوگی۔ جس نے یہ قول کیا اس نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ نے اہل حدیبیہ کے لء یہ شرط لگائی تھی کہ ان میں سے جو بھی آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ عورتوں کے بارے میں ان کی جانب سے شرط، شرط صحیح تھی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا اور عوض کو رد کردیا جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا پھر اس کے رسول نے فیصلہ کردیا کہ ان عورتوں کو واپس نہ کیا جائے گا تو جس نے بھی عورتوں کے واپس کرنے کی شرط لگائی وہ شرط منسوخ ہوگی اور اس پر کوئی عوض نہ ہوگا کیونکہ منسوخ کو شرط قرار دینا باطل ہے اور باطل چیز کا کوئی عوض نہیں۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ خاوندوں نے جس قدر خرچ کیا ہو اس مقدار میں اللہ تعالیٰ نے واپس کرنے کا حکم دیا۔ اس امر کا مخاطب امام ہے اس کے پاس بیت المال میں جو ایسا مال ہے جس کا مصرف متعین نہ ہو اس میں سے وہ خرچ کرے گا۔ مقاتل نے کہا : وہ مہر کافر خاوند کو واپس کرے گا جس مہر پر عورت سے مسلمان مرد شادی کرے گا۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی بی اس سے شادی نہ کرے تو کافر خاوند کے لئے کوئی چیز نہ ہوگی۔ قتادہ نے کہا : مہر واپس کرنے کا حکم ان لوگوں کی عورتوں کے بارے میں ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کے عہدو پیمان ہوں۔ جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ نہیں انہیں کوئی مہر وغیرہ نہیں دیا جائے گا۔ معاملہ اسی طرح ہے جس طرح انہوں نے کہا۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ ولا جناح …… یعنی جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کی عدت ختم ہوگئی۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ مشرکہ اور متعدہ کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ اگر ایسی عورت حقوق زوجیت سے قبل ہی مسلمان ہوجائے تو اس کا نکاح اسی وقت ثابت ہوجائے گا اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرنا بھی جائز ہوگا۔ مسئلہ نمبر 10 ۔ ……مہر کی شرط کے ساتھ ان کے ساتھ نکاح کرنے کا مباح قرار دیا کیونکہ اسلام نے اس کے اور اس کی کافر بیوی کے درمیان جدائی کردی ہے۔ مسئلہ نمبر 11 ۔ ولاتمسکو…… عام قراء کی قراءت تخفیف کے ساتھ ہے یہ امساک سے مشتق ہے ؛ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(البقرہ : 231) حضرت حسن بصری، ابو العالیہ اور ابو عمرو نے لاتمسکوا پڑھا ہے یہ تمسسیک سے مشتق ہوگا یوں کہا جاتا ہے : مسک یمسسک تمسیکا۔ یہ امسک یمسک کے معنی میں ہے۔ اسے علا تمسکواتاء کے نصب کے بھی ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اصل میں یہ لاتتمسکوا تھا۔ العصم یہ عصمہ کی جع ہے اسے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ انسان محفوظ رہتا ہے یہاں عصمہ سے مراد نکاح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جس کی مکہ مکرمہ میں کافرہ بیوی ہو وہ اسے بیوی شمار نہ کرے وہ اس کی بیوی نہیں (1) ۔ وار کے مختلف ہونے کی وجہ سے نکاح ختم ہوچکا ہے۔ امام نخعی سے مروی ہے : مراد وہ مسلمان عورت ہے جو دار الحرب بھاگ گئی اور کافر ہوگئی۔ کفار مسلمان عورتوں سے شادیاں کیا کرتے تھے اور مسلمان مرد مشرک عورتوں سے شادی کیا کرتے تھے پھر اس آیت میں اس کو منسوخ کردیا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے دو ایسی عورتوں کو طلاق دے دی جو مکہ مکرمہ میں تھیں اور مشرک تھیں ان میں سے ایک قریبہ بنت ابی امیہ تھی جس سے بعد میں معاویہ بن ابی سفیان نے شادی کی جو دونوں مکہ مکرمہ میں مشرک کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔ اور ام کلثوم بنت عمرو خزاعیہ جو عبد اللہ بن مغیرہ کی والدہ تھی ابو جہم بن حذافہ نے اس سے شادی کی جو دونوں مشرک تھے۔ جب حضرت عمر ؓ امیر المومین بنے تو حضرت ابو سفیان نے اپنے بیٹے حضرت معاویہ سے کہا : قریبہ کو طلاق دے تاکہ حضرت عمر ؓ یہ خیال نہ کریں اس کا چھینا ہوا مال تیرے گھر میں ہے۔ حضرت معاویہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت طلحہ بن عبد اللہ کے عقد میں اروی بنت ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب تھی اسلام نے دونوں میں تفریق کردی پھر حالت اسلام میں ان سے حضرت خالد بن سعید بن عاص نے شادی کی۔ یہ بھی کفار کی ان عورتوں میں سے تھی جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں روک لیا اور حضرت خالد سے ان کی شادی کردی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی ابو العاص بن ربیع سے کی تھی۔ عبد الرزاق ابن جریج سے وہ ایک آدمی سے وہ ابن شہاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت زینب نے نبی کری ﷺ کی ہجرت کے بعد ہجرت کی ان کا خاوند ابع العباس بن ربیع عبد العزی مکہ مکرمہ میں مشرک کی حیثیت میں تھا اس کی یہ وضاحت ہے کہ اس نے حضرت زینب کے بعد اسلام قبول کیا۔ شعبی نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ شعبی نے کہا : حضرت زینب بنت رسول اللہ ابو العاص بن ربیع کی زوجہ تھیں وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ نبی کریم ﷺ کے ہاں چلی گئیں پھر ان کا خاوند مدینہ طیبہ آیا حضرت زینب نے اسے امان دی تو وہ اسلام لے آیا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب کو اس کی طرف لوٹا دیا۔ ابو دائود نے عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ پہلے نکاح کی وجہ سے ہی انہیں واپس کردیا اور کوئی نیا عمل نہ کیا۔ محمد بن عمر نے اپنی حدیث میں کہا : یہ واقعہ چھ سال بعد ہوا۔ حسین بن علی نے کہا : دو سال بعد ہوا (1) ۔ ابو عمر نے کہا : اگر یہ صحیح ہے تو یہ دو وجوہ سے خالی نہیں۔ آپ کو حیض ہی نہ آیا یہاں تک کہ ان کا خاوند مسلمان ہوگیا یا ان کے بارے میں یہ امر منسوخ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : وبعولتھن……(البقرہ :228) یہ ایسا امر ہے جس بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے مراد عدت ہے۔ ابن شہاب زہری نے حضرت زینب کے اس قصہ میں کہا : یہ فرائض کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ قتادہ نے کہا : یہ سورة براءۃ کے نازل ہونے سے پہلے واقع ہوا جس میں مشرکین کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا حکم ہوا۔ مسئلہ نمبر 12 ۔ بعصم الکوافر، کو افر سے یہاں مراد بت پرست ہیں ان کے ساتھ ابتدا سے ہی نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہ حکم اہل کتاب کے علاوہ کو افر کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عام ہے۔ اہل کتاب کی عورتوں کا حکم اس سے منسوخ ہے۔ اگر آیت کے ظاہر کو دیکھا جائے تو کوئی کافر عورت کسی صورت میں حلال نہیں۔ پہلے قول کی بناء پر جب کوئی بت پرست یا مجوسی مسلمان ہوجائے اور اس کی بیوی مسلمان نہ ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ یہ قول بعض علماء کا ہے۔ ان میں سے کچھ نہ کہا : عدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ جس نے یہ کہا : اسی وقت ان میں تفریق کردی جائے گی اور عورت کی عدت کے مکمل ہونے کا انتظار نہ کیا جائے گا جب اس پر اسلام پیش کیا جائے اور وہ اسلام قبول نہ کرے وہ امام مالک بن انس ہیں ؛ یہی قول حضرت حسن بصری، طائوس، مجاہد، عطا، عکرمہ قتادہ اور حکم کا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : ولا تمسکو……۔ زہری نے کہا : وہ اس کے ساتھ عدت کا انتظار کرتا ہے ؛ یہ امام شافعی اور امام احمد کا قول ہے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرف اپنی بیوی ہند بنت عتبہ سے پہلے اسلام لائے انہوں نے مرا الظہر ان کے مقام پر اسلام قبول کیا پھر وہ مکہ مکرمہ کی طرف لوٹے جبکہ ہندوہاں کافرہ کی حیثیت سے رہ رہی تھی اور اپنے کفر پر قائم تھی۔ اس نے حضرت ابو سفیان کی داڑھی کو پکڑ لیا اور کہا : اس گمراہ شیخ کو قتل کردو پھر اس کے چند روز بعد وہ مسلمان ہوگئی۔ دونوں اپنے نکاح پر قایم رہے کیونکہ ان کی عدت ختم نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا : اس کی مثل حضرت حکیم بن حزام کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے پہلے اسلام قبول کیا۔ پھر ان کے بعد ان کی بیوی مسلمان ہوئی۔ دونوں اپنے نکاح پر باقی رہے۔ امام شافعی نے کہا : جس نے والا تمسکوا بعصم الکوافر سے استدلال کیا ہے اس کے لئے اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ مسلمان عورتیں کافروں پر حرام ہیں جس طرح مسلمان مرد کافر، بت پرست اور مجوسی عورتوں کے لئے حلال نہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا ھن ………پھر سنت نے اس کی وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں ہوتے مگر اس صورت میں کہ دوسرا فرد عدت میں اسلام قبول کرلے۔ جہاں تک کو فیوں کا تعلق ہے کو فیوں سے مراد حضرت سفیان ثوری، حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں انہیں نے ذمی کافروں کے بارے میں کہا : جب عورت مسلمان ہوجائے تو خاوند پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کے لے توٹھیک ورنہ دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ ان علماء نے کہا : اگر دونوں حربی ہوں تو یہ اس کی بیوی رہے گی یہاں تک کہ اس کے تین حیض گزر جائیں۔ جب وہ دونوں دار الحرب میں ہوں یا دار الاسلام میں ہوں۔ اگر ان میں سے ایک دار الاسلام میں ہو اور دوسرا دار الحرب میں ہو تو دونوں میں عصمت ختم ہوجائے گی۔ ان علماء نے دار کا اعتبار کیا ہے جبکہ یہ کچھ بھی نہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 13 ۔ یہ اختلاف مدخول بہا کے بارے میں ہے۔ اگر وہ غیر مدخول بھا ہو تو دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوجانے میں کسی اختلاف کو نہیں جانتے کیونکہ اس پر کوئی عدت نہیں۔ امام مالک اس عورت کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں جو خود مرتد ہوجائے اور اس کا خاوند مسلمان ہو : دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا۔ ان کی دلیل ولا تمسکوا بعصم الکوافر ہے یہی قول حضرت حسن بصری اور حضرت حسن بن صالح بن حی کا ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ وہ عدت کے مکمل ہونے کا انتظار کرے۔ مسئلہ نمبر 14 ۔ اگر دونوں میاں بیوی نصرانی ہوں اور بیوی مسلمان ہوجائے اس میں بھی اختلاف ہے۔ امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ وہ عورت کی عدت میں مسلمان ہوجائے تو خاوند اس کا زیادہ حقدار ہوگا جس طرح حضرت صفوان بن امیہ اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل اپنی بیویوں کے زیادہ مستحق رہے جب وہ دونوں اپنی بیویوں کی عدت میں مسلمان ہوئے تھے۔ روایت ابن شہاب سے مروی ہے، اسے امام مالک نے موطا میں ذکر کیا ہے۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت صفوان اور ان کی بیوی کے اسلام لانے میں ایک ماہ کا عرصہ حائل ہے۔ ابن شہاب نے کہا : ہمیں یہی خبر پہنچی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرے اور اس کا خاوند کافر ہو اور دار الحرب میں مقیم ہو مگر ہجرت اسے کے اور اس کے خاوند کے درمیان تفریق کرے دے گی ہاں یہ صورت مختلف ہے کہ اس کا خاوند عدت ختم ہونے سے پہلے آجائے (1) ۔ علماء میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہت ہیں : دونوں کے درمیان نکاح منسوخ ہوجائے گا۔ یزید بن علقمہ نے کہا : میرا دادا مسلمان ہوگیا اور میری دادی مسلمان نہ ہوئی حضرت عمر ؓ نے دونوں میں تفریق کردی ؛ یہ طائوس کا قول ہے۔ دوسری جماعت میں جن میں عطا، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا : دعوت نکاح کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ مسئلہ نمبر 15 ۔ وسئلو…مفسرین نے کہا : مسلمان عورتوں میں سے جو عورتیں مرتد ہو کر ان کفار کے پاس چلی گئیں جن کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدے تھے تو کفار کو کہا جائے گا : ان عورتوں کے مہردے دو (2) ۔ جب کفار کی عورتوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو کر ہجرت کرکے آجائے تو مسلمانوں کو کہا جائے گا : کفار کو ان عورتوں کے مہر واپس کردو۔ یہ دونوں حالتوں میں عدل کی صورت ہے۔ اجماعت امت یہی ہے کہ یہ حکم اس زمانہ میں ایک خاص واقعہ کے ساتھ خاص ہے ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 16 ۔ ذلکم حکم اللہ یعنی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم۔ یہ پہلے کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔