تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 11
وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴿11﴾
- وَاِنْ فَاتَكُمْاور اگر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے
- شَيْءٌکوئی
- مِّنْ اَزْوَاجِكُمْتمہاری بیویوں سے
- اِلَى الْكُفَّارِکفار کی طرف
- فَعَاقَبْتُمْتو انکو (کفارکو) سزا دو
- فَاٰتُواپس دو
- الَّذِيْنَان کو جن کی
- ذَهَبَتْجاتی رہیں
- اَزْوَاجُهُمْان کی عورتیں
- مِّثْلَ مَآاس قدر جو
- اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
- وَاتَّقُوا اللّٰهَاور ڈرواللہ سے
- الَّذِيْٓوہ جس
- اَنْتُمْ بِهٖتم اس پر
- مُؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہو
Translation · Al-Qurtubi
اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اسکا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اسی مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وان فاتکم شئی من ازواجکم روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس پر ہم راضی ہیں اور مسلمانوں نے مشرکوں کو خط لکھے تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو یہ حصہ نازل ہوا۔ وان فاتکم ……زہری نے عروہ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے وسئلو…… مسلمانوں نے کفار کو خط لکھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہماری کوئی عورت تمہارے پاس آئے تو تم ہمیں مہر دو اور اگر تمہاری کوئی عورت ہمارے پاس آئے تو ہم اس کا مہر تمہیں دیں گے۔ جواب میں انہوں نے مسلمانوں کو خط لکھے : جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم نہیں جانتے کہ تمہارا کوئی حق ہم پر ہے اور اگر ہمارا تم پر کوئی حق ہے تو اسے ہماری طرف بھیج دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو نازل کیا : وان فاتکم…… حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ذلکم حکم اللہ …… یہ ان مسلمانوں اور ان کفار کے بارے میں ہے جو اہل مکہ سے تھے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے۔ زہری نے کہا : اگر عہدوپیمان نہ ہو تو مسلمان عورتوں کو روک لیا جائے گا اور انہیں مہر واپس نہیں کیا جائے گا (1) ۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : انہیں حکم دیا گیا کہ جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں اتنا مال، مال فئی اور غنیمت میں سے دے دو جتنا انہوں نے بیویوں پر خرچ کیا تھا۔ دونوں نے کہا : یہ حکم اس کے بارے میں ہے جس کے ساتھ ہمارا اس معاملہ میں کوئی عہدوپیمان ہو جبکہ ہمارا اور ان کے درمیان تو کوئی ایسا معاہدہ نہیں۔ دونوں نے کہا : فعاقبتم کا معنی ہے تم بدلہ لو۔
فاتوا الذین …… مراد مہر ہیں۔ یہ تمام کفار میں عام ہے۔ قتادہ نے یہ بھی کہا ہے : اگر تم میں سے کسی کی بیوی ان کفار کے پاس چلی جائے جن کا اور تمہارا عہدو پیمان ہو تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں اس کے برابر مال دو جتنا انہوں نے خرچ کیا۔ پھر سورة براءت میں یہ حکم منسوخ ہے۔ زہری نے کہا : فتح مکہ کے سال یہ حکم منقطع ہوگیا۔ سفیان ثوری نے کہا : آج اس پر عمل نہیں ہوگا۔ ایک قولم کا نقطہ نظر ہے : یہ حکم آج بھی ثابت ہے ؛ قشیری نے یہ بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ فعاقبتم عام قراءت فعاقبتم ہے۔ علقمہ، نخعی، حمید اور اعرج نے فعقبتم مشدو پڑھا ہے۔ مجاہد نے اسے فعاقبتم پڑھا ہے کہا : تم نے اس طرح کیا۔ جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔ زہری نے فعقتبم الف کے بغیر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسروق اور شفیق بن سلمہ نے فعقبتم قاف کے کسرہ کے ساتھ بغیر تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور کہا : اس کا معنی ہے تمہیں غنیمت حاصل ہو۔ تمام لغات کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عاقب، …… اور تعاقفب جب غنیمت حاصل ہو۔ قتبی نے کہا فعاقبتم کا معنی ہے تم یکے بعد دیگرے جنگ میں شریک ہو۔ ابن بحر نے کہا : تم مرتد عورت کو قتل کی سزا دو تو مسلمانوں کی غنیمتوں سے اس کے خاوند کو اس کا مہر واپس کیا جائے گا (2) َ
مسئلہ نمبر 3 ۔ فاتو……حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ہے اگر کوئی مومن عورت اہل مکہ کے کفار تک جا پہنچے، تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو اور اس کا خاوند مسلمان ہو اور تمہیں غنیمت حاصل ہو تو تم اس مسلمان خاوند کو مال غنیمت سے مہر کے برابر مال دے دو اور یہ ادائیگی پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے ہو۔ زہری نے کہا : مال فتئی سے اسے مہر دیا جائے گا (3) ۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے : جو ہمارے ساتھ آملا ہے اسے مہر دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گی ا ہے۔ اگر کفار اس عورت کے مہر کی چٹی ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہوں جو انکے پاس چلی گئی ہے تو ان کے ساتھ معاہدہ ختم کردو یہاں تک کہ تم فتح پائو اور مہر ان سے لے لو۔ اعمش نے کہا : یہ منسوخ ہے۔ عطا نے کہا : بلکہ اس کا حکم ثابت ہے۔ یہ سب پہلے گزر چکا ہے۔ قشیری نے کہا : یہ آیت ام حکم بنت ابی سفیان کے حق میں نازل ہوئی وہ مرتد ہوئی تھی اور اس نے اپنے خاوند عیاض بن غنم قرشی کو چھوڑ دیا۔ قریش میں سے ان کے علاوہ کوئی عورت مرتد نہیں ہوئی تھی پھر اسلام قبول کرلیا۔
ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : وہ کل چھ عورتیں تھیں جنہوں نے اسلام چھوڑ اور مشرکوں کے ساتھ جا ملی تھیں یہ مہاجر مسلمانوں کی بیویاں تھیں (1) ۔ (1) ام الحکم بنت ابی سفیان، یہ حضرت عیاض بن ابی شداد فہری کے عقد میں تھی۔ (2) فاطمہ بنت ابی امیہ بن مگیر جو حضرت ام سلمہ کی بہن تھی۔ یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے عقد میں تھی۔ جب حضرت عمر ؓ نے ہجرت کی تو اس نے انکار کیا اور مرتد ہوگئی۔ (3) بروع بنت عقبہ یہ حضرت شماس بن عثمان کے عقد میں تھی۔ (4) عبدہ بنت عبد العزی یہ حضرت ہشام بن عاص کے عقد میں تھی۔ (5) ام کلثوم بنت جرول یہ حضرت عمر بن خطاب کے عقد میں تھی۔ (6) شبہ بنت غیلان۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے خاوندوں کو ان کے مہر مال غنیمت سے ادا کئے تھے۔ واتقوا اللہ اس چیز سے بچو کہ تم ان امور میں حد سے تجاوز کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا۔