تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 6
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ع﴿6﴾
- لَقَدْ كَانَتحقیق (یقیناً ) ہے
- لَكُمْتمہارے لئے
- فِيْهِمْان میں
- اُسْوَةٌ حَسَنَةٌچال (نمونہ) بہترین
- لِّمَنْاس کے لئے جو
- كَانَ يَرْجُواامید رکھتا ہے
- اللّٰهَاللہ
- وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭاور آخرت کا دن
- وَمَنْ يَّتَوَلَّاور جو، جس
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- هُوَ الْغَنِيُّوہ بےنیاز
- الْحَمِيْدُستودہ صفات
Translation · Al-Qurtubi
تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا کے سامنے جانے اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے اور جو روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات۔ 6۔ 7
تفسیر
لقد کان لکم فیھم، ھم ضمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ انبیاء و اولیاء ہیں۔ اسوۃ حسنۃ یعنی کفار سے براءت کا اظہار کرنے میں بہترین اسوہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکید کے لئے اسے مکررذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ذکر کیا گیا ہے : دوسری آیت پہلی آیت کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی، قرآن حکیم میں اکثر تکرار اسی وجہ سے ہے۔
ومن تول جو آدمی اسلام اور ان مواعظ کو قبول کرنے سے اعراض کرے…… اللہ تعالیٰ غنی ہے، اس نے اپنی کسی حاجت کی وجہ سے انہیں اپنا بندہ نہیں بنایا۔ الحمید۔ وہ اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے مشرک رشتہ داروں سے دشمنی شروع کردی اس وجہ سے مسلمانوں کو جس دکھ کا سامنا کرنا پڑا اللہ تعالیٰ کو علم ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی……… وہ اس طرح ہوا کہ کافر مسلمان ہوجائیں گے ان میں سے ایک قوم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور مسلمانوں سے میل جول رکھا جس طرح حضرت ابو سفیان بن حرب، حضرت حارث بن ہشام، حضرت سہیل بن عمرو، حضرت حکیم بن حزام ؓ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں مودہ سے مراد نبی کریم و کی حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے شادی ہے۔ اس موقع پر ابو سفیان کی نخوت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور عداوت میں ان کی طبعیت ڈھیلی پڑگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مودہ سے مراد فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ کا حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے شادی کرنا ہے۔ وہ حضرت عبد اللہ بن تجش کے عقد میں تھیں۔ انہوں نے اورع ان کے خاوند نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کے خاوند نصرانی ہوگئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ دین میں اس کی اتباع کریں حضرت ام حبیبہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور اپنے دین پر ہی کاربند رہیں اور ان کا خاوند نصرانیت پر ہی فوت ہوا۔ نبی کریم و نے نجاشی کی طرف پیغام بھیجا اور حضرت ام حبیبہ کو دعوت نکاح دی۔ نجاشی نے نبی کریم و کے صحابہ سے پوچھا : تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے ؟ صحابہ نے بتایا : حضرت خالد بن سعید، نجاشی نے کہا : ام حبیبہ کی شادی نبی کریم ﷺ سے کردو۔ اس نے اسی طرح کیا۔ نجاشی نے اپنی جانب سے چار سو دینار بطو رمہر پیش کیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان کی طرف ان کے نکاح کے لئے پیغام بھیجا۔ جب حضرت عثمان نے حضرت ام حبیبہ کا نکاح نبی کریم ﷺ سے کردیا تو نجاشی کی طرف ان کے بارے میں پیغام بھیجا نجاشی نے اپنی جانب سے مہر دیا اور حضرت ام حبیبہ کو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں بھیج دیا۔ ابو سفیان جو ابھی مشرک تھا جب اسے یہ خبر پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی بیٹی سے شادی کرلی ہے تو اس وقت کہا : …… یعنی یہ ایسا نر ہے جس کی ناپ پر ضرب نہیں لگائی جاتی (1) ۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی بہت ہی معزز ہو۔