تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 7

  1. عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿7﴾

    1. عَسَى اللّٰهُقریب ہے کہ اللہ
    2. اَنْ يَّجْعَلَکہ وہ کردے
    3. بَيْنَكُمْتمہارے درمیان
    4. وَبَيْنَاور درمیان
    5. الَّذِيْنَان لوگوں کے
    6. عَادَيْتُمْتم عداوت رکھتے ہو
    7. مِّنْهُمْان سے
    8. مَّوَدَّةً ۭدوستی
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. قَدِيْرٌ ۭقدرت رکھنے والا
    11. وَاللّٰهُ غَفُوْرٌاور اللہ بخشنے والا
    12. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Al-Qurtubi
عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتیں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات۔ 8 تفسیر اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی رخصت ہے جو مومنوں سے دشمنی نہیں رکھتے اور ان سے برسرپیکار نہیں رہتے۔ ابن زید نے کہا : یہ ابتداء اسلام میں تھا جب ایک دوسرے کو چھوڑنے اور قتال کے معاملہ کو ترک کرنے کا حکم تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا (2) ۔ قتادہ نے کہا : اسے فاقتلو ……(التوبہ :5) سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم خاص علت کی بنا پر تھا اور وہ صلح تھی جب فتح مکہ کے ساتھ صلح ختم ہوگئی تو یہ حکم بھی منسوخ کردیا گیا اور صرف اس کی قراءت و تلاوت باقی رہ گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتح مکہ کے ساتھ صلح ختم ہوگئی تو یہ حکم بھی منسوخ کردیا گیا اور صرف اس کی قرا ئت و تلاوت باقی رہ گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم و اور جن کا آپ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد و پیمان تھا جس کو انہوں نے نہ توڑا تھا ان کے لئے ہے : یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : وہ بنو خزاعہ اور بنو حارث بن عبد مناف ہیں۔ ابو صالح نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد بنو خزاعہ ہیں۔ مجاہد نے کہا : یہ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عورتین اور بچے ہیں کیونکہ یہ قتال نہیں کرتے (1) ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کا کام دیا ؛ بعض مفسرین نے یہ قول کیا ہے۔ اکثر علماء تاویل نے کہا : یہ آیت محکم ہے۔ انہوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا : کیا وہ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہے جبکہ وہ مشرکہ کی حیثیت میں اس کے پاس آئی ہے ؟ فرمایا :” ہاں “۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی۔ عامر بن عبد اللہ بن زبیر نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دور جاہلیت میں پانی بیوی قتیلہ کو طلاق دی یہی حضرت اسماء بنت ابوبکر کی والدہ تھی (2) ۔ یہ اس وقت حضرت اسماء کے پاس آئی تھی جب نبی کریم ﷺ اور قریش کے درمیان صلح تھی۔ اس نے حضرت اسماء کو ایک بالی اور کچھ اشیاء تحفہ کے طور پر دیں۔ حضرت اسماء نے انہیں قبول کرنے کو ناپسند کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کی خدت میں زکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نازل فرمایا : اس واقعہ کو ماوردی اور دوسرے علماء نے بیان کیا۔ ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں اسے نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ان تبروھم، ان حل جر میں ہے اور الذین سے بدل ہے یعنی وہ افراد جو تم سے جنگ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ صلہ رحمی سے منع نہیں کرتا۔ وہ بنو خزاعہ تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ یہ معاہدہ کیا تھا کہ نہ وہ آپ ﷺ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کرنے اور وقت مقررہ تک اسے پورا کرنے کا حکم دیا ؛ یہ فراء نے بیان کیا ہے۔ وتقسطوا الیھم یعنی اپنے اموال میں سے کچھ حصہ صلہ رحمی کے طور پر انہیں دے دو (3) ۔ اس سے مراد عدل نہیں کیونکہ عدل تو قتال کرنے والے اور قتال نہ کرنے والے کے درمیان واجب ہے ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ قاضی ابوبکر نے کتگاب ” الاحکام “ میں کہا : اس سے ان علماء نے استدلال کیا ہے جن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان بچے کا نفقہ کافر باپ پر واجب ہے (4) ۔ یہ بڑی غلطی اور بھول ہے کیونکہ کسی چیز کے بارے میں اذن اور کسی شی کے بارے میں نہی کا نہ ہونا اس کے واجب ہونے پر دال نہیں۔ یہ انداز تجھے صرف اباحت عطا کرسکتا ہے۔ ہم بیا کرچکے ہیں کہ اسماعیل بن اسحاق اضی کے پاس ایک ذمی آیا آپ نے اس کی تکریم کی تو اس بارے میں حاضرین نے ان کی گرفت کی تو آپ نے اسی آیت کو ان پر تلاوت کیا۔