تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 62. Al-Jumu'a · Ayah 2
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿2﴾
- هُوَ الَّذِيْوہ اللہ وہ ذات ہے
- بَعَثَجس نے بھیجا
- فِيمیں
- الْاُمِّيّٖنَان پڑھ لوگوں (میں)
- رَسُوْلًا مِّنْهُمْایک رسول انہی میں سے
- يَتْلُوْا عَلَيْهِمْجو پڑھتا ہے ان پر
- اٰيٰتِهٖاس کی آیات
- وَيُزَكِّيْهِمْاور ان کا تزکیہ کرنا ہے
- وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَاور سکھاتا ہے ان کو کتاب
- وَالْحِكْمَةَاور حکمت
- وَاِنْ كَانُوْااور بیشک تھے وہ
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍالبتہ کھلی گھمراہی میں
Translation · Al-Qurtubi
وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
ھوالذی بعث فی الامین رسولاً منھم حضرت ابن عباس نے کہا : الامیون سے مراد تمام عرب ہیں خواہ ان میں سے کوئی لکھتا جانتا ہو یا لکھنا نہ جانتا ہو کیونکہ وہ اہل کتاب نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : امی سے مراد وہ ہیں جو لکھنا نہیں جانتے۔ قریش اسی طرح تھے۔ منصور نے ابراہیم سے روایت نقل کی ہے کہا : امی وہ ہے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
رسولاً منھم مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے۔ عربوں میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی ان سے رشتہ داری تھی سب کا آپ سے نسبی تعلق ہے۔ حضرت ابن حاسق نے کہا، مگر بنی تغلب اس میں شامل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نصرانی ہونے کی وجہ سے اپنے نبی ﷺ کو ان سے پاک رکھا، انہیں آپ کے نسب سے تعلق نہیں۔ سرور دو عالم ﷺ امی تھے کوئی کتاب نہ پڑھی اور نہ کسی سے سیکھا۔ ماوردی نے کہا، اگر یہ سوال کیا جائے : احسان جتلانے کی وجہ کیا ہے (1) ؟ اگر نبی امی کو مبعوث کیا ؟ جواب تین طریقوں سے ہوگا۔ (1) انبیاء نے جو آپ ﷺ کے بارے میں بشارت دی اس کے یہ موافق ہے۔ (2) آپ ﷺ کا حال امیوں کے حال کے موافق ہے، ان کے ساتھ موافقت میں زیادہ قریب تھے۔ (3) ا سوئے ظن کی نفی مقصود ہے کہ آپ ان چیزوں کی تعلیم دیتے ہیں جو کتابیں آپ نے پڑھی ہیں اور وہ حکمتیں جن کی آپ نے تعلیم دی ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ سب کچھ ان کے معجزہ کی اور نبوت کی صداقت کی دلیل ہے۔
یتلوا علیھم ایتہ آیات سے مراد قرآن ہے۔ ویزکیھم اللہ تعالیٰ ایمان کے ساتھ ان کے دلوں کو پاکیزہ بناتا ہے (2) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ انہیں کفر اور گناہوں کی آلودگیوں سے پاک کرتے ہیں، یہ ابن جریج اور مقاتل کا قول ہے۔ سدی نے کہا، آپ ان کے اموال کی زکوۃ وصول کرتے ہیں۔ ویعلمھم الکتب کتاب سے مراد قرآن ہے۔ والحکمۃ مراد سنت ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (3) حضرت ابن عباس نے کہا، کتاب سے مراد قلم کے ساتھ لکھنا ہے کیونکہ لکھنا عربوں میں شرع کی وجہ سے عام ہوا جب انہیں خط کے ساتھ علوم کو مقید کرنے کا حکم دیا گیا (4) حضرت امام مالک بن انس نے کہا، حکم سے مراد دین کی سمجھ ہے (5) اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ قبل کا مضاف الیہ یا توہ ضمیر ہے یا ان یرسل الیھم ہے۔ یعنی آپ سے پہلے یا رسولوں کو معبوث کرنے سے پہلے وہ حق سے بہت دور تھے۔