تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 1

  1. اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿1﴾

    1. اِذَا جَآءَكَجب آتے ہیں تیرے پاس
    2. الْمُنٰفِقُوْنَمنافق
    3. قَالُوْا نَشْهَدُکہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہو
    4. اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِبیشک آپ البتہ اللہ کے رسول ہیں
    5. وَاللّٰهُاور اللہ
    6. يَعْلَمُجانتا ہے
    7. اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗبیشک آپ البتہ اس کے رسول ہیں
    8. وَاللّٰهُ يَشْهَدُاور اللہ گواہی دیتا ہے
    9. اِنَّبیشک
    10. الْمُنٰفِقِيْنَمنافق
    11. لَكٰذِبُوْنَالبتہ جھوٹے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
اذا جآءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم سے روایت نقل کی ہے (1) کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا تو میں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کو کہتے ہوئے سنا : لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا اور کہا، لئن رجعنآٰ الی المدینۃ لیخرجن الاعزمنھا الاذل میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور میرے چچا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قاسم اٹھا دی کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق کردی اور مجھے جھٹلایا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا جیسا کبھی غم لاحق نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی صدیق کردی اور مجھے جھٹلایا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا جیسا کبھی غم لاحق نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو (آیت) کو نازل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا پھر فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تیری تصدیق کی ہے۔ “ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے (1) ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک غزوہ میں شرکت کی جبکہ ہمارے ساتھ کچھ بدو بھی تھے ہم پانی کی طرف جلدی کرتے تو بدو ہم سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے بدو اپنے ساتھیوں پر سبقت لے جاتا وہ حضو بھرتا اور اس کے گرد پتھر رکھ دیتا اور اس پر چمڑے سے بنی چٹائی ڈال دیتا یہاں تک کہ اس کے ساتھی آجاتے ایک انصاری ایک بدو کے پاس آیا، اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کی تاکہ وہ پانی پی لے اس بدو نے انکار کردیا کہ پانی اس کے لئے چھوڑے۔ اس انصاری نے ایک پتھر وہاں سے ہٹایا تو پانی کم ہوگیا۔ بدو نے ایک لکڑی اٹھائی اور انصاری کے سر پر ماری اور اسے زخمی کردیا۔ وہ انصاری عبداللہ بن ابی کے پاس آیا جو منافقوں کا سردار تھا اور اسے بتایا یہ آدی بھی اس کے ساتھیوں میں سے تھا۔ عبداللہ بن ابی غضبناک ہوگیا۔ پھر اس نے کا : جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کے پاس چلے جائیں کھانے کے وقت یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ عبداللہ نے کہا، جب وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس سے چلے جائیں تو اس وقت حضرت محمد ﷺ کے پاس کھانا لے جائو تو آپ ﷺ خود اور آپ کے صحابہ کھائیں۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا : اگر تم مدینہ طیبہ کی طرف لوٹو تو عزت والا اس سے ذلیل کو ناکل دے۔ زید نے کہا، میں اپنے چچا کا ردیف تھا میں نے عبداللہ بن ابی کی بات کو سنا تو میں نے اپنے چچا کو اس بارے میں خبر دی میرا چچا گیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی، رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا بھیجا اس نے قسم اٹھائی اور اس بات کا انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور مجھے جھٹلایا۔ میرا چچا میرے پاس آیا اور کہا، میں نے یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تجھ سے ناراض ہوں اور رسول اللہ ﷺ اور منفاق تجھے جھٹلائیں۔ کہا : مجھ پر ان کی جرأت ایسی واقع ہوئی جیسی کسی پر واقع نہیں ہوئی تھی۔ اسی اثناء میں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا میں نے غم کی وجہ سے سر جھکایا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے میرے کان کو ملا اور میرے ساتھ مسکرائے، اگر اس کے بدلے میرے لئے تمام دنیا ہوتی تو مجھے وہ چیز خوش نہ کرتی پھر حضرت ابوبکر صدیق مجھے آ ملے۔ پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے تجھے کیا فرمایا ؟ میں نے عرض کی : مجھے تو کچھ نہیں فرمایا، صرف آپ ﷺ نے میرے کان کو ملا اور میرے سامنے مسکرائے۔ فرمایا، تجھے بشارت ہو۔ پھر حضرت عمر مجھے ملے۔ میں نے آپ کو اسی طرح کی بات کی جو میں نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہی تھی۔ جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ نے سورة منافقین پڑی۔ ابو یحییٰ نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح یہ۔ حضرت حذیفہ سے منافق کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : جو اسلام کا صوف بیان کرے اور اس پر عمل نہ کرے۔ وہ آج کے روز ان سے زیادہ شر یر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے کیونکہ ان دنوں وہ نفاق چھپایا کرتے تھے آج وہ ظاہر کرتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” منافق کی تین علامات ہیں۔ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو اسے توڑتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “ (1) حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا :” چار چیزیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے ان میں سے ایک جس میں ہو اس میں نفاق کی خصلت ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکیھ جائے تو وہ خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے توڑے اور جب وہ جھگڑا کرے تو گالی گلوچ نکالے۔ “ (2) نبی کریم ﷺ نے خبر دی کہ جو ان خصائل کو مع کرے تو وہ منافق ہے اور آپ ﷺ کی خبر سچی ہے۔ حضتر حسن بصری کے بارے میں مروی ہے کہ ان کے سامنے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا، بنی یعقوب نے بات کی تو جھوٹ بولا، وعدہ کیا تو اسے توڑا، ان کے پاس امانت رکیھ گی تو انہوں نے خیانت کی۔ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد خبردار کرنے کے طریقہ پر ہے اور ڈرانے کے انداز میں ہے کہ کہیں وہ ان خصلتوں کے عادی ہی نہ بن جائیں اس خوف کی وجہ سے کہ یہ خصلتیں انہیں نفاق کی طرف لے جائیں گی۔ اس کا یہ معنی نہیں جن سے یہ امور جلدی کی وجہ سے اختیار اور عادت کے بغیر واقع ہوں وہ منافق ہیں۔ اس بارے میں گفتگو مفصل سورة براۃ میں گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مومن جب گفتگو کرتا ہے، سچ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکیھ جاتی ہے تو پوری پوری واپس کرتا ہے۔ ‘ معنی ہے کامل مومن جب گفتگو کرتا ہے تو سچ بولتا ہے۔ قالوانشھدانک لرسول اللہ ایک قول یہ کیا گیا ہے (3) نشھد کا معنی ہے ہم قسم اٹھاتے ہیں۔ حلف کو شہادت سے تعبیر کیا کیونکہ قسم اور شہادت غائب امر کو ثابتک رتے ہیں، اسی معنی میں قیس بن ذریح کا قول ہے۔ واشھد عند اللہ انی احب تھا فھذا لھا عندی فما عندھالیا (4) میں اللہ تعالیٰ کے ہاں قسم اٹھاتا ہوں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں یہ میرے ہاں اس کے لئے ہے اس کے ہاں میرے لئے نہیں۔ یہ احتمال موجود ہے کہ یہ کلام ظاہر معنی پر محمول ہو وہ گواہی دیتے ہوں کہ محمد، رسول اللہ ﷺ ہیں وہ ایمان کا اعتراف کرتے ہوں اور اپنی ذاتوں سے نفاق کی نفی کرتے ہوں۔ یہ تعبیر زیادہ مناسب ہے۔ واللہ یعلم انک لرسولہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سج طرح انہوں نے اپنی زبانوں سے کہا : واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اپنی زبانوں سے جو گواہی دی اور قسم اٹھائی ہے اس میں وہ جھوٹے ہیں۔ فراء نے کہا، معنی ہے اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ وہ اندر سے جھوٹے ہیں جھٹلانا یہ ان کے ضمائر کی طرف لوٹے گا۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان سے مراد تصدیق قلبی ہے اور حقیقی کلام دل کی کلام ہوا کرتی ہے۔ جو آدمی کوئی بات کرے اور اس کے برعکس کا اعتقاد رکھے تو وہ جھوٹا ہے۔ سورة بقرہ کے شروع میں یہ بات گزر چکی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قسموں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویحلفون باللہ انھم المنکم وماھم منکم (التوبۃ : 56 )