تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 2
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿2﴾
- اِتَّخَذُوْٓاانہوں نے بنا لیا
- اَيْمَانَهُمْاپنی قسموں کو
- جُنَّةًڈھال
- فَصَدُّوْاتو انہوں نے روکا
- عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کے راستے سے
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- سَآءَکتنا برا ہے
- مَا كَانُوْاجو کچھ وہ ہیں
- يَعْمَلُوْنَوہ کررہے
Translation · Al-Qurtubi
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں تین مسائل ہیں۔
اتخذوآ ایمانھم جنۃ، جنۃ کا معنی پر وہ ہے (1) یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، نشھد انک لرسولہ اللہ کی طرف راجع نہیں یہ آیت کے سبب کی طرف راجع ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس طرح امام بخاری اور امام ترمذی نے ابن ابی کے بارے میں روایت نقل کی ہے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ اس نے یہ بات نہیں کی حالانکہ اس نے یہ بات کہی تھی۔ ضحاک نے کہا، اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھایت ھی کہ وہ تمہیں میں سے ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ان کی ایمان سے مرادوہ ہے جو ان کے رب نے ان کے بارے میں سورة براۃ آیت 74 میں خبر دیا رشاد باری تعالیٰ ہے : یحلفون باللہ ماقلوا۔
مسئلہ نمبر 2۔ جس نے کہا : اقسم باللہ اشھد باللہ اعزم باللہ احلف باللہ، اقسمت باللہ اشھدت باللہ۔ اعزت باللہ، احلف باللہ۔ سب میں فرمایا : باللہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ قسم ہے۔ اس طرح امام مالک اور آپ کے اصحاب کا نقطہ نظر ہے۔ اگر کوئی کہے : اقسم، اشھد، اعزم، احلف اور بالہل کے الفاظ نہ کہے اگر وہ ارادہ کرے تو قسم ہوگی اگر وہ باللہ کا ارادہ نہ کرے تو یہ قسم نہ ہوگی۔ ال کیا نے امام شافعی سے بیان کیا ہے امام شافعی نے کہا جب ایک آدمی نے کہا اشھد باللہ اور قسم کی نیت کی تو وہ قسم ہی ہوگی (2) امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے کہا، اگر اس نے کہا اشھد باللہ لقد کان کذا تو وہ قسم ہوگی (3) اگر اس نے کہا، اشھد لقد کان کذانیت نہ کی تو اس آیت کی وجہ سے وہ قسم ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شہادت کا ذکر کیا پھر فرمایا : اتخذوا ایمانھم جنۃ امام شافعی کے نزدیک وہق سم نہ ہوگیا گرچہ وہق سم کی نیت کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، اتخذوآ ایمانھم جنۃ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان قالوا انشھد کی طرف نہیں لوٹ رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : یحلفون باللہ ماقالوا جو سورة براۃ میں ہے کی طرف لوٹ رہا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ فصدواعن سبیل اللہ انہوں نے اعراض کیا۔ یہ صدود سے مشتق ہے یا ممونین کو پھیر دیا کہ وہ منافقوں پر اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ کریں جیسے قتل کرنا، قیدی بنانا اور مال چھین لینا۔ یہ صد سے مشتق ہے یا انہوں نے لوگوں کو جہاد سے روکا وہ پیچھے رہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی اقتدار کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے یہودیوں اور مشرکوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا کہ انہوں نے کہا، لو ہم کافر ہیں اگر محمد ﷺ نبی برحق ہوتے تو ہم سے اس نفاق و پہچانتے ہوتے اور ہمیں عبرت کا نشان بناتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا کہ ان کا حال مخفی نہیں لیکن اس کا حکم یہ ہے جو ایمان کو ظاہر کرے تو ظاہر میں اس پر ایمان کا حکم جاری کیا جائے گا۔
انھم سآء ماکانوا یعملون۔ ان کے اعمال خبیشہ کتنے ہی برے ہیں، ان کا نفاق، ان کی جھوٹی قسمیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنا۔