تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 10
وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿10﴾
- وَاَنْفِقُوْااور خرچ کرو
- مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْاس میں سے جو رزق دیا ہم نے تم کو
- مِّنْسے
- قَبْلِاس (سے) پہلے
- اَنْ يَّاْتِيَکہ آجائے
- اَحَدَكُمُ الْمَوْتُتم میں سے کسی ایک کو موت
- فَيَقُوْلَ رَبِّتو کہے، اے میرے رب
- لَوْلَآکیوں نہ
- اَخَّرْتَنِيْٓتو نے ڈھیل دی مجھ کو
- اِلٰٓى اَجَلٍایک وقت تک
- قَرِيْبٍقریب کے
- فَاَصَّدَّقَتو میں صدقہ کرتا۔ خیرات دیتا
- وَاَكُنْ مِّنَاور میں ہوجاتا ، سے
- الصّٰلِحِيْنَنیکیوں میں (سے)
Translation · Al-Qurtubi
اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟
Tafseer · Al-Qurtubi
مسئلہ نمبر 1 وانفقوا من مارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت یہ آیت جلدی زکواۃ کی ……وجوب پر دلالت کرتی ہے اس کو موخر کرنا اصلاً جائز نہیں اسی طرح باقی عبادات جن کا وق معین ہو۔
مسئلہ نمبر 2 فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاضدق واکن من اصلحین :۔ اس نے دنیا کی طرف لوٹنے کا سوال کیا تاکہ عمل صالح کرے۔ امام ترمذی نے ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں۔ فرمایا : جس کے پاس اتنا ملا تھا جس کے ساتھ وہ حج بیت اللہ کرسکتا تھا یا اس میں زکوۃ وجب ہوتی تھی اس نے ایسے نہ کیا وہ موت کے وقت رجوع کا سوال کرتا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی : اے ابن عباس ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ یہ لوٹنے کا سوال تو کفار نے کیا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، میں تم پر قرآن کی تلاوت کرتا ہوں اور آیت نمبر 9، 10 کی تلاوت کی۔ پوچھا : زکوۃ کو کیا چیز واجب کرتی ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا : جب مال دو سو درہم تک پہنچ جائے۔ پوچھا۔ حج کو کیا چیز واجب کرتی ہے ؟ آپ نے جواب دیا : زادرہ اور سواری (1) ۔
میں کہتا ہوں : حلیمی ابوعبداللہ حسین بن حسن نے کتاب ” منہاج الدین “ میں موضوع روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس کے پاس مال ہو (2) ‘ یہ حدیث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا : حضرت ابن عباس نے آیت کے عموم سے واجب کے اتفاق کا استدلال کیا ہے نقل مراد نہیں لیا (3) جہاں تک زکوۃ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرنے کا تعلق ہے تو یہ عموم کے اعتبار سے اور دو سو کی تقدیر کے ساتھ صحیح ہے جہاں تک حج کے قول کا تعلق ہے تو اس میں اشکال ہے کیونکہ اگر ہم یہ کہیں حج کو موخر کرنا یہاں تک کہ حج کی ادائیئگی سے قبل موت واقع ہوجائے تو اس کے معصیت ہونے میں علماء میں اختلاف ہے اسے آیت کا مصداق نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر ہم کہیں : حج فوری طور پر ادا کرنا ضرویر ہے تو آپ کو عمومی معنی میں رکھنا صحیح ہے کیونکہ جس پر حج واجب ہو اور اس نے حج ادا نہ کیا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت پسند کرے گا کہ وہ لوٹے گا کہ عبادات میں سے جو اس نے ترک کیا ہے۔ اس کو بجا لائے۔ جہاں تک زاد راہ اور راحلہ کے مقدر ماننے کا تعلق ہے تو اس میں علماء میں اختلاف مشہور و معروف ہے۔ حضرت ابن عباس کے کلام کا کوئی عمل عمل دخل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوٹنے کی خواہش اور وعیدان مسائل میں کوئی عمل دخل نہیں رکتھی جن میں اجتہاد کی گنجائش ہو اور نہ ان میں کوئی عمل دخل ہوتا ہے جن میں اختلاف ہو جن مسائل میں اتفاق ہوتا ہے ان میں اس کا عمل دخل ہوتا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ یہ واجب نفقہ کو شامل ہوتا ہے کہ اسے کیسے خرچ کیا جائے یہ اجماع سے ثابتہ و یا نص قرآنی سے ثابت ہو کیونکہ واجب نفقہ کے علاوہ میں وعید ثابت نہیں ہوتی۔
مسئلہ نمبر 4۔ لولا یہ ھلا کے معنی میں ہے تو یہ استفہام ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : لا زائدہ ہے تو کلام تمنی کے معنی میں ہوگی۔ فاصدق یہ تمنی کے جواب کے طور پر منصوب ہے اور اس سے پہلے فاء آیا ہے۔ واکون اس کا عطف فاصدق پر ہے، یہ ابوعمرو، ابن محیصن اور مجاہد کی قرأت ہے۔ باقی قراء نے واکن کو مجزوم پڑھا ہے اس کا عطف فاء کے محل پر ہے کیونکہ فاصدق مجزوم ہوتا اگر یہاں فاء نہ ہوتی۔ اس کی مثال من یضل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم (الاعراف : 186) ہے۔ یہ تعبیر اس صورت میں ہوتی جب یذرھم کو جزم دی جائے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت اہل توحید کیلئے سب سے سخت ہے کیونکہ کوئی بھی اسا فرد جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں خیر ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنے اور اس میں تاخیر کی آرزو نہیں کرتا۔
میں کہتا ہوں : شہید کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ واپس دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا یہاں تک کہ اسے پھر شہید کیا جائے۔ وجہ اس کی وہ ہوگی جو وہ کرامت دیکھے گا۔ واللہ خبیر بما تعملون۔ تم جو بھلائی اور برائی میں سے جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ عام قرأت فاء کے ساتھ خطاب کے طریقہ پر ہے۔ ابوبکر نے عاصم سے اور سلمیٰ نے یاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ اس صورت میں یہ اس کے بارے میں خبر ہے جو مرگیا ہے اور اس نے یہ قول کیا۔