تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 9
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿9﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْالوگو ! جو ایمان لائے ہو
- لَا تُلْهِكُمْنہ غافل کریں تم کو
- اَمْوَالُكُمْمال تمہارے
- وَلَآ اَوْلَادُكُمْاور نہ اولاد تمہاری
- عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِاللہ کے ذکر سے
- وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَاور جو کوئی ایسا کرے گا
- فَاُولٰٓئِكَتو یہی لوگ
- هُمُ الْخٰسِرُوْنَوہ ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
Tafseer · Al-Qurtubi
مومنوں کو منافقین کے اخلاق سے خبر دار کیا یعنی اپنے اموال میں ہی مگن نہ رہو جس طرح منافقوں نے کیا جب انہوں نحے مال میں بخل کی وجہ سے کہا، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر مال خرچ نہ کرو۔ عن ذکر اللہ ذکر سے مراد حج اور زکوۃ ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد قرآن کی قرأت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دائمی ذکر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، پانچ نمازیں ہیں، یہ ضحاک کا قول ہے حضرت حسن بصری نے کہا، مراد تمام فرئاض ہیں گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منافقوں کو خطاب ہے یعنی تم زبان سے ایمان لاتے ہو تم دل سے بھی ایمان لائو۔
ومن یفعل ذلک فائولئک ھم الخسرون۔ یعنی جو اپنے رب کی اطاعت کی بجائے مال اور اولاد میں مشغول ہو اور وہ خسارے میں ہے۔