تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 4

  1. وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿4﴾

    1. وَاِذَاپھر جب
    2. رَاَيْتَهُمْتم دیکھو ان کو
    3. تُعْجِبُكَاچھے لگیں گے تم کو
    4. اَجْسَامُهُمْان کے جسم
    5. وَاِنْ يَّقُوْلُوْااور اگر وہ بات کریں
    6. تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْتم سنتے جاؤ ان کی بات کو
    7. كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
    8. خُشُبٌلکڑیاں ہیں
    9. مُّسَنَّدَةٌتختہ لگائی ہوئیں
    10. يَحْسَبُوْنَوہ سمجھتے ہیں
    11. كُلَّ صَيْحَةٍہر سخت آواز کو
    12. عَلَيْهِمْاپنے اوپر
    13. هُمُوہ
    14. الْعَدُوُّدشمن ہیں
    15. فَاحْذَرْهُمْپس ڈرو ان سے۔ بچو ان سے
    16. قٰتَلَهُمُ اللّٰهُغارت کرے ان کو اللہ
    17. اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَکہاں سے وہ پھرے جاتے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔
Tafseer · Al-Qurtubi
واذا رایتھم تعجبک اجسامنھم ان کی ہیتیں اور ان کے مناظر آپ کو خوش کریں گے۔ و ان یقولوا تسمع لقولیم مراد عبداللہ بن ابی ہے یعنی آپ اس کی بات غور سے سنتے ہیں۔ حضتر ابن عباس نے فرمایا : عبدلالہ بن ابی خبوصورت جسم، صحت مند، روشن چہرے والا اور عمدہ گفتگو کرنے والا تھا (1) جب وہ گفتگو کرتا تو نبی کریم ﷺ اس کی گفتگو توجہ سے سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت کاملص ورت اور اچھی گفتگو سے کی ہے۔ کلبی نے کہا، مراد ابن ابی، جد بن قیس اور معتب بن قشیر ہے۔ سب بڑے جسیم، خوبصورت اور فصیح گفتگو کرنے والے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان کا نھم خشب مسندۃ کی تفسیریوں ہے، وہ سب خوبصورت لوگ تھے گویا ایسی لکڑیاں ہوں جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہو۔ انہیں ایسی لکڑیوں کے ساتھ تشبیہ دی گی ہے جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کیا گیا ہو جو نہ بات توجہ سے سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایسے جسم ہیں جن میں روحیں نہیں اور ایسے جسم ہیں جن میں قعل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی لکڑیوں سے تشبیہ دی ہے جسے دیمک نے کھالیا ہو اور وہ کسی سہارے کھڑی ہوں۔ ان میں کیا ہے کوئی پتہ نہ ہوڈ قنبل، ابو عمرو اور کسائی نے خشب شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، یہ حضرت براء بن عازب کی قرأت ہے۔ ابوعبید نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ اس کا واحد خشبہ ہے جس طرح تو کہتا ہے، بدنہ بدن لغت میں فعلہ کی جمع فعل کے وزن پر نہیں آتی۔ اس کے تقل سے یہ لازم آتا ہے کہ توالبدن پڑھے۔ یزیدی نے ذکر کیا ہے کہ یہ خشباء کی جمع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وحدآئق غلباً ۔ (عبس) اس کا واحد حدیقۃ غلباء ہے۔ باقی قراء نے تشقیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بزئی کی ابن کثیر سے اور عیاش کی ابو عمرو سے روایت ہے۔ اکثر روایات عاصم سے ہیں۔ ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے گویا یہ خشاب اور خشب کی جمع ہے جس طرح ثموۃ ثمار اور ثمر ہے اگر تو چاہغے تو خشبہ کی جمع خشب بنا لے۔ سیبویہ نے کہا، خشبہ کی جمع خشب ہے جس طرح بدنہ کی جمع بدن ہے اسی کی مثل ہاء کے بغیر ہے۔ خشبہ کی جمع خشاب اور اس کی جمع خشب ہے جس طرح ثموۃ کی جمع ثمار اور ثمار کی مع ثمر ہے اسناد کا معنی امالہ (جھکانا) ہے تو کہتا ہے، اسندت الشئی یعنی تو نے اسے جھ کیا ا۔ مستدۃ کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی انہوں نے اپنی جانوں کی حفاظت کی خاطر ایمان کا سہارا لیا۔ یحسبون کل صیحۃ علیھم ھم العدو صیحۃ سے پہلے اھل کا لفظ مخذوف ہے۔ ھم العدو مفعول ثاین کے محل میں ہے۔ اس شرط پر کہ کلمہ میں ضمیر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی صفت بزدلی اور ذلت سے بیان کرت ا ہے۔ مقاتل اور سدی نے کہا، جب کوئی لشکر میں ندا کرنے والا یہ ندا کرے کہ کوئی جانور چھوٹ گیا ہے یا کسی گمشدہ چیز کا اعلان کیا جائے تو وہ گمان کرتے ہیں کہ مراد وہی ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں رعب ہے جس طرح شاعر اخطل نے کہا : مازلت تحسب کل شئی بعدھم خیلا تکز علیھم ورجالا (1) ان کے بعد تو ہر شی کو گمان کرتا ہے کہ وہ گھڑ سوار ہیں یا پیدل جوان پر پے در پے حملہ کرتے ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ یحسبون کل صیحۃ علیھم ھم العدوا ایسی کلام ہے (2) جس کی ضمیر اس میں ہے جو مابعد کی محتاج نہیں، تقدیر کلام یہ ہے یحسبون کا صیحۃ علیھم انھم قدفطن بھم وعلم بنفقاتھم کیونکہ جہاں تک ہو خطرہ خوف ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے نئے سرے سے خطاب فرمایا : ھم العدو، یہ ضحاک کے قول کا معنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہر آواز کو گمان کرتے ہیں جسے وہ مسجد میں سنتے ہیں کہ وہ آواز انہی کے متعلق ہے اور نیب کریم ﷺ نے ان کے قتل کے بارے میں حکم دیا۔ وہ ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی ایسا امر نہ نازل فرما دے جو ان کے خونوں کو مباح کر دے اور ان کے پردوں کو چاک کر دے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے : فلو انھا عصفورۃ لحسب تھا مسومۃ تدعوا عبیدا وازنما (1) اگرچہ وہ چڑیا ہو میں اسے نمایاں سردار خیال کرتا ہوں جو غلاموں اور کمینے لوگوں کو بلائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ ان کی صفت بیان کی ھم العدوفا حذرھم سے عبدالرحمان بن ابی حاتم نے بیان کیا ہے فاخذرھم میں دو وجوہ ہیں (1) اس سے احت یاط کیجیے کہ تو ان کے قول پر اعتماد کرے اور ان کے کلام کی طرف مئال ہو۔ (2) وہ جو آپ ﷺ کے دشمنوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور آپ کے صحابہ کو چھوڑتے ہیں ان سے احتیاط کیجیے۔ قتلھم اللہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی، یہ حضرت ابن عباس اور ابو مالک کا قول ہے یہ ذم و توجیح کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، قاتلہ اللہ ما اشعرہ عرب اسے تعجب کی جگہ رکھتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا یا ہے۔ قتلھم اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے آدمی کے محل میں رکھا جس کے ساتھ جابر دشمن جنگ کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر معاند پر غالب ہے، ابن عیسیٰ نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ انی یوفکون۔ کیسے وہ جھوٹ بولتے ہیں یہ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے (2) قتادہ نے کہا، وہ حق سے کیسے اعرضا کرتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا، وہ ہدایت سے پھترے ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، دلائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کی عقلیں کیسے گمراہ ہوتی ہیں۔ یہ افت سے مشتق ہے جس کا معنی پھرنا ہے۔ الی یہ کیف کے معنی میں ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔