تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 5
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿5﴾
- وَاور
- اِذَا قِيْلَ لَهُمْجب ان سے کہا جاتا ہے
- تَعَالَوْاآؤ
- يَسْتَغْفِرْ لَكُمْبخشش مانگتے ہیں تمہارے لیے
- رَسُوْلُ اللّٰهِاللہ کے رسول
- لَوَّوْاموڑتے ہیں
- رُءُوْسَهُمْاپنے سروں کو
- وَرَاَيْتَهُمْاور تم دیکھتے ہو ان کو
- يَصُدُّوْنَوہ باز رہتے ہیں
- وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَاور وہ تکبر کرنے والے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ جب قرآن ان کی صفت کے بارے میں نازل ہوا ان کے قبیلہ کے لوگ ان کے پاس گئے انہوں نے کہا، تم نفاق کی وجہ سے ذلیل و رسوا ہوگئے۔ نفاق سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور یہ عرض کرو کہ وہ تمہاری بخشش فرمائے تو انہوں نے اپنے سروں کو جھٹک دیا یعنی انہوں نے استہزاء کے انداز میں اور انکار کرتے ہوئے اسے حرکت دی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر سبب میں عبداللہ بن ابی کا ایسا موقف تھا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی طاعت پر برانگیختہ کرتا۔ اسے کہا گیا، یہ چیز تجھے کیا نفع دے گی جبکہ رسول اللہ ﷺ تجھ پر ناراض ہیں۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو آپ تیرے لئے بخشش طلب کریں گے۔ اس نے انکار کردیا۔ اس نے کہا، میں آپ کے پاس نہیں جائوں گا۔ ان ایٓات کے نزول کا سبب یہ ہے کہ نیب کریم ﷺ نے بنی مصطلق کے ایک چشمہ پر جنگ کی جسے مریسیع کہتے جو قدیہ سے ساحل کی جانب تھا۔ حضرت عمر کے مزدور جسے جیجاہ کہتے کا عبداللہ بن ابی کے حلیف کے ساتھ جھگڑا ہوگیا جسے سنان کہتے ہیں جھگڑا ایک چشمہ پر ہوا جسے مثلل کہتے۔ جہجاہ نے مہاجرین کو بلایا اور سنان نے انصار کو بلایا۔ جہجاہ نے سنان کو تھپڑ مارا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا، کیا انہوں نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم ! ہماری اور ان کی مثال اس کی طرح ہے جس طرح پہلے نے کہا : اپنے کتے کو مٹوا کرو تاکہ وہ تجھے کھا جائے۔ اللہ کی قسمچ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا (عزت والے سے مراد اس نے اپنی ذات اور اذل سے مراد اس نے سرور دو عالم ﷺ کی ذات لی) پھر اپنی قوم سے کہا، اپنے ھکانے کو آپ سے روک لو جو آپ کے پاس ہیں ان پر کھانا خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں اور چھوڑ جائیں۔ حضرت زید بن ارقم نے کہا جبکہ وہ عبداللہ کے حمایتیوں میں سے تھا : اللہ کی قسم ! تو ذلیل ہے، اپنی قوم میں پست درجہ پر ہے اور حضرت محمد ﷺ رحمان کی جانب سے عزت سے سرفراز ہیں اور مسلمانوں کی جانب سے محبت سے سرفراز ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔ عبداللہ منافقف نے کہا، خاموش رہ، میں تو ویسے ہی بات کر رہا تھا۔ حضرت زید نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عضر کی تو عبدلالہ بن ابی نے قسم اٹھا دی نہ اس نے یہ عمل کیا اور نہ ہی یہ بات کہی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی معذرت قبول کرلی۔ حضرت زید نے کہا، مجھے بڑا دکھ ہوا اور لوگوں نے مجھے ملامت کی تو سورة منافقین حضرت زید کی تصدیق اور عبدلالہ کی تکیذب میں نازل ہوئی۔ عبداللہ بن ابی سے کہا گیا : تیرے بارے میں شدید ایٓات نازل ہوئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا کہ اپنے بارے میں بخشش کا طالب ہو۔ تو اس نے اپنا سر ہلا دیا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذی نے اسی معنی کی روایات نقل کی ہیں۔ سورت کے آغاز میں وہ گزر چکی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یستغفرلکم کا معنی ہے نفاق سے توبہ کی دعا کریں گے کیونکہ توبہ کا معنی بھی استغفار ہے۔
ورایتھم یصدون وھم مستکبرون۔ وہ رسول اللہ سے اعراض کرتے ہیں اور تکبر سے اعراض کرتے ہیں۔ نافع نے تخفیف کے ساتھ لووا پڑھا ہے باقی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے اسے ہی پسند کیا ہے۔ کہا : یہ جماعت کا فعل ہے۔ نحاس نے کہا، یہ درست نہیں کیونکہ یہ عبداللہ بن ابی کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب اسے کہا گیا : آئو ! تیرے لئے رسول اللہ مغرفت طلب کریں تو اس نے استہزاء کے طریقہ پر اپنا سر ہلا دیا۔ اگر یہ کہا جائے : جماعت کے فعل کے ساتھ اس کے بارے میں کیو خبر دی گی ؟ اسے کہا جائے گا : عرب اسی طرح کرتے ہیں جب وہ کسی انسان کے بارے میں میں کنایۃ بات کرتے ہیں۔
سیبوبہ نے حضرت حسان کا شعرپ ڑھا :
ظننتم بان یخفی الذی قد صنعتم وفینا رسول عندہ الوحی واضعہ
تو گمان کرتا ہے ہے کہ جو تو نے کہا ہے وہ مخفی رہے گا جبکہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول ہیں ان کے پاس وحی آتی ہے۔
حضرت حسان بن ثابت نے ابن ابیرق سے خطاب کیا جس نے مکہ مکرمہ میں چوری کی اس کا واقعہ مشہور ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ اس کے بارے میں خبر دی ہو اور جس نے اس جیسا فعل کیا ہو اس کے بارے میں خبر دی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ابن ابی نے اپنے سر کو ہلایا تو اس نے کہا، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایمان لائو تو میں ایمان لے آیا ہم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے مال کی زکوۃ دوں تو میں نے زکوۃ دے دی اور میرے لئے کوئی چیز باقی نہیں سوائے اس کے کہ محمد ﷺ کو سجدہ کروں۔