تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 6

  1. سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴿6﴾

    1. سَوَآءٌ عَلَيْهِمْبرابر ہے ان پر
    2. اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْخواہ تم بخشش مانگو ان کے لیے
    3. اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْیا نہ تم بخشش مانگو
    4. لَهُمْان کے لیے
    5. لَنْہرگز نہ
    6. يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْمعاف کرے گا اللہ ان کو
    7. اِنَّ اللّٰهَکیونکہ اللہ تعالیٰ
    8. لَا يَهْدِينہیں ہدایت دیتا
    9. الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَفاسق قوم کو
Translation · Al-Qurtubi
تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Tafseer · Al-Qurtubi
سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم یعنی یہ سب برابر ہے۔ آپ ﷺ کا استغفار کرنا کچھ نفع نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (البقرۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سوآء علینا اوعظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعرائ) ان اللہ لا یھدی ال قوم الفسقین۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود تھا کہ وہ فاسق ہی مرے گا۔ آیت ہم نے سبب نزول کا ذکر کیا۔ ابن ابی نے کہا، جو لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے بکھر جائیں گے (1) اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ زمین و آسمان کے خزانے اسی کے ہیں جیسے وہ چاہتا ہے، خرچ کرتا ہے۔ ایک آدمی نے حاتم اصم سے کہا، تو کہاں سے کھاتا ہے ؟ جواب دیا وللہ خآئن السموت والارض جنید بغدادی نے کہا، آسمانوں کے خزانے غیوب ہیں اور زمین کے خزانے دل ہیں وہی غیوب کو جاننے والا ہے اور دلوں کو پھیرنے والا ہے (2) شعبی کہا کرتے تھے : وللہ خزآئن السموت والارض (1) جب زمین و آسمان کے خزانے اللہ تعالیٰ کے ہیں تو تم کہاں جائوگے ؟ ولکن المنفقین لایفقھون۔ (2) منافق یہ نہیں سمجھتے جب وہ کسی امر کا ارادہ کرلے تو اسی آسان بنا دیتا ہے۔ جس طرح پہلے گزرا ہے یہ بات کرنے والا ابن ابی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب ابن ابی نے یہ کہا : لیخرجن الاعز منھا الاذل وہ مدینہ کی طرف لوٹا چند دن رہا تو مرگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے مغفرت طلب کی، اس کو اپنی قمیض پہنائی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لن یغفر اللہ لھم اس کی وضاحت سورة براءۃ میں مفصل گزر چکی ہے۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضتر عبدلالہ بن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ ابن سلول منافق سے کہا، اللہ کی قسمچ تو اس وقت تک مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک تو یہ نہ کہے : رسول اللہ ﷺ عزت والے ہیں اور میں سب سے ذلیل ہوں۔ ابن ابی نے یہ بات کہی (1) لوگوں کا وہم تھا کہ عزت اموال کی کثرت اور پیروکاروں کی کثرت سے ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بیان کردیا کہ عزت، شان و شوکت اور قوت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔