تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 15
كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ﴿15﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- اِنَّهَا لَظٰىبیشک وہ شعلے والی آگ ہے
Translation · Al-Qurtubi
(لیکن) ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
کلا کلا کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ یہ حقا کے معنی میں ہوتا ہے اور لا کیم عنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ دونوں امور کا احتمال رکھتا ہے۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہے تو کلام ینجیہ پر مکمل ہوگی اور جب یہ لا کے منی میں ہے تو کلام اسی پر مکمل ہوگی، یعنی فدیہ دینا اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں دے گا، پھر فرمایا : انھالطی۔ یعنی یہ جہنم ہے جس کی آگ بھڑک رہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فانذرتکم ناراتالظی۔ (اللیل) لظی یہ تلظی سے مشتق ہے اور التظاء النار سے مراد آگ کا بھڑکنا ہے اور تلظیھا سے مراد بھی اس کا بھڑکنا ہے۔ اس کی اصل لفظ ہے یعنی عذبا کے دائمی ہنے کی وجہ سے دائمی ہوگی اس کی ایک ظاء کو یاء سے بدل دیا تو لطی باقی رہ گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہنم کے طقبقات میں سے یہ دوسرا گڑھا ہے۔ یہ اسم مونث معرفہ ہے، اسلئے یہ غیر منصرف ہوگا۔
نزاعۃ للشوی۔ ابو جعفر، شیبہ، نافع اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں اعمش، ابوعمرو، حمزہ اور کسائی نے نزاعۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے عاصم سے نزاعۃ کو مصنوب نقل کیا ہے جس نے اس لفظ کو رفع دیا ہے اس کے نزدیک اس کی پانچ وجوہ ہو سکتی ہیں۔ (1) لظی کو ان کی خبر بنایا جائے اور نزاعۃ سے پہلے ہی ضمیر مبتدا محذوف ہو۔ اس صورت میں لظی پر وقف مستحسن ہوگا۔ (2) لظفی اور نزاعۃ دونوں ان کی خبریں ہوں جس طرح تو کہتا ہے، انہ خلق مخاصم (3) نزاعۃ لظی کا بدل ہو اور لظی ان کی خبر ہو۔ (4) لظی ان کے اسم سے بدل ہو اور نزاعۃ ان کی خبر ہو۔ (5) انھا کی ضمیر ضمیر قصہ ہو لظی مبتدا ہو اور نزاعۃ مبتدا کی خبر ہو اور جملہ ان کی خبر ہو۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان القصہ والخبرلظی، نزاعۃ للشوی۔ جس نے نزاعۃ کو نصب دی اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ لظی پر وقف کرے اور نزاعۃ کو لظی سے الگ کر کے نصب دے کیونکہ یہ نکرہ ہے جو معرفہ کے ساتھ متصل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ حال موکدہ ہونے کی بنا پر منصوب ہو جس طرح فرمایا : وھو الحق مصدقاً (البقرہ : 91) یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس معنی کی بنا منصوب ہو انھا تتلظی نزاعۃ یعنی اس حال میں کہ وہ چمڑے کو ادھیڑنے والی ہے۔ اس میں عامل وہ معنی ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے وہ تلظی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال و اس بنا پر کہ یہ مکذبین کی حالت بیان کر رہا ہو جبکہ ان کے حال کی خبر دی گئی۔ یہ بھی جائز ہے کہ ماقبل سے قطع کرنے کے ساتھ اسے نصب دی گئی ہو جس طرح تو کہتا ہے : مررت بزید العاقل الفاضل نصب کی بھی یہ پانچ صورتیں ہیں۔ شوی یہ شواق کی کی جم ہے۔ اس سے مراد سر کی جلد ہے۔ اعشی نے کہا :
قالت قتیلۃ مالہ قد جللت شیباً شواتہ (1)
قتیلہ نے کہا، اسے کیا ہوگیا ہے اس کے سر کی چمڑی سفید بالوں کی وجہ سے معزز ہوگئی ہے۔
صحاح میں ہے : شوی یہ شواۃ کی جمع ہے جس کا معنی سر کی چمڑی ہے (2) شوی سے مراد انسانوں کے دونوں ہاتھ، دونوں پائوں اور سر ہیں اور ہر وہ عضو جس پر زخم لگنے سے قتل واقع نہ ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : رماہ فاشواہ اس نے اسے تیر مارا اور ایسی جگہ نہ لگا جو اس کو قتل کردیتا ہے۔ ہلذی نے کہا :
فان من القول التی لاشوی لھا
بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو خطا نہیں جاتیں بلکہ ٹاگرٹ پر جا لگتی ہیں اورق تل کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اعشی نے کہا :
قالت قتبلۃ مالہ قد جللت شیباً شواتہ (3)
ابوعبید نے کہا، ابو خطاب اخفش نے ابو عمرو بن علاء کے سامنے یہ شعر پڑھا تو ابو عمر نے اسے کہا، تو نے اس میں تصحیف کی ہے۔ یہ شواتہ کی جگہ سراقہ ہے۔ ابو خطاب خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے ہمیں کہا بلکہ اس نے اس میں تصحیف کی ہے۔ بیشک اصل میں شواتہ ہی ہے۔ شوی الفرس سے مراد اس کے پائوں ہیں کیونکہ یہ کہا جاتا ہے : عبل الشوی مضبوط پائوں والا۔ یہ لفظ سر کے لئے نہیں بولا جاتا کیونکہ انہوں نے گھوڑے کی صفت یوں بیان کی : اسالۃ الخدین وعتیق الوجہ اس سے مراد اس کی رقت ہے۔ شوی سے مراد ادنیٰ درجے کا مال ہے۔ شوی سے مراد ایسی شی ہے جو کم درجہ کی اور تھوڑی ہو۔ ثابت بنانی اور حضتر حسن بصری نے کہا نزاعۃ للشویٰ سے مراد ہے چہرے کی عزت والی جگہیں کو بھون دینے والی (4) ابوالعالیہ نے کہا : شوی سے مراد چہرے کے محاسن ہیں۔ قتادہ نے کہا : خلقت کے مکارم اور اس کی اطراف ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ گوشت اور جلد کو ہڈیوں سے الگ کر دے گی یہاں تک ان میں سے کوئی چیز نہ چھوڑے گی۔ کسائی نے کہا، اس سے مراد جوڑ ہیں۔ ایک امام نے کہا، اس سے مراد چاروں پائے اور چمڑا ہے۔
ابو صالح نے کہا، ہاتھوں اور پائوں کے اطراف (5) ۔ شاعر نے کہا :
اذا نظرث عرفت الفخر منھا وعینیھا ولم تعرف شواھا
جب تو دیکھے گا تو اس سے اور اس کی آنکھوں سے فخر پہچان لے گا اور تو اس کی اطراف کو نہیں پہچانے گا۔
حضرت حسن بصری نے کہا : شوی کا معنی کھو پڑی ہے۔ (1)