تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 17

  1. تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ﴿17﴾

    1. تَدْعُوْاپکارے گی
    2. مَنْ اَدْبَرَجس نے پیٹھ پھیری
    3. وَتَوَلّٰىاور منہ موڑا
Translation · Al-Qurtubi
ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا
Tafseer · Al-Qurtubi
تدعوا من ادبروتولی۔ دنیا میں جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی طاعت سے رو گردانی کی اور ایمان سے پھر لظی اسے اپنی طرف کھینچے گی۔ اس کا بلاتا یوں ہوگا، اے مشرک ! میری طرف آ۔ اے کافر ! میری طرف آ۔ حضر ابن عباس نے کہا : وہ فصیح زبان سے کافروں اور منفاقوں کو بلائے گی۔ اے کافر ! میرے طرف آ۔ ایم نافق میرے طرف آ۔ پھر وہ انہیں یوں اچک لے گی جس طرح پرندہ دانے کو اچک لیتا ہے۔ ثعلب نے کہا، قدعو کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ عرب کہتے ہیں : دعا ک اللہ اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے۔ خلیل نے کہا، یہ تعالوا کی طرح دعوت نہیں ہوگی بلکہ اس کی انہیں دعوت یہ ہوگی کہ وہ ان کو عذاب دینے پر قادر ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، داعی جہنم کے داور غے ہوں گے۔ ان کی دعوت کو جہنم کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ضرب المثل ہے یعنی جس نے پیٹھ پھیری اور اس سے روگردانی کی اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، گویا جہنم ان کو بلانے والی ہے (2) ، اسی کی مثل شاعر کا قول ہے : ولقد ھبطنا الودیین فواد باً یدعو الانیس بہ العضیض الا بکم ہم دو وادیوں میں اترے ان میں سے ایک وادی ایسی تھی کہ مکھی اس سے انس رکھنے والے کو دعوت دے رہی تھی۔ الخصیض الابکم سے مراد مکھی ہے، وہ دعوت نہیں دیتی اس کے پروں کی بھبھناہٹ نے اس پر آگاہ کیا اور اس کی طرف دعوت دی۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول حقیقت پر مبنی ہے جس کی وضاحت ایٓات قرآنیہ اور اخبار صحیحہ سے گزر چکی ہے۔ قشیری نے کہا : لظی کی دعوت اس طرح ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس میں زندگی پیدا کر دے گا جب و عورت دے گی قیامت کے روز خارق للعادۃ امور کا وقوع بہت زیادہ ہے۔