تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 19
اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾
- اِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
- خُلِقَپیدا کیا گیا
- هَلُوْعًابےصبرا۔ تھڑ دلا
Translation · Al-Qurtubi
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
ان الانسان خلق ھلوعا۔ یاں انسان سیم راد کافر ہے (و) یہ ضحاک سے مروی ہے۔ لغت میں ھدع سے مراد شدید حرص بری طرح جزع فزع اور فحش تریں اسلوب (4) اسی طرح قتادہ، مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے اس کا باب یوں چلتا ہے ھدع یھدع فھو ھلع وھلوع یہ کثرت کے معنی پر دال ہے اس کا معنی ہے وہ خیر و شر پر صبر کرتا یہاں تک دونوں صورتوں میں ایسا کام کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتا ۔ عکرمہ نے کہا، اس سے مراد اندرونگی تنگی اور غم ہے (1) ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔ منوع سے مراد وہ شخص ہے جو مال پائے تو اللہ تعالیٰ کا حق روک لے۔ ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا وہ اس چیز کو پسند کرتا ہو جو اسے خوش اور راضی کرے اور اس سے دور بھگاتا ہے جو اسے ناپسند ہو اور اس کو ناراض کرے (2) پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پابند کیا کہ جس چیز کو وہ پسند کرتا ہے اس کو خرچ کرے اور جس کو ناپسند کرتا ہے اس پر صبر کرے۔ ابوعبید نے کہا، ھلوع وہ شخص ہوتا ہے جب اسے خیر پہنچتی ہے تو وہ شکر بجا نہیں لاتا اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر نہیں کرتا، یہ ثعلب کا قول ہے۔ ثعلب نے یہ بھی کہا : اللہ تعالیٰ نے ھلوع کی تفسیر بیان یک ہے وہ وہ شخص ہے جب اسے شر پہنچتی ہے تو شدید جزع قزع کا اظہار کرتا ہے اور جب اسے بھلائی پہنچتی ہے تو وہ بخل سے کام لیتا ہے اور لوگوں سے اسے روک لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بندے کو جو عطا کیا گیا ہے ان میں سے سب سے برا ایسا بخل ہے جو بےقرار کرنے والا ہو اور ایسی بزدلی ہے جو دل نکالنے والی ہو۔ “ (3) عرب کہتے ہیں : ناقۃ ھلواعۃ وھلواع۔ جب وہ تیز رفتار ہو اور ہلکی ہو۔ شاعر نے کہا :
صکاء ذعلبۃ اذا استدبر تھا حرج اذا استقبل تھا ھلواع
صکاء یہ اونٹنی کا صوف نہیں بلکہ شتر مرغ کا صوف ہے اونٹنی کو شتر مرغ سے تشبیہ دی ذعلب اور ذعلبہ سے مراد تیز رفتار اونٹنی ہے، ھلواع بھی تیزر فتار اونٹنی کے لئے بولا گیا ہے۔
جزوعا اور منوعاً دونوں ھلوع کی صفت ہیں اس شرط پر کہ یہ دونوں اذا سے ارادہ میں مقدم ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے :
یہ کان مضمرہ کی خبر ہیں۔